انسانی جذبات نظر انداز کرنے والے عوامی نمائندے شوروغل سے ’دیہاڑی لگا کرچلے گئے

انسانی جذبات نظر انداز کرنے والے عوامی نمائندے شوروغل سے ’دیہاڑی لگا کرچلے ...
انسانی جذبات نظر انداز کرنے والے عوامی نمائندے شوروغل سے ’دیہاڑی لگا کرچلے گئے

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری( نوازطاہرسے) پنجاب اسمبلی میں آئندہ میں مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری ہے جس میں اپوزیشن کی جانب سے سیاہ پٹیاں باندھ کر انتہائی مہذب انداز کے احتجاج سے وزیرخزانہ کی تقریر سننے سے جو مہذب روایت ڈالی گئی تھی آج کے اجلاس میں اچانک ایک لفظ کے استعمال سے ’بلاسٹ ‘ کردی گئی جس کے نتیجے میں اجلاس ختم کرنا پڑ گیا ۔ بحث کے دوران پارلیمانی سیکرٹری عبدالرزاق ڈھہلوں نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے بارے میں سخت جملے استعمال کئے تو پیپلز پارٹی بڑھک اٹھی۔ طرفین میں نعروں کا مقابلہ شروع ہو گیا جس میں حکومتی اراکین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے حکمران جماعت شکست خوردہ نظر آئی تاہم شور ایوان سے باہر دالان میں پہنچا تو خوش گپیوں میںمصروف اراکین بھی ایوان میں پہنچ گئے اور ایوان کی روایتی رونق بڑھ گئی ۔ اس وقت سپیکر کی غیر موجودگی میں پنل آف چیئرمین کے رکن مہر اشتیاق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جو اراکین کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہ ہوئے حا لات کی کشیدگی دیکھ کر پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پا رلیمانی لیڈر شوکت بسراءنے اپنے ساتھیوں کو منت سماجت سے خاموش کرانے کی کوشش کی تو طویل عرصے بعد ایوان میں نظر آنے والے پیپلز پاٹی کے طاہر ہنڈلی اکڑ گئے ،انہوں نے نہ صرف ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کی منت ماننے سے انکار کردیا بلکہ ان کا ہاتھ شوکت بسراءکے گریبان تک جاپہنچا یہ عمل انہوں نے ایسی ہی کوشش کرنے والے ایک اور ساتھی کے ساتھ بھی دہرایا ۔ اس دوران شدید نعرے بازی کے بعد پیپلزپاٹی کے سید حسن مرتضیٰ اپنے مخصوص انداز سے مخالفین کو قدرے ٹھندا کر چکے تھے یہاں تک کو ماحول میں تلخی کا باعث بننے والے عبدالرزاق ڈھلوںمسکراتے بھی نظر آئے لیکن پیپلز پاٹی کے طاہر ہنڈلی کا اپنے ساتھیوں سے رویہ دیکھ کر حکومتی اراکین خاص طور پر خواتین کا نعرہ زن گروپ مزید"شیر"بن گیااوراس نے اپنی آواز مزید بلند کرلی جس سے ماحول پھر سے مکدر ہوگیا ۔اپوزیشن کی حلیف جماعت مسلم لیگ ق کی خواتین اراکین اس معاملے سے لا تعلق رہیں ۔مہر اشتیاق مسلسل آرڈر پلیز آرڈر پلیز کہتے رہے لیکن اس وقت ایوان میں اراکین کے شوروغل سے جس کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اسی طرح ’چیئر ‘ کی آرڈر پلیز، آرڈر پلیز کی آواز بھی دب کر رہ گئی تو شوکت بسراءنے سپیکر کی ڈائس پر آکر مہر اشتیاق سے مختصر مشاورت کی اور دوبارہ اراکین کو خاموش کرانے کی کوشش کی جس میں ناکامی پر کورم کی نشاندہی کردی گئی اور کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی روک دی گئی ، اس سے کچھ دیر ہی پہلے وزیراعلیٰ نے اسمبلی سیکرٹریٹ کا چکر لگایا تھا اور امید تھی کہ شائد کورم پورا ہوجائے لیکن کورم پورا کرنے کی حکومتی کوشش نظر نہ آئی جبکہ حکومتی اراکین اسمبلی کی عمارت سے ہی باہر چلے گئے ، اس طرح بجٹ پر بحث اس ہلے گُلے اور کورم کی نذر ہو گئی حالانکہ آج بحث کے دوران اپوزیشن رکن احمد حسن ڈیہڑ ، مخدوم ارتضیٰ اور حمیرا اویس شاہد کی تقریر کو اراکین نے دل کھول کر سراہا تھا یہاں تک کہ احمد حسن ڈہیڑ کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے انہیں بات کرنے کیلئے مزید وقت دینے کی سفارش بھی کی تھی اور ’ چیئر ‘کی جانب سے بھی تحسین پیش کی گئی تھی۔اراکین نے توجہ دلانے کے باجود جس طرح عظیم فنکار مہدی حسن کیلئے صرف دعائے مغفرت پر اکتفا کیا اور راولپنڈی کے بینظیر شہید ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے سے پانچ مریضوں کے دم توڑنے کے افسوسناک واقع کو ’ایزی ‘ لینے کا مظاہرہ کیا اس کے بعد ایوان کی شوروغل کی کارروائی پر کوئی افسوس کرتا نظر نہیں آیابلکہ پریس گیلری میں تبصرہ کیا جاتا رہا کہ بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے اپنے علاقوں کیلئے فنڈز ’خیراتی ‘ انداز میں مانگنے والوں کو پارلیمانی تکریم حاصل کرنے کا حق ہی نہیں ۔ وہ صرف خاص مقصد کیلئے آئے تھے جو شوروغل کرکے ایک دن کی اجرت ’حلال ‘ کرکے چلے گئے ۔

مزید :

لاہور -