نظام تعلیم کی تجدید کے لئے چند تجاویز

نظام تعلیم کی تجدید کے لئے چند تجاویز

  

امتحانا ت کا زور اپنے عروج پر ہے۔طلبہ و طالبات ایک طرف شدید گرمی کے باوجود اپنے امتحانات کی تیاری میں خلل سے پریشان ہیں تو دوسری طرف لوڈشیڈنگ کے عذاب نے ان معصوموں کا جینا محال کر رکھا ہے۔گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے طلبہ و طالبات امتحانات کی تیاری میں مگن نظرآتے ہیں اورامتحانات میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خوف میں مبتلا بھی ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے بورڈ حکام کی جانب سے کی جانے والی غفلت اور ان کے غیر ذمہ دارنہ رویوں سے طلبہ و طالبات سخت نالاں ہیں اور اس فرسودہ نظام تعلیم کے خلاف سراپہ احتجاج ہیں، جس میں غیر شفافیت نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ہر طالب علم کی خواہش ہے کہ وہ امتحانات میں محنت کرکے اچھے گریڈ میں پاس ہو سکے اور اچھا روزگار تلاش کر سکے،مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میںبرسوں سے وہی پرانی طرز کا ایجوکیشن سسٹم مروج ہے۔وہی پرانا امتحانات کا نظام جس سے طا لب علموں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

پوری دنیا میں طالب علموں کی صلاحیتوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ان میں موجود اہلیت کو اجاگر کیا جاتا ہے اور ان کی درست سمت میں راہنمائی کی جاتی ہے، جس سے طالب علم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و قوم کے لئے نئے راستے پیدا کرتا ہے۔ جس سے ٹیکنالوجی کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ مزید روزگار کے مواقع ملتے ہیں اور ملک ترقی کی راہوں پر رواں دواں ہوتا ہے۔ ملک میں طلبہ و طالبات کی محنت اور صلاحیتوں کو دیکھا جائے تو یہ گمان ہوتاہے کہ شاید اللہ پاک نے تمام باہنر اور باصلاحیت لوگ ہمارے ہی خطے میں پیدا فرمائے ہیں جو ان محدود وسائل کے ساتھ بھی اپنی محنت کے سبب چمک دمک رہے ہیں ۔ان کی اگر صحیح معنوں میں تربیت کی جائے تو یہ چمن بوئے گل سے مہک اٹھے ،مگر افسوس! اس فرسودہ نظام تعلیم کے ذریعے ہم اس چمن کے قدرتی حسن کو پامال کر رہے ہیں، جو ترقی کے سفر میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ایک اچھے تعلیمی نظام کے لئے ایک صحت مند طالب علم، ایک ہنرمند استاد، ایک جاندار نصاب اور ایک ایماندار امتحانی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔

صحت مند طالب علم:صحت مند طالب علم سے مراد ایسا طالب علم ہے جو اپنی تعلیم میں اپنی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے اور اپنی تمام تر دلچسپیوں کو تعلیم کی طرف مرکوز کر سکے۔ہمارے ہاں صحت مند طلبہ و طالبا ت کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہر شعبے کا تعلق طالب علموں میں موجود صلاحیتوں پر نہیں، بلکہ ان کے امتحانات کے نمبروں سے مشروط ہے۔ جس سے زیادہ تر طالبعلم اپنے پسندیدہ شعبے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جو طلبہ کے عزم کو ٹھیس پہنچانے کا پہلا قدم ہے۔مشہور مقولہ ہے کہ”شوق کا کوئی مول نہیں“۔یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنی دلچسپی میں تغیر کا اختیار نہیں رکھتا، اگر دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح ہم بھی اپنے طالب علموں کا رجحان اور قابلیت کا ادراک کر لیں تو میرا خیال ہے بہت سے ہنرمند لوگوں اور قابل لوگوں سے استفادہ کیا جاسکتاہے۔

ہنر مند استاد:ہنر مند استاد سے مراد ایسا استاد ہے جو طالبعلم کی صلاحیتوں کی جانچ پڑتال کر سکے اور اس میں نئے جوہر تلاش کر سکے ۔ہمیں اساتذہ کرام کے خلاف بل پاس کرنے کی بجائے طالبعلموں کو ان کی تعظیم کا درس دینے کی ضرورت ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ صوبائی سطح پر اساتذہ حضرات کے لئے ایسی تربیتی ورک شاپس کے انعقاد کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے نہ صرف انہیں نصاب اور تعلیم کے جدید ذرائع کے بارے میں بریفنگ دی جائے، بلکہ انہیں طالبعلموں کے ساتھ مثبت رویے کی بھی تلقین کی جائے اور ان میں موجو د اخلاقی اقداروں کو اجاگر کرنے کی بھی تربیت دی جائے ، کیونکہ ایک اچھا استادمعاشرے کے مستقبل کا ذمہ دار ہوتاہے اور میرا خیال ہے اسے اچھے اخلاق ، اعلیٰ اقدار کے ساتھ ساتھ بے مثال نفسیات کا بھی مالک ہونا چاہیے۔

 جاندار نصاب:جاند ملک میں ایک سرکاری نصاب کا تعین کیا جائے جو ہر صوبے میں یکساں طور پر پڑھایا جائے ،تاکہ تعلیم میں تفریق کو ختم کیا جاسکے۔اس نصاب کا انتخاب وفاق کرے اور صوبائی سطحوں پر اس میں ترامیم پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اس کے لئے ملک میں وفاقی سطح پر ایک نصاب کمیٹی بنانی چاہیے جو تمام صوبوں کے قابل پروفیسروں اور اساتذہ حضرات پر مشتمل ہو اور ملکی حالات کے پیش نظر مناسب اور جامع نصاب تجویز کرے،جس پر صوبائی حکومتیں عمل درآمد کا پورا حق رکھتی ہوں۔اس کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی مجلس شوریٰ ہونی چاہیے جو وفاق کی نصاب کی جانچ پڑتال میں معاونت کرسکے۔

ایماندار امتحانی نظام: ایک ایماندار امتحانی نظام سے مراد ایسا امتحانی نظام ہے جس پر پورا ملک متفق ہو اور اپنے اندر غیر جانبداری رکھتا ہو، تاکہ امتحانات کی اس قسم کی نا مناسب چیکنگ سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکے، جس نے ان خستہ حال طلبہ و طالبات کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔بچے امتحانات کی تیاری کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں اور جان مار کر تیاری کرتے ہیں، مگر یہ عذاب مقہور اس وقت نازل ہوتا ہے جب ان کے امتحانات کانتیجہ انہیں دست یاب ہوتا ہے۔یہ صرف چند لوگوں کا گروہ ہے جو ایک مافیا کی طرح کام کرتا ہے اور چند روپوں کے لالچ کے عوض بچو ں کا مستقبل داﺅ پر لگادیتا ہے، جس کا گہرا اثر بچوں کے کردار اور ان کی نفسیات پر پڑتاہے اور وہ اپنی محنت کے مطابق رزلٹ نہ پا کر بدظن ہوجاتے ہیںاور معاشرے کے خلاف نہ صرف علم بغاوت بلند کرتے ہیں،بلکہ معاشرے کی منفی اقدار کی دست گاہ بن جاتے ہیں۔ اس کے مناسب حل کے لئے امتحانات کا شعبہ بھی سرکاری طور پر وفاقی حکومت کے ساتھ ہونا چاہیے جو ایک ہی وقت میں پورے ملک میںامتحانات کا انعقاد کروا سکے اور آئے دن پیپر آﺅٹ ہونے کے عذاب سے گلوخلاصی ہوسکے اور صرف انعقاد ہی نہ کروا سکے، بلکہ ان کی شفاف اور ذمہ دارانہ چیکنگ کا بھی بندوبست کرواسکے۔ تعلیمی نظام کی یکسانیت سے اس نظام میں مزید شفافیت آئے گی ۔ اور حقدار طلبہ و طالبات کو ان کا حق مل سکے گا،جس سے طالبعلموں میں تعلیم کا رجحان فروغ پائے گااور عوام کو ان بورڈ مافیہ سے خلاصی مل سکے ،جو چند ٹکوں کے عوض یا با اختیار لوگوں کے دست شفقت پر معصوم بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلتی ہے اور غیر ذمہ دارنہ اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

مختصر تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق اور حکومت کا اولین فرض ہے۔حکومت کو تعلیمی لحاظ سے ایسی جدوجہد کرنا ہو گی، جس سے ملک میں تعلیم کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکے اور اس فرسودہ نظام تعلیم کی تجدید نو کی جائے ،تاکہ ہر طالب علم کو اس کا منا سب حق مل سکے اور جو غریب لوگ ہیں وہ بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر اپنے لئے روزگار کی راہیں ہموار کر سکیں۔ ٭

مزید :

کالم -