مودی سرکار کے خود کش عزائم

مودی سرکار کے خود کش عزائم
 مودی سرکار کے خود کش عزائم

  

گزشتہ سال جون میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھارت کی مودی سرکار پاکستان کے خلاف اعلانیہ اور غیر اعلانیہ محاذ کھولے ہوئے ہے۔ نریندر مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ گزشتہ سال ضمنی انتخاب کے سلسلہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ جب پاکستان پر ہزاروں گولے برسیں گے تو اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ اس ہرزہ سرائی کے فوری بعد بھارت کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا اور بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں مارٹر گولے پاکستانی سرزمین پر برسائے گئے، جس کے نتیجہ میں اب تک درجنوں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی یہ خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔ گجرات میں 2000 مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے نریندر مودی کی پاکستان اور اسلام دشمنی کوئی نئی بات نہیں،لیکن مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھی اپنی اوقات دکھانے لگی ہیں۔

بھارتی فوج کی میانمار میں معمولی سی کارروائی کو وزیر مملکت اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے پاکستان کے لئے پیغام قرار دے دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ بھارت پاکستان کے اندر بھی اس طرح کی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس بیان کو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے سنجیدگی سے لیا اور بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان کو کھلم کھلا جنگ کی دھمکی دینے کے بعد دونوں ممالک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ’’کیا واقعی بھارت پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کر سکتا ہے، کیا پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد یہ ممکن ہے؟‘‘ بھارتی میڈیا جو کہ ہمہ وقت پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کے لئے مشہور ہے اور جس کا کاروبار ہی پاکستان مخالف جذبات ابھارنے سے چلتا ہے، وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ بھارت خطے کی ایک بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان کے خلاف کسی بھی عملی جارحیت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارتی تجزیہ نگار حتی کہ بھارت کے سابقہ فوجی جرنیل بھی بھارت کے حالیہ جارحانہ رویہ کو نامناسب اور مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں۔ سابق بھارتی جنرل (ریٹائرڈ) اشوک مہتا نے ایک پاکستانی نجی چینل سے بات چیت کر ہوئے مودی سرکار کی حالیہ ہرزہ سرائی کو انتہائی بے ہودہ قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ مودی سرکار کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیوں میں ان کے شدید مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دُنیا ترقی کر رہی ہے، جبکہ بھارت نے جنگوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔

ایک دن پہلے بھارتی میڈیا میں ان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کو پاک چین معاہدے سے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ ترقی کرنا پاکستان سمیت ہر ملک کا حق ہے۔ موجودہ بھارتی فوجی سربراہ نے بھی میانمر کی طرز پر پاکستان کے اندر ایسی جارحیت کو ناقابلِ عمل قرار دیا ہے، لیکن شاید بھارتی ہندو انتہا پسند سیاست دانوں کے دماغ ٹھکانے پر نہیں ہیں۔ ایک بھارتی نجی ٹی وی پروگرام میں ایک تجزیہ نگار نے مودی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اگر بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے میزائلوں اور ایٹم بموں کی برسات کر دی تو کیا مودی حکومت اس کے لئے تیار ہے؟ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان مخالف جارحیت میں بھارت کے دفاعی تجزیہ نگار بھی مودی سرکار کے ساتھ نہیں ہیں۔نئی دہلی میں اعلیٰ بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کی ایک میٹنگ ہوئی ہے جس میں میانمر کی طرز پر پاکستان کے اندر کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کے درمیان یہ ایک غیر معمولی ملاقات تھی، جس میں بھارتی فوج کے سینئر افسران سمیت خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے اندر میانمر طرز پر سرجیکل سٹرائیک کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔

بھارت کی دھمکیوں کے پیشِ نظر اب ذرا پاکستان اور بھارت کی عسکری طاقت کا سرسری جائزہ لیتے ہیں۔ افرادی قوت کے اعتبار سے بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور دفاعی ادارے بھارت کو چین اور امریکہ کے بعد تیسری بڑی فوجی طاقت گردانتے ہیں، جبکہ اسی فہرت میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ اسلحہ اور جنگی سازو سامان کے اعتبار سے بھارت کو اس وقت امریکہ، روس اور چین کے بعد چوتھی بڑی طاقت مانا جاتا ہے، جبکہ اس فہرست میں پاکستان کا نمبرپندرھواں ہے۔ سب سے اہم بات دونوں ممالک کا ایٹمی توازن ہے۔ ایٹمی طاقت میں پاکستان کو بھارت پر فوقیت حاصل ہے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت 80 سے 100 کے درمیان ایٹمی ہتھیار ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس یہ تعداد 90 سے 110 کے درمیان ہے۔ بھارت کے پاس اگنی اور پرتھوی سیریز کے میزائل ہیں، جن کی انتہائی رینج بھارتی دعووں کے مطابق 7000 کلومیٹر ہے۔ پاکستان کے پاس حتف،نصر، شاہین اور غوری سیریز کے تباہ کن بین البراعظمی ایٹمی میزائل ہیں اور انتہائی رینج 4000 کلومیٹر ہے۔ دُنیا پاکستان کے میزائل سسٹم اور ایٹمی طاقت کو بھارت سے بہتر گردانتی ہے۔ بھارت کے کئی میزائل تجربات ناکام ہو چکے ہیں، لیکن پاکستان نے اپنے اہداف انتہائی کامیابی سے حاصل کئے ہیں۔پیشہ ورانہ معیار کے لحاظ سے پاکستانی افواج کو دنیا کی بہترین فوج تصور کیا جاتا ہے اور اس بات کا عملی ثبوت ہم نے آپریشن ضربِ عضب میں دے دیا ہے۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی ہے۔

اگرچہ بھارت رقبہ کے اعتبار سے پاکستان سے چارگنا بڑا ہے اور بھارت کی معیشت بھی پاکستان سے بہت بڑی ہے، لیکن درج بالا جائزہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا عسکری تناسب 2:1 ہے۔ بعض شعبوں میں بھارت نے پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 40 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ صرف 7 ارب ڈالر ہے، لیکن اس سب کے باوجود پاکستان کی دفاعی و عسکری طاقت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ حالات 1965ء اور 1971ء والے نہیں ہیں اور نہ ہی پاکستان میانمر،افغانستان یا نیپال ہے۔ کوئی بھی بیرونی طاقت پاکستان کے ساتھ صرف خودکشی کے ارادے سے ہی چھیڑ خانی کر سکتی ہے۔ اس وقت بھارت کا کوئی بھی کونہ پاکستان کے ایٹمی میزائلوں سے محفوظ نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کے ثبوت موجود ہیں۔ انٹرنیشنل لاء کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کے اندر مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ بلا خوف و خطر اقوامِ متحدہ میں بھارتی جارحیت کے ثبوت مہیا کر ے۔ مودی کے اعترافی بیان کے بعدپاکستان کو 1971 ء میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے اندرانی معاملات میں مداخلت کرکے دو لخت کرنے کا معاملہ بھی اقوامِ متحدہ میں اٹھانا چاہئے۔ پاکستان کو بھارتی جارحیت کے جواب میں واضح پیغام دینا چاہیے کہ کسی بھی جارحیت کے جواب میں ہم اپنے سب سے بڑے ہتھیار سب سے پہلے استعمال کریں گے۔

مزید : کالم