امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (آخری قسط)

امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (آخری قسط)
 امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (آخری قسط)

  

امن و امان کے لئے ساز گار فضا قائم کرنا اگرچہ آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، لیکن وفاقی حکومت اس سے بالکل لاتعلق نہیں ہو سکتی۔ پچھلے سال نیشنل ایکشن پلان کا اجرا وفاقی حکومت نے صوبوں کی انتظامیہ کے سربراہوں کی مشاورت کے بعد ہی کیا تھا۔ اس پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد سے نظم و نسق کی موجودہ صورت حال کو بہتر ضرور بنایا جا سکتا ہے، لیکن مسئلے کا یہ مکمل حل نہیں ہے، بلکہ اس کے حل کے ایک پہلو کی جانب ایک بہتر قدم ہے۔ اس پہلو پر ابھی تک قومی پریس میں بہت کچھ لکھا جائے گا۔ اگر اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے وفاق سنجیدہ ہوتا تو بہتری کے واضح آثار پیدا ہو سکتے تھے، لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا، بلکہ اس پر عمل درآمد کے لئے مطلوبہ فنڈز کا اجرا تک نہیں کیا گیا، جس سے انتظامیہ کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ اس پلان کا اعلان فوجی قیادت کے پُرزور اصرار پر کیا گیا تھا اور جہاں تک عسکری انتظامیہ کے اپنے کردار کا تعلق ہے تو فوجی عدالتوں کے فوری قیام سے اُن کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ ہو چکا ہے قطع نظر اس پلان کے امن و امان کے قیام سے بنیادی کردار پھر بھی پولیس کا ہی ہو سکتا ہے۔ مضامین کے اس سلسلے میں ہم نے اس بات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے کہ جب تک اس اہم ترین محکمے کے بنیادی سڑکچر میں تبدیلی نہیں لائی جاتی اس وقت تک امن کی طرف اٹھنے والا ہر قدم مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ بنیادی ڈھانچہ کی تبدیلی کے لئے وسائل کا انتظام کرنا پڑے گا، لیکن اس شعبہ میں وسائل کی فراہمی کا بندوبست ہمیں کرنا ہی ہو گا،کیونکہ امن و آتشی ہماری ایسی قومی ضرورت ہے ، جس کی کوئی قیمت بھی بھاری نہیں۔

بنیادی ڈھانچے میں اس تبدیلی کے لئے تفتیش و تحقیق، واچ اینڈ وارڈ اور پراسیکیوشن کے شعبہ جات کی علیحدگی کے لئے غیر معمولی وسائل درکار ہوں گے، کیونکہ ہر شعبہ کو از سر نو تشکیل دینے کے لئے غیر معمولی اقدامات ضروری ہوں گے اور اس مشق کی کامیابی کے لئے غیر معمولی وسائل بھی درکار ہوں گے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے، محکمہ پولیس کے نظام کی بہتری کا اولین زینہ بھرتی کے نظام میں باقاعدگی اور بہتری پیدا کرنا ہو گا۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی سے اجتناب اور محکمہ میں سیاسی عمل دخل کی بیخ کنی اہم ترین اقدامات ہیں، جو فوری طور پر بروئے کار لانے ہوں گے۔ تھانوں میں تعیناتی کا پیمانہ صرف کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد ٹریننگ کے ادارہ جات کی تشکیل نو کرنی پڑے گی۔ اگر بھرتی کے لئے فوج کی طرز پر براہِ راست افسران کا چناؤ پبلک سروس کمیشن کی وساطت سے کیا جائے تو چند سال کی مشق کرنے سے اچھے افراد محکمہ میں لائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریننگ کے پورے نظام میں اصلاحات کی جانی ضروری ہیں۔ ٹریننگ کے اداروں کی اصلاح کے نقط�ۂ نظر سے قطع نظر ان اداروں کے سربراہان کے لئے محنتی اور آمادہ افسران کا چناؤ کیا جائے، پولیس فورس کے حالاتِ کا کو بہتر بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ ڈیوٹی کے لئے اوقات کار کا تعین کیا جانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ دیگر اقدامات۔

حالات کار کی بہتری کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت محکمہ کے30فیصد افراد پروٹوکول، وی آئی پی، مختلف عمارتوں اور جگہوں پر تعیناتی کے لئے مامور ہیں۔وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے ساتھ ان افراد کو ایسی غیر ضروری ڈیوٹیوں سے واپس بُلایا جا سکتا ہے۔ سرکاری محکموں اور بلڈنگز کی نگرانی پر مامور عملہ کی واپسی کر کے اِن عمارات وغیرہ کے مالکان کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کا خود بندوبست کریں۔ غیر ضروری پروٹوکول پر مامور عملے کو واپس بلایا جائے۔ ان اقدامات سے نئی ہونے والی بھرتی کو30فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ڈیوٹی پر تعینات عملے کے لئے جدید ترین اسلحہ اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے۔ یہ اقدام اتنا ہی ضروری ہے جتنا خود نئی بھرتی کرنا۔ اس پہلو پر ماہرین کی آرا بہت پہلے سے ہمارے پاس موجود ہیں، کیونکہ پولیس کے نظام میں اصلاحات کی تجاویز لینے کے لئے تشکیل دیئے گئے متعدد کمیشنز نے اس پہلو پر بہت ہی مثبت تجاویز دی ہوئی ہیں، جو عمل درآمد کے انتظار میں رپورٹوں کے اندر محفوظ ہیں۔

یہ بات کثرت سے مباحث میں آ چکی ہے کہ پولیس کے محکمہ کے پاس اس وقت جو اسلحہ سیکیورٹی کے انتظامات کرنے اور دہشت گردی کے انسداد کے لئے موجود ہے وہ بہت ہی بوسیدہ، غیر مروجہ اور آؤٹ ڈیٹڈ ہے، جبکہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر جدید آلات سے لیس ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے پاس اُن کا پیچھا کرنے کے لئے نہ تو تیز رفتار ٹرانسپورٹ موجود ہے اور نہ ہی جدید آلات سے مزین اسلحہ۔ دہشت گردوں سے مقابلے میں پولیس فورس کے پاس جو گاڑیاں ہیں کیا اُن سے واردات کر کے بھاگنے والے ملزمان کا پیچھا ہو سکتا ہے۔ تھانوں کو اس قدر فرسودہ ٹرانسپورٹ اور اسلحہ مہیا کیا جاتا ہے اگر اُن کی تفصیل عوام کے علم میں لائی جائے تو یہ مذاق پر محمول کیا جائے گا۔ پولیس کی نفری کو غیر ضروری ڈیوٹیوں سے فارغ کیا جائے گا، تو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینے والے اہل کاروں پر سے ڈیوٹی کا دباؤ کم کیا جا سکے گا، جس سے ان کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔جدید آلات اور بہتر ٹرانسپورٹ کی فراہمی سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ان اقدامات سے کما حقہ، نتائج اس وقت تک برآمد نہیں ہو سکتے، جب تک ہمارے خفیہ اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہو گی۔ نیشنل ایکشن پلان میں سب سے اہم پہلو جو اُجاگر کیا گیا ہے وہ ہمارے خفیہ اداروں کے آپس میں اختلاط کار میں کمی ہے۔ ان کا آپس میں ارتباط اس قدر کمزور ہے کہ خفیہ اطلاعات کا تبادلہ نہیں ہو پاتا۔ ان اطلاعات کی باہم معلومات نہیں ہو پاتیں، جس سے سارا خفیہ نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس خامی کو دور کرنے کے لئے ایک بڑی ایکسر سائز کی ضرورت ہے، جو وقت کی اہم ترین ڈیمانڈ ہے۔ جاسوسی کے اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر مربوط کیا جائے کہ خفیہ معلومات کے فوری تبادلے کا انتظام ہو سکے۔ آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کے ساتھ ان خفیہ اطلاعات کا تبادلہ سول محکمہ جات کے ان اداروں کے ساتھ کیا جانا ہی مسئلے کے حل میں معاون ہو سکتا ہے۔ یہ اہم ترین پہلو بھی ہر رپورٹ کا حصہ ہے اسی لئے نیشنل ایکشن پلان میں اس کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔اس وقت ہمارے مُلک میں ہر شعبہ کا خفیہ حصہ اپنے اپنے سسٹم کے تحت کام کر رہا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ اس کا مرکزی ارتباط عنقا ہے۔

اس نئے نیشنل پلان میں خفیہ نظام کی مرکزیت کے لئے ایک مرکزی ادارے کے قیام کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ اس ادارے کے ذمہ یہ اہم ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ مُلک بھر کے خفیہ محکمہ جات سے موصول ہونے والی اطلاعات کو یکجا کر کے ایک مربوط مرکزی سسٹم میں ڈھالا جائے اور پھر مرکزی اطلاعات کی روشنی میں متعلقہ ادارہ ایکشن کرے۔ اس وقت درجن بھر خفیہ اداروں کا آپس میں کوئی میل جول نہیں، جس کی بنیاد پر ایک ایکشن لیا جا سکے۔اگر ایک مرکزی ادارہ ہر طرف سے آنے والی اطلاعات اکٹھی کر کے متعلقہ حکومت کو بھجوائے تو فوری ایکشن کے ساتھ وسائل کا بہتر استعمال کر کے نظم و نسق کے انتظامات میں بہت بہتری لائی جا سکتی ہے، اس لئے جب تک ایسا مرکزی ادارہ قائم نہیں ہو گا امن و امان کے قیام کی امیدیں دم توڑتی رہیں گی۔ ایسا ادارہ قائم کرنے کے لئے مرکزی حکومت وسائل مہیا کر سکتی ہے اور صوبائی حکومتیں اس ادارے کی صوبائی شاخوں کے قیام کے لئے اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

جس طرح دہشت گرد ایک مرکزی اور مربوط نظام سے منسلک ہیں اِسی طرح ہمارے سٹرائیک کرنے والے ادارے بھی کسی مرکزی ادارے سے رہنمائی حاصل کر کے کارروائی کریں تو نتائج بہت مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سائنٹیفک اور جدید طریقوں کو بروئے کار لا کر دہشت گردوں کی کارروائیوں کا مقابلہ ہو سکتا ہے اور کارروائی ہونے سے پہلے اس کا تدارک کیا جا سکتا ہے، جس سائنٹیفک طریقے سے دہشت گرد اپنے ٹارگٹ کی ریکی کرتے ہیں اس سے اُن کو کارروائی کرنے میں آسانی ہوتی ہے اگر کارروائی ہونے سے پہلے متعلقہ صوبہ اس کے تدارک کے لئے متحرک ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان وارداتوں میں کس قدر کمی لائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ہو یہ رہا ہے کہ اگر وفاقی خفیہ ادارے کوئی خفیہ معلومات صوبوں کو فراہم کرتے ہیں تو صوبائی پولیس اور انتظامیہ اس کو اہمیت نہیں دیتی اور واقعہ کے سرزد ہونے کے بعد الزامات کا سلسلہ ایک دوسرے پر منتقل کیا جاتا ہے اور ذمہ داری ایک دوسرے پر منتقل کی جاتی ہے۔ اگر ایک مرکزی ادارہ کی طرف سے یہ اطلاع فراہم ہو گی تو ہر صوبائی حکومت اس پر عمل کرنے کی قانوناً پابند ہو گی تو ذمہ داری بھی کسی دورسرے پر نہیں ڈالی جا سکے گی، کیونکہ مرکزی طور پر قائم اس ادارے کو یہ اختیار بھی دینا پڑے گا کہ اس کی فراہم کردہ معلومات پر عمل درآمد نہ کرنے والی صوبائی انتظامیہ سے باز پُرس کی جا سکے۔

اس قانونی تحفظ کی روشی میں کوئی ادارہ تساہل کا مظاہرہ کر سکے گا اور یوں خفیہ اداروں کی کارروائی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے،جو کہ فی الوقت اس عدم توجہی کی بنا پر معدوم ہے۔ یہاں پر یہ پہلو ضرور اجاگر ہونا چاہئے کہ پولیس اور نظم و نسق قائم کرنے والے اداروں میں اصلاحات کے لئے تجاویز اکٹھی کرنے کے لئے نصف درجن سے زائد کمیشن قائم ہو چکے ہیں، جن کی رپورٹوں میں مندرجہ بالا خامیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، لیکن افسوس کہ آج تک ہم نے ان تجاویز پر عمل کرنے سے اجتناب کیا اور اُن کی روشنی میں وہ اقدامات نہیں اٹھائے جن کا تکرار سے تذکرہ کیا جاتا رہا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس ضمن میں پہلو تہی سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ اس وقت ہمارے مُلک کا سب سے گھمبیر مسئلہ ہی امن و امان کا قیام ہے اور ہماری بقا اس سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم ہر روز نئے کمیشن بنانے پر تو بہت زور دیتے ہیں، لیکن ان کمیشنوں کی تجاویز کو سرد خانے کی زینت بنا دیتے ہیں۔ حالیہ نیشنل کمیشن کے قیام پر بہت زیادہ اطمینان کا اظہار کیا گیا،لیکن اس کمیشن کی تجاویز کو عملی شکل دی گئی؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، کیونکہ عمل سے ہی مثالی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی اصلاح نہ کی اور ضروری اصلاحات کا آغاز نہ کیا تو امن کا قیام ایک خواب سے زیادہ نہیں ہو گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ امن و امان قائم کرنے کی ذمہ دار پولیس کی تشکیل نو کا فوری آغاز کیا جائے گا، کیونکہ اس کام میں اصلاحات کے لئے طویل المدتی اور قلیل المدتی بنیادوں پر آگے بڑھنا ہو گا۔ پیشتر اس کے بہت دیر ہو جائے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

مزید : کالم