اقتصادی راہداری منصوبہ: بھارت کے لئے ڈراؤنا خواب

اقتصادی راہداری منصوبہ: بھارت کے لئے ڈراؤنا خواب
 اقتصادی راہداری منصوبہ: بھارت کے لئے ڈراؤنا خواب

  

پورے قومی منظر نامے پر صرف جنرل راحیل شریف ہی دو ٹوک بات کر رہے ہیں، اُن کی آواز پورے عزم کے ساتھ گونج رہی ہے، باقی سب ایسی باتیں کر رہے ہیں، جن میں ایک خوف، ایک مصلحت اور ایک نظریۂ ضرورت چھپا نظر آتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں بحریہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جس آہنی عزم کے ساتھ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا دیں گے، وہ میرے نزدیک وقت کی آواز ہے۔ یہ واضح پیغام اندرون و بیرون مُلک دینے کی اشد ضرورت ہے۔ حالیہ دِنوں میں بھارت کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات کا جو سلسلہ شروع ہوا، اُس کے خلاف دفتر خارجہ یا سول قیادت کا وہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا، جس کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی بھارتی قیادت کو شٹ اَپ کال دینے کی بجائے مصالحانہ رویہ اختیار کیا اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایسے میں جنرل راحیل شریف نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ایک بہادر جرنیل کی طرح واضح پیغام دیا ہے، جس کی بھارتی میڈیا یہ توجیہہ کر رہا ہے کہ اس میں بھارت کے لئے دھمکی کا پیغام موجود ہے۔ بھارت دُنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہے اور میانمار میں اُس کا حملہ بھی اِسی سلسلے کی کڑی تھا، نیز اب وہ پاکستان کی حدود میں گھس کر بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی درحقیقت اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، کون نہیں جانتا کہ بلوچستان اور کراچی کے حالات خراب کرنے میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ آئی ایس آئی کو اس کے بارے میں مضبوط شواہد مل چکے ہیں اور انہی شواہد کی بنیاد پر کور کمانڈرز کانفرنس میں بھارت کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس مداخلت سے باز آ جائے۔

پاکستان اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگر ہم تمام سازشوں کو ناکام بنا کر اقتصادی راہداری منصوبے کو مکمل کرنے میں کامیاب رہے تو اس خطے کی اقتصادی شہ رگ ہمارے ہاتھ میں آ جائے گی، اِسی بات کا بھارت کو سب سے زیادہ دُکھ ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد بھارت کی خطے میں حیثیت ثانوی ہو جائے گی۔ وہ آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا مُلک ضرور ہو گا، مگر وہ سائیڈ لائن پر چلا جائے گا۔ پاکستان کو دُنیا کی نظر میں مرکزی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ چین کے لئے اس منصوبے میں جس طرح دُنیا کو اقتصادی طور پر تسخیر کرنے کا امکان چھپا ہوا ہے، اُسی طرح پاکستان کے لئے اس منصوبے میں دُنیا کے صفِ اول کے ممالک میں آنے کی نوید موجود ہے۔ بھارت کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھا رہی، اس کی حالیہ اشتعال انگیزیاں اِسی سلسلے کی کڑی ہیں، وگرنہ دہشت گردی کے واقعات ہوں یا بھارت کے اندرونی معاملات میں آئی ایس آئی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی مداخلت کے الزامات، اُن میں ایک رتی بھی صداقت نہیں۔ اس وقت بھارتی قیادت کی جو کیفیت ہے، اُس سے کچھ بھی بعید نہیں کہ وہ کیا کر بیٹھے۔ اُس کا مقصد کسی نہ کسی طرح اس منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اس کے لئے اُسے امریکہ اور یورپی ممالک کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔

چین کی اقتصادی بالادستی تو پہلے ہی مسلمہ ہے، اگر اس منصوبے کے ذریعے اُسے دُنیا کے تمام خطوں تک زمینی رسائی حاصل ہو گئی تو یہ امریکہ اور یورپی ممالک کے لئے بہت بڑا اقتصادی جھٹکا ہو گا، نہ صرف اقتصادی، بلکہ سیاسی و ثقافتی لحاظ سے بھی پاکستان اور چین پہلے سے زیادہ قریب آ جائیں گے، جو امریکہ کو بھی کسی صورت گوارا نہیں، اس لئے موجودہ حالات میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کی جرأت نہیں کہ پاکستان پر جنگ مسلط کرے، لیکن اس کا احتمال ضرور ہے کہ اگر وہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے ذریعے اس منصوبے کو سبوتاژ نہیں کر پاتا تو پھر وہ دہشت گردی کا بہانہ بنا کے پاکستان پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت اس نکتے سے بے خبر نہیں، خاص طور پر جنرل راحیل شریف اس امکان کو رد نہیں کر رہے، اِسی لئے وہ بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ مُلک کے چپے چپے کی حفاظت کی جائے گی اور پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی۔

اقتصادی راہداری منصوبے کی سب سے بنیادی ضرورت پُرامن پاکستان ہے۔جب یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں تھا تو اُسی وقت یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ پاکستان کے اندر اور باہر امن کو یقینی بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا، کیونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کئے بغیر مُلک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی اقتصادی راہداری منصوبے کا بڑا حصہ انہی علاقوں سے گزرتا ہے۔ اگر اِن علاقوں کو محفوظ نہیں بنایا جاتا تو اس منصوبے کی افادیت صفر رہ جائے گی۔ اس منصوبے کے لئے پاکستان کے تمام شہروں کا بالعموم اور کراچی کا بالخصوص پُرامن ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ سخت اقدامات کی وجہ سے کراچی میں بہتری بھی آئی ہے، مگر ابھی یہ کافی نہیں، ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، اِسی لئے وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے حالیہ دورے میں بھی واشگاف الفاظ میں کہہ آئے ہیں کراچی کو ہر صورت میں امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔

اُدھر کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی بھی اسی امر کی نشاندہی کر رہی ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کو مُلک دشمن قوتیں ہر قیمت پر سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ ہمارا انتشار اور نااتفاقی دشمن کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔اس بات کو مدنظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے، سیاسی و عسکری قیادت اس نکتے پر یکسو ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنا ہے، لیکن دیکھنے میں آ رہا ہے کہ سیاسی قیادت، جس میں اپوزیشن بھی شامل ہے،اس منصوبے کے حوالے سے اس یکجہتی کا اظہار نہیں کر سکی، جس کی ضرورت ہے۔ کراچی کے حالات کو درست کرنے کے لئے مکمل اتفاق رائے کی ضرورت ہے، مگر لگتا ہے کہ سالہا سال سے مفادات اٹھانے والے کچھ عرصے کے لئے بھی اپنے حصے سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ وہ آج بھی مشترکہ لائحہ عمل کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ وہ اگر کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے متحد ہو جائیں، تو کراچی ایشیا ہی نہیں، بلکہ دُنیا کا بہت بڑا اقتصادی مرکز بن جائے گا اور ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے مثالی شہر کہلائے گا۔

اس سارے پس منظر اور منظر نامے میں جب جنرل راحیل شریف کی پُرعزم آواز گونجتی ہے تو امید کی ایک نئی شمع روشن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے آپریشن ضربِ عضب شروع کرتے ہوئے جس عزم اور کامیابی کا اظہار کیا تھا، اُس پر وہ پورے اُترے ہیں۔ ضربِ عضب کا ایک سال کامیابیوں سے بھرا پڑا ہے۔ دہشت گردوں سے شمالی وزیرستان کا 90فیصد علاقہ خالی کرا لیا گیا ہے،جبکہ اُن کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہو گیا ہے، دیگر شہروں میں بھی اُن کے نیٹ ورک کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ فوج کی قیادت اپنے نصب العین کو پہچانتی ہے۔ ماضی کے جرنیلوں کے برعکس جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھی جرنیلوں کی ایسی کوئی خواہش نظر نہیں آتی کہ اقتدار پر قبضہ جمایا جائے، بلکہ اس کے برعکس وہ مُلک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں، اس کے لئے چونکہ سیاسی حالات میں بہتری اور گڈ گورننس بھی ضروری ہے، اس لئے فوجی قیادت کی طرف سے اس جانب بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔ کراچی میں رینجرز کی حالیہ رپورٹ بھی اِسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے سیاست دانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ کرپشن، مالی لوٹ مار اور لاقانونیت کے ہوتے ہوئے امن قائم نہیں ہو سکتا، کیونکہ مختلف مافیاز اِسی لوٹی ہوئی رقم سے اپنا نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ پاکستان اس وقت کسی قسم کے عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا، جبکہ بھارت کی خواہش یہی ہے کہ پاکستان کو بے یقینی کی صورت حال میں مبتلا کیا جائے تاکہ اقتصادی راہداری منصوبہ سبوتاژ ہو سکے۔ اطمینان اس بات کا ہے کہ ہماری عسکری قیادت کو اس کا مکمل ادراک ہے اور وہ ہر سازش کو ناکام بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ اگر سیاست دان بھی حالات کی نزاکت کو سمجھ لیں اور چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے سیاسی کشیدگی کو ہَوا نہ دیں، اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، تو مُلک میں ایک ایسی فضا پیدا ہو سکتی ہے، جس کی ان نازک حالات میں پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔

مزید : کالم