مودی مہاراج! اب جانے بھی دیجئے

مودی مہاراج! اب جانے بھی دیجئے
 مودی مہاراج! اب جانے بھی دیجئے

  

ویسے تو رام راج اور اکھنڈ بھارت کا نشہ ہندو برہمن بنیا کی پرانی بیماری، بلکہ لاعلاج روگ ہے، جو صدیوں سے چمٹا ہوا ہے اور اس کے تاریخی اسباب ہیں، تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہندو مت نے بدھ مت کو نگل کر جین مت کا بھی خون پی لیا تھا، لیکن برہمن بنیا اندرونی خلفشار سے دو چار تھا، حتیٰ کہ سلطان محمود غزنوی کی گجھی مار کے باوجود بھی جنوبی ایشیا کے ہندو راجواڑے نہ سنبھل سکے اور پہلا ہندو شناس مسلمان البیرونی بھی یہ لکھ گیا کہ یہاں چھوٹی چھوٹی ہندو ریاستیں ہیں، جو باہم برسر پیکار اور پورے علاقے میں بکھری ہوئی ہیں،جیسے آج بھارت میں علیحدگی کی سینکڑوں تحریکیں۔ سابق چینی وزیراعظم چواین لائی کی پیشین گوئی کہ سقوط ڈھاکہ انجام نہیں آغاز ہے، ایسے کئی ایک مناظر کا جو برہمن بنیا کو دیکھنے پڑیں گے۔ بھارت کے سینکڑوں گروہ ایسے ہیں جو مودی جی کے مہاسبھائی فلسفے سے بیزار ہیں اور ان سے جان چھڑانے کی فکر میں ہیں۔

بھارت کو ایک قوم بنانے کے خواہش منداور ’’دین الٰہی‘‘ کے دیوانے ’’مغل اعظم‘‘ نے برہمن بنئے ذہن کو ’’ہندو مزاج‘‘ بنانے کا نسخہ دیا، جس سے یہ اندازہ ہوا کہ مسلمان کو بھی ہندو مزاج، یعنی ہندو مت میں گھل مل جانے والے بنا کر اسلام کو بھی بدھ مت اور جین مت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے، اِسی لئے برہمن بنئے نے مغلوں سے غداری کر کے انگریز کی گود میں جگہ پائی، تب انگریز نے برہمن بنئے کو جمہوریت میں اکثریت کی لوری سنائی، جس میں بنیا برہمن مست ہو کر جھوم رہا ہے، مگر حقیقت میں ہندو غلط فہمیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ پہلی غلط فہمی تو یہ ہے کہ تمام مذاہب کو ایک ہی گھاٹ میں نہیں اتارا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی ایک محدود تعداد کے ہندو مزاج بننے سے کچھ کام تو سیدھے کروائے جا سکتے ہیں، مگر مذہب کو موت کے گھاٹ اتارنا آسان کام نہیں، پھر برہمن بنئے کا اکثریت ہونا بھی ایک وہم ہے، برہمن بنئے کی اکثریت اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبیدکر کو دھوکا دینے کا نتیجہ ہے، اصل اکثریت تو غیر ہندو گروہ ہیں، جو متحد ہو کر اکثریت بنا سکتے ہیں،مثلاً اگر اچھوت، مسلمان اور سکھ مل جائیں، تو برہمن بنئے کے اکثریت کے خواب بکھر جائیں اور ہو سکتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں مودی مہاسبھائی فلسفے کا یہ حشر ہو اور ممکن ہے مودی مہاراج کی موجودہ پریشانی کا سبب بھی یہی ہو۔

وہ گزشتہ الیکشن میں کشمیری مسلمانوں اور نئی دلی کی عام آدمی پارٹی کا ردعمل دیکھ چکے ہیں، اس لئے اب شاید صدر اوباما کے گلے سے لٹکنے اور ان سے دوستانہ ’’مجاکھ‘‘ کے سہارے ناچ رہے ہوں! مگر انہیں اس قدر مست ہو کر بھی نہیں جھومنا چاہئے، کیونکہ انکل سام کی تو اپنی سیاست ہوتی ہے، جس سے وہ مودی جیسے ٹھگنوں کو نچا کر کھیلا کرتا ہے، اس لئے وہ اس قدر بھی نہ جھومے کہ چکرا کر سمندر میں ہی غرق ہو جائے! پاکستان بھی اب اللہ کے فضل سے 1965ء والا یا1971ء والا پاکستان نہیں رہا۔ مَیں کہا کرتا ہوں کہ ہمارے پاس دو تسلی بخش ہتھیار ہیں، ایک ظاہر ہے ایٹم کا سازو سامان ہے، لیکن ہمارا سب سے مقدم، موثر اور قابل اعتماد ہتھیار ہماری بہادر فوج ہے، اس لئے لالہ جی کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ اب اس فوج کا سپہ سالار ایک ایسا جرنیل ہے، جو بہادر اور زیرک بھی ہے، مگر سب سے بڑھ کر اس کے قابلِ اعتماد دو بازو بھی ہیں ایک جاں نثار سپاہی اور دوسرا اس پر کامل اطمینان اور پورا بھروسہ کرنے والی قوم، اسی لئے اس نے صاف اور سیدھا جواب دیا ہے کہ پاکستان پر حملہ آور کو فیصلہ کن جواب ملے گا!

مودی جی! اب بہتر یہ ہو گا کہ پرانے مہاسبھائی فلسفے کو طلاق دے دیجئے کہ مسلمان کو زبردستی ہندو بنانا ہے یا باہر بھگانا ہے اور یا پھر قبرستان کے سپرد کرنا ہے، آج آپ قبل مسیح کے زمانے میں نہیں،اب تو اکیسویں صدی آپ کے سامنے روشن ہے، آپ کو خبردار کر رہی ہے، آپ کا مُنہ چڑا رہی،اس لئے ہوش میں آیئے اور عقل کی بات کیجئے، جنوبی ایشیا امن اور ترقی کا محتاج ہے اور اس حاجت کو بھارت کا صرف وہ لیڈر پورا کر سکتا ہے، جو صلح و سلامتی کا علمبردار ہو۔ آپ کے وطن کی اکثریت بھی آپ سے یہی مانگ رہی ہے! ایڈوانی کے مکروہ فلسفے کو چھوڑیئے، اٹل بہاری واجپائی کے ذہن سے سوچئے! پاکستان کے ساتھ صلح و تعاون سے آپ نہ صرف ایشیا، بلکہ دُنیا بھر کے کام آ سکتے ہیں، آپ ٹھنگنے تو ہیں، مگر اتنے بھی نہیں، اگر آپ صدر اوباما کے گلے سے بے تکلفانہ لٹک سکتے ہیں تو ساری دُنیا کو بھی ایسے ہی کر سکتے ہیں، مگر یوں لٹکنے سے آپ اونچے نہیں ہو سکتے، جتنے ہیں اتنے ہی رہیں گے۔ اونچا بننے کے تکلف سے آپ کو ملے گا کچھ نہیں، اس تکلف سے آپ خراب ہوں گے یا دوسروں کو خراب کریں گے اور دُنیا کو بھی خراب کریں گے، اس لئے اپنی حد میں رہنا ہی پُرامن رہنا ہے، ورنہ بدامنی کا سبب بنیں گے۔

اونچا نہ ہونا،مگر اونچا بننے کا تکلف کرنا تمام خرابیوں کی جڑ ہے، اسی کو تکبر اور غرور کہتے ہیں، اِسی سے نسل پرستی کی لعنت پیدا ہوتی ہے، خدا نے تو سب کو اپنی حد میں رہنے کا حکم دیا ہے اور بتایا ہے کہ تمام انسان ایک ہی انسان کی اولاد ہیں یہاں پر نسلی برتری کی بات ختم ہو جاتی ہے، جھگڑے تب پیدا ہوتے ہیں، جب کوئی بڑا اور اونچا نہ ہوتے ہوئے بڑا اور اونچا بننے کا تکلف کرتا ہے، آپ اس تکلف پر لعنت بھیجیں تو آپ کو برابری اور مساوات کا سبق ملے گا، جب آپ کو سب لوگ برابر نظر آئیں اور آپ بھی ان کے برابر لگیں گے، تو سب کے ساتھ آپ کو پُرامن بقائے باہمی کا سبق ملے گا، سب کو ایک ساتھ ایک جیسا جینا مل جائے گا تو آپ بھی امن، چین اور سکون سے رہ سکیں گے!دوسروں پر زبردستی کوئی مذہب ٹھونسنے سے بھی باز آ جائیے! کیونکہ مذہب اور عقیدت کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے، زبان سے نہیں! کسی کو زبردستی ہندو بنانے کا جنون بھی ختم ہو جائے گا، آج اکیسویں صدی کی آزادی پسند دُنیا آپ کی اس خواہش اور کوشش کو پاگل پن کہیں گی! کوئی بھی آپ کو پسند نہیں کرے گا۔

آپ دُنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کا لیڈر مذہب کی بنیادوں پر ہندوستان کو تقسیم کرا گیا، حالانکہ یہ فریب کاری ہے دراصل آپ مذہبی بنیاد پر سب کو ہندو مت میں گم کر کے متحد رکھنا چاہتے تھے،اب بھی مسلمانوں سمیت سب کو ہندو مت میں متحد کر کے، کم سے کم سب کو ہندو مزاج بنا کر، یعنی ہندو مت میں گھل مل کر ہی لوگوں کو جینے کا حق دیں گے، کوئی مسلمان مسلمان نہ رہے، کوئی عیسائی عیسائی نہ رہے اور کوئی سکھ بھی سکھ نہ رہے، بلکہ سب کے سب ہندو مزاج بن کر ہندو مت میں گھل مل جائیں؟ یہ کیوں اور کیسے ممکن ہے؟! اصل جنونی اور متعصب مذہبی تو آپ ہیں! جو سب کو زبردستی ہندو بنانا چاہتے ہیں! گویا سب سے نسل پرست برہمن کو سب سے برتر منوانا چاہتے ہیں۔

آپ کے سیکولر ازم اور جمہوریت کے دعوے فریب، دھوکا اور جھوٹ ہیں! اب دُنیا جان رہی ہے، جان جائے گی! آپ کے دعوؤں کو کوئی بھی نہیں مانے گا، آپ کا ہندو مت تو کسی مذہب کو برداشت نہیں کر سکتا۔بھارتی سیکولرازم اور جمہوریت میں بھی سب کو ہندو مت میں گھل مل کر رہنا ہو گا! اب یہ بات دُنیا جان چکی ہے یہ تو صرف مسلمان تھے،جو ایک ہزار سال تک آپ کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی پر عمل کر کے رہتے رہے! اس لئے اب پرانی مہاسبھائی روش اور فلسفے کو طلاق دیجئے، اب جانے دیجئے سب کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کو قانونی طور پر مان ہی لیجئے!؟

مزید : کالم