آہ، عبدالحفیظ احمد!

آہ، عبدالحفیظ احمد!

صبح ہی صبح ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، دھڑکتے دل کے ساتھ فون اُٹھایا تو برادر سلیم منصور خالد نے اطلاع دی، حفیظ صاحب انتقال کر گئے ہیں، نماز جنازہ عصر کے بعد ہو گی انا للہ و انا الیہ راجعون۔ تفصیل پوچھنے کی ہمت ہی کہاں رہی تھی، شاید یہی کیفیت سلیم صاحب کی اپنی بھی تھی، وہ بھی مزید کچھ نہ کہہ پائے۔ ابھی تک دل و دماغ صدمے کی کیفیت سے باہر نہیں آئے۔ کبھی اس طرف دھیان ہی نہ گیا تھا کہ جدائی کی گھڑی تو سر پر کھڑی رہتی ہے جانے کب بلاوا آجائے۔ سچ ہے دریا کی موجوں کو کیا کام کہ کشتی کسی کی پار لگتی ہے یا منجدھار کے عین بیچ ڈوب جاتی ہے۔ موت تو اٹل حقیقت ہے، فرشتۂ اجل آن پہنچتا ہے تو سارے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں سوائے ایک ایمان کے رشتے کے۔ اصل رشتہ تو یہی ہوتا ہے۔ حفیظ صاحب سے نہ علاقے کا رشتہ تھا نہ ذات برادری کا چالیس برس قبل یہی رشتہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آیا تھا۔

ان کا اصل نام عبدالحفیظ احمد تھا لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھی انہیں حفیظ بھائی یا حفیظ صاحب ہی کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ میں جب 1973-75ء میں پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے سیاسیات کا طالبعلم تھا تو اس وقت ان کا داخلہ شعبہ پنجابی اورئنٹل کالج میں تھا، وہ بھی شاید ہوسٹل کی سہولت کے لئے۔ وہ میاں چنوں کے رہنے والے تھے اور میری طرح کمسنی میں یتیمی کا صدمہ دیکھ چکے تھے۔ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے وہ جمعیت سے بطور رفیق وابستہ تھے لیکن رکنیت انہیں لاہور آنے کے بعد ملی۔ یاد رہے کہ تب جمعیت کی رکنیت صرف انہیں ملتی تھی جو نظریاتی اور عملی اعتبار سے تربیت کے کئی مراحل طے کر لیتے تھے۔

مجھے اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ ہم چاروں دوستوں عبدالحفیظ، سمیع اللہ بٹ، سلیم منصور خالد اور میں کب اور کیسے ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔یونیورسٹی کے علاوہ ہماری باہم ملاقاتیں زیادہ تر لاہور جمعیت اور مرکز جمعیت اچھرہ میں ہوتی تھیں۔ میں روزانہ وہاں نیو کیمپس سے مرکزی آرگن ’’ہمقدم‘‘ کو مرتب کرنے کے لئے آتا تھا۔ داعی تحریک مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نماز عصر کے بعد اپنی رہائش کے لان میں بیٹھتے اور حاضرین سے ہلکی پھلکی گفتگو کیا کرتے تھے۔ ہم چاروں بھی اکثر اس مجلس سے فیضیاب ہوتے تھے۔ اکثر اوقات ہم شام کا کھانا یاسین ہوٹل سے کھاتے جو اچھرہ کے اندرون میں واقع تھا۔ چائے کے لئے کسی نزدیک کے ہوٹل جاتے اور مختلف موضوعات پر بحث مباحثہ کرتے تھے۔ اقامت دین کے جذبے نے ہمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا لیکن ہماری باہمی قربت کی ایک بڑی وجہ چاروں کا مطالعہ کا شوق بھی تھا یہ ممکن نہ تھا کہ ہم میں سے کسی کے ہاتھ کوئی اچھی کتاب لگے اور وہ باقی تینوں دوستوں سے اس کا ذکر نہ کرے مجھے یاد ہے انہی ایام میں مختار مسعود کی کتاب ’’آوازِ دوست‘‘ اور احسان دانش کی آپ بیتی ’’جہانِ دانش‘‘ اوپر تلے ہی منظر عام پر آئی تھیں۔ دونوں اپنے اپنے منفرد اسلوب کی وجہ سے اہل ذوق کی نظروں کا مرکز بن گئی تھیں اور ہم چاروں کے درمیان بہت دنوں تک گفتگو کا موضوع بنی رہیں۔ ان کے بعد ممتاز مفتی کا سفر نامہ حج ’’لبیک‘‘ کے عنوان سے سیارہ ڈائجسٹ میں چھپنا شروع ہوا تو اسے بھی ہم باقاعدگی سے پڑھتے رہے۔ اسی سے حفیظ صاحب کو ممتاز مفتی کے سوانحی ناول ’’علی پور کا ایلی‘‘ پڑھنے کا شوق ہوا بقول سلیم منصور خالد، حفیظ صاحب اس کے مطالعہ میں بالکل ناغہ نہ کرتے خواہ کسی روز صرف دس بیس صفحے ہی پڑھنے کا وقت ملتا۔

معلوم نہیں کیسے رفتہ رفتہ کچھ ساتھیوں کو ہمارا اکٹھے اُٹھنا بیٹھنا عجوبہ سا لگا۔ انہوں نے اسے ’حلقہ فیلسوف‘ کا نام دے دیا۔ ہوتے ہواتے اس حلقے کی خبر ناظم اعلیٰ جناب ظفر جمال بلوچ تک بھی جا پہنچی، انہوں نے ہمیں بلایا اور آئندہ اس ’اصطلاح’ کو استعمال نہ کرنے کی ہدایت فرما دی۔ انہوں نے غالباً تنظیم اندر تنظیم، کا مسئلہ سمجھ کر تنبیہ کرنا ضروری خیال کیا تھا۔

حفیظ صاحب ابھی جمعیت سے وابستہ ہی تھے کہ انہیں ادارہ مطبوعاتِ طلبہ چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تعلیم اور جمعیت سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو دوستوں سے مشاورت کی۔ سلیم منصور خالد انہیں عبدالحمید صدیقی مرحوم و مغفور کے پاس لے گئے۔ صدیقی صاحب مولانا مودودیؒ کا رسالہ ترجمان القرآن مرتب کیا کرتے تھے۔ وہ اپنی ذات میں بہت بڑے عالم تھے۔

قدرت نے تدبر و تفکر کی دولت بھی بے انت عطا کر رکھی تھی۔ ہم چاروں دوست کبھی الگ الگ بھی اور کبھی اکٹھے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔ وہ اپنے لکھنے پڑھنے کے سارے کام پنجاب پبلک لائبریری میں بیٹھ کر کرتے تھے۔ حفیظ صاحب نے انہیں بتایا کہ ملازمت کرنے پر طبیعت آمادہ نہیں، کاروبار کروں تو جیب میں سرمایہ نہیں صدیقی صاحب نے پبلشنگ کا راستہ تجویز کیا، فرمانے لگے، چونکہ آپ کو اس کا کچھ تجربہ بھی حاصل ہے اس لئے آپ اس میدان میں کامیاب رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی ایک کتاب ’’ایما ن اور اخلاق‘‘ کا مسودہ یہ کہہ کر ان کے سپرد کیا، لیجئے اسی سے بسم اللہ کیجئے اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے۔ مردِ درویش کے مشورے نے انہیں یک سو کر دیا۔ سلیم منصور خالد نے ادارے کا نام ’’البدر‘‘ تجویز کیا۔ قدرت نے دستگیری کی اور دیکھتے ہی دیکھتے البدر پبلی کیشنز ایک اچھا اشاعتی ادارہ قائم ہو گیا۔ آباد شاہ پوری مرحوم کی کتاب ’’سید بادشاہ کا قافلہ‘‘ چھاپی تو وہ بہت مقبول ہوئی اس کے کئی ایڈیشن نکلے سلیم منور خالد کی کتاب ’’البدر‘‘ چھاپنے کی سعادت بھی البدر پبلی کیشنز کے حصے میں آئی، اس کے تو سب سے زیادہ ایڈیشن نکلے۔ راقم الحروف اور سمیع اللہ بٹ نے انہیں ’’شخصیات‘‘ نامی کتاب کا مسودہ دیا۔ یہ مولانا مودودیؒ کے اکثر و بیشتر وہ مضامین تھے جو ملی شخصیات کے حوالے سے تھے لیکن ابھی تک مرتب نہ ہو پائے تھے۔ قصہ کوتاہ پبلشنگ کے کاروبار میں حفیظ صاحب کے قدم جم گئے۔ وہ کاروبار کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کی تنظیمی اور دعوتی ذمے داریاں بھی نبھاتے رہے۔ اب وہ چند سال سے جماعت اسلامی کا اشاعتی ادارہ اسلامک پبلی کیشنز چلا رہے تھے۔

جمعیت سے فراغت کے بعد مجھے جب کچھ فرصت میسر آئی تو مجھے پاکستان کے ریاستی نظام کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ مجھے احساس ہونے لگا کہ جماعت اسلامی تبدیلی کی بات تو کرتی ہے لیکن وہ اس نظام کے اندرون اور بیرون کو بالکل نہیں جانتی جسے وہ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے میں کبھی کبھی باقی تینوں دوستوں سے تبادلہ خیال بھی کرتا رہتا۔ حفیظ صاحب سے ملنے کے لئے ان کے ادارے البدر پبلی کیشنز جاتا تو کہتا، حفیظ صاحب آپ نے اتنی ڈھیر ساری کتابیں چھاپی ہیں کیا ان میں کوئی ایسی کتاب بھی ہے جس میں پاکستان کا ریاستی نظام اپنی تمام تر قہر سامانیوں کے ساتھ زیر بحث آیا ہو؟ حفیظ صاحب میرا سوال سن کر بے ساختہ ہنس پڑتے۔ کہتے، چھوڑیں ان باتوں کو، ہم چائے پیتے ہیں پھر وہ ملازم کو آواز دیتے، بھئی بہت اچھی چائے بنوا کر لاؤ اور بسکٹ بھی لیتے آنا بہت دیر بعد آج ہمایوں صاحب آئے ہیں!

میں پاکستانی معاشرے کا مطالعہ کرتا گیا تو میرے اندر یہ خواہش بڑھتی گئی کہ کاش اسلامی جمعیت طلبہ کے اندر سماجی اور ریاستی حقائق سمجھنے سمجھانے کا رجحان آ جائے۔ اتفاق سے 1992ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک فیصلہ طلبہ سیاست کے حوالے سے منظر عام پر آیا۔ ان دنوں جناب مجیب الرحمن شامی روز نامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’جلسہ عام‘‘ کے عنوان سے کالم لکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے نام ایک طویل خط لکھا جس میں ذاتی مشاہدات و تجربات کے حوالے سے طلبہ سیاست پر روشنی ڈالی۔ شامی صاحب نے اصلاح کے نقطہ نظر سے وہ خط اپنے کالم میں ’’ایک طالبعلم رہنما کے اعترافات‘‘ کے عنوان سے چھاپ دیا۔ میں چونکہ سرکاری ملازم تھا اس لئے میں نے خط میں اپنا نام ظاہر نہ کیا۔حفیظ صاحب نے جواب میں جو تحریر شامی صاحب کو بھیجی، وہ طوالت میں میری تحریر کے برابر تھی۔ شامی صاحب نے میرے خط پر چند تعارفی کلمات رقم کئے، لکھا: ’’یہ خط بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ بہت سے سوالات کا جواب دیتا ہے اور بہت سے سوالوں کا جواب بھی مانگتا ہے۔ اسے دل پر ہاتھ رکھ کر پڑھیئے۔۔۔ میں اسے کئی بار پڑھ چکا ہوں اور میرا ہاتھ ہے کہ ابھی تک دل پر ہے!‘‘

حفیظ صاحب اپنے جوابی مکتوب میں جمعیت کو ایک تربیتی ادارے کے طور پر زیر بحث لائے اور انہوں نے چند ان افراد کے نام بھی گنوائے جو جمعیت کی تربیت کی وجہ سے زندگی کے مختلف دائروں میں ممتاز ہوئے۔ البتہ حفیظ صاحب کی نگاہ میرے مکتوب کے مرکزی مضمون تک نہ پہنچ سکی۔ شاید میں اپنا نقطۂ نظر زیادہ مضبوط دلائل اور موثر اسلوب کے ساتھ سامنے لانے میں ناکام رہا تھا۔ تاہم مجھے خوشی ہوئی کہ حفیظ صاحب نے نہایت شائستگی اور متانت کے ساتھ مجھ سے اختلاف کیا، مجھے یاد ہے ان کا مکتوب بہت دلچسپ جملے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، انہوں نے لکھا تھا:’’محترم شامی صاحب! امید ہے میرا یہ خط پڑھ کر آپ کو تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آیا ہوگا اور آپ نے اپنے دل سے ہاتھ اٹھا لیا ہوگا۔‘‘

حفیظ صاحب کی نماز جنازہ کے موقع پر غالباً ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے انہیں ’صوفی‘ کہا تو میرے نزدیک اس میں مبالغہ نہ تھا۔ کیونکہ مرحوم کی زندگی کے آخری چند سالوں میں مجھے ان کی طبیعت میں دروں بینی کا پہلو بہت نمایاں طور پر محسوس ہونے لگا تھا۔ ایک دفعہ جب میں قومی ڈائجسٹ کا ایڈیٹر تھا تو انہوں نے اس حوالے سے ایک کہانی نما تحریر بھی بھیجی جو میں نے شائع کر دی تھی وہ تحریر تصوف کی خوشبو میں رچی بسی تھی۔ میں سوچتا ہوں کہ جو شخص عبدالحمید صدیقی، ملک غلام علی اور نعیم صدیقی ایسے درویشوں سے ٹوٹ کر محبت کرنے والا ہو وہ بھی اسی رنگ میں رنگا نہ جائے، کیسے ممکن ہے!

مزید : کالم