سندھ کا بجٹ اور ایم کیو ایم کی احتجاجی ہڑتال

سندھ کا بجٹ اور ایم کیو ایم کی احتجاجی ہڑتال

سندھ کی حکومت اس لحاظ سے وفاق اور پنجاب سے بازی لے گئی ہے کہ صوبے کے نئے سال کے بجٹ میں اس نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافہ کیا ہے۔ البتہ میڈیکل الاؤنس25فیصد ہی رکھا گیا ہے۔739ارب30کروڑ18لاکھ روپے کے بجٹ میں 12ارب72کروڑ اور76لاکھ روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم14ہزار سرکاری ملازمتیں بھی پیدا کی جائیں گی، جن میں سے10ہزار پولیس سروس میں ہوں گی۔ یہ ملازمتیں اگر میرٹ پر دی جائیں تو بہتر لوگ منتخب ہو سکیں گے،جو اپنے فرائض بھی اچھے طریقے سے ادا کر سکیں گے تاہم اس سلسلے میں بعض حلقے پہلے ہی شکوک و شبہات کا شکار ہیں، حکومت کو ان کے تحفظات دور کرنے چاہئیں۔

سندھ کے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لئے پہلے سے زیادہ رقوم مختص کی گئی ہیں اور امن و امان پر بھی پہلے سے زیادہ اخراجات ہوں گے۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بجٹ کو غریب دشمن اور متعصبانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور اتوار کو اس نے احتجاجی ہڑتال کی، متحدہ نے قومی اور صوبائی سطح پر ’’شیڈو بجٹ‘‘ بھی پیش کیا تھا۔ اگر اس میں متحدہ کی قابلِ عمل تجاویز کو سمو دیا جاتا تو ممکن ہے ہڑتال کی نوبت نہ آتی، اب جبکہ متحدہ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے، ضرورت ہے کہ اس کے ارکان اپنی تجاویز کے ساتھ سندھ اسمبلی میں آئیں۔ یہ تجاویز حکومت اور ایوان کے سامنے رکھیں، ان کے حق میں دلائل دیں۔ اگر یہ تجاویز قابلِ عمل ہوں تو حکومت کو بھی انہیں ماننے میں تامل نہیں ہونا چاہئے، لیکن احتجاجوں اور ہڑتالوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، مسائل کا حل سوچ بچار اور غورو فکر سے ہی نکلتا ہے، اس لئے بہتر طرز عمل یہ ہے کہ ایوان میں غورو فکر کیا جائے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جس ایوان سے سوچ بچار کے سوتے پھوٹنے چاہئیں اسے بھی ہر وقت ہاؤ ہو اور ہلے گلے کا میدان بنا لیا جاتا ہے، بجٹ کی کاپیاں پھاڑنے کا سلسلہ کچھ برسوں سے قومی اسمبلی میں تو ختم ہو چکا، لیکن یہ منظر سندھ اسمبلی میں اب بھی دیکھا گیا، ہمیں اپنا طرزِ عمل بہرحال بدلنا ہو گا، بصورت دیگر مسائل حل ہونے کی کوئی صورت نہیں۔

مزید : اداریہ