اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے مخالفوں کو سپہ سالار کا بروقت انتباہ

اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے مخالفوں کو سپہ سالار کا بروقت انتباہ

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ ہر قیمت پر بنائیں گے، منصوبوں میں روڑے اٹکانے والوں پر گہری نظر ہے، مادرِ وطن کے تحفظ کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، بلوچستان، فاٹا اور کراچی میں قتل و غارت دشمن کے مذموم عزائم کا مظہر ہے۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ناقابلِ برداشت ہیں، آرمی چیف نے کہا ہم تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں، لیکن قومی مفاد اور ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار نیول اکیڈمی کراچی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

گوادر بندرگاہ چین نے بہت پہلے تعمیر کر دی تھی، لیکن ماضی کی حکومتیں نامعلوم وجوہ کی بنا پر اسے آپریشنل نہ کر سکیں، جب شوکت عزیز وزیراعظم تھے (اور جنرل (ر) پرویز مشرف صدر تھے) تو یہ بندرگاہ آپریشنل کرنے کے لئے سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے حوالے کر دی گئی تھی، جس نے معاہدے کے تحت ایک مخصوص مدت میں نہ صرف بندرگاہ کو چلانا تھا، بلکہ اس کے لئے درکار ضروری انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کے لئے سرمایہ کاری بھی کرنا تھی، لیکن اُس نے اِس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ کی، حکومت بھی بندرگاہ کو بس دیکھتی رہی، اس سے کوئی استفادہ نہ کر سکی، حالانکہ جب سے یہ بنی ہے اُس وقت سے چالو ہوتی تو اربوں کھربوں کا کاروبار کر چکی ہوتی، بلکہ کراچی کی بندرگاہ کی طرح یہاں برآمدی اور درآمدی سامان کی آمدو رفت شروع ہو جاتی، لیکن پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت کے شوقین وزیر بھی اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہ کر سکے کہ گوادر پورٹ کو کیوں نہیں چلایا جا رہا۔ چین جس کے انجینئروں نے یہ بندرگاہ تعمیر کی تھی، غالباً پاکستان دوستی کا لحاظ کرتے ہوئے خاموش تھا، اب خدا خدا کر کے اس بندرگاہ سے کاروبار شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ آغاز بہت معمولی ہے اور مچھلی کی برآمد شروع ہو چکی ہے تاہم امید کرنی چاہئے کہ جلد ہی یہاں سے کاروبار پوری استعداد کے مطابق شروع ہو جائے گا۔

مقامِ فکر ہے کہ بھاری سرمایہ کاری سے اگر ایک بندرگاہ بنائی تھی تو اس کے آپریشنل ہونے میں کیا مسائل درپیش تھے اور اس میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟کیا کوئی عالمی دباؤ تھا؟ کیا دوستوں (یا دوست نما دشمنوں) کو اس بندرگاہ کے شروع ہونے سے اپنے کچھ مفادات پر زد پڑتی ہوئی نظر آتی تھی، کیا پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت کے کرتا دھرتاؤں کو خدشہ تھا کہ اگر یہ بندرگاہ اچھی طرح سے چل پڑی تو کراچی کی بندرگاہ پر مال لانے، لے جانے کا رش کم ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے کچھ لوگوں کے ذاتی مفاد پر زد پڑے گی، کیا ذمہ دار حکام جان بوجھ کر اس کام کو معرضِ التوا میں ڈال رہے تھے، ان سارے سوالات کا شافی جواب تلاش کرنا چاہئے اور اگر یہ سب کچھ نہیں ہو رہا تھا تو پھر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے بندرگاہ کو آپریشنل بنانے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا اور کون کون اس کا ذمہ دار تھا، اس سارے معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر اور اس گتھی کو سلجھائے بغیر یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ اب پاک چین اقتصادی راہداری میں روڑے اٹکانے والے کون ہیں اور وہ کیوں ایسا کر رہے ہیں۔

اب جب پاک چین اقتصادی راہداری کے راستے میں بھارت کھل کھلا کر سامنے آ گیا ہے اور اس نے چین کے ساتھ باقاعدہ احتجاج بھی کر دیا ہے اور عجلت میں ایران کے ساتھ چاہ بہار کی بندرگاہ کی توسیع کا معاہدہ بھی کر لیا ہے یہ چاہ بہار کوئی اچانک نہیں بن گئی۔ یہ پہلے سے موجود تھی اور اگر بھارت کو اس کی توسیع میں اپنا اور ایران کا مفاد نظر آتا تھا تو اس جانب اس کی نگاہ پہلے کیوں نہ اُٹھی اور اب جب پاکستان نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری سمیت46بلین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کر دیئے اور بھارت کو نظر آ گیا کہ یہ گیم چینجر منصوبہ تو شروع ہونے جا رہا ہے تو اسے چاہ بہار بھی یاد آ گئی، ایران کے ساتھ معاہدہ بھی جلدی جلدی کر لیا، مودی نے چین کا دورہ بھی کر لیا، چین کے ساتھ احتجاج بھی کر دیا، لیکن جب چین نے بھارت کے احتجاج کو پرکاہ اہمیت نہ دی تو اسے یاد آیا کہ یہ راہداری تو گلگت بلتستان سے گزرے گی، اس لئے اسے ’’متنازعہ‘‘ قرار دینے کی سوجھی، حالانکہ عشرے قبل سینۂ سنگ پر ریشم کا راستہ بھی پاکستان اور چین نے مل کر تعمیر کیا تھا اور دُنیا کو انجینئرنگ کے اس شاہکار پر حیرت بھی ہوئی تھی، لیکن اس وقت مودی شاید ’’نابالغ‘‘ تھے، اور ان کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کا حادثہ نہیں ہوا تھا، اس لئے کسی نے شاہراہ ریشم کو متنازعہ بنانے کی بات نہ کی۔

آرمی چیف نے اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کو ہر قیمت پر بنانے کا جو بروقت، بر محل اور انتہائی اہم نوعیت کا پیغام دیا ہے اس میں بصیرت اور دانشمندی کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں جو ابھی وقت کے ساتھ ساتھ آشکار ہوں گے، آپ کا کیا خیال ہے، جن حلقوں نے اقتصادی راہداری کے روٹ کے پردے میں اس منصوبے کو ہی متنازعہ بنانے کی کوشش کی تھی انہیں بیٹھے بٹھائے یہ خیال آ گیا تھا یا کسی نے اُن کے ذہن میں یہ خیال ڈالا اور وہ انگڑائی لے کر بیدار ہوئے اور اُنہیں یاد آیا کہ وہ اپنی چالوں سے پہلے بھی ایسے ہی کثیر الجہت قومی منصوبے کو متنازعہ بنا کر کامیابی حاصل کر چکے ہیں، اس لئے انہوں نے فوری طور پر پیش قدمی کی اور روٹ کے تنازعے کا مسئلہ اٹھا دیا، وزیراعظم کی کابینہ کے ساتھی اگرچہ وضاحتیں کرتے رہے،لیکن تنازعہ اٹھانے والے مطمئن نہ ہوئے پھر وزیراعظم کو خود یکے بعد دیگرے دو آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد کرنا پڑیں، تب کہیں جا کر معاملہ کسی حد تک ٹھنڈا ہوا، پھر لاہور میں90 شاہراہ قائداعظم پر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایک سیمینار کرایا، جس میں عزت مآب چینی سفیر بھی شریک ہوئے اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور راہداری کے روٹ کے بارے میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے یہاں اطمینان بخش وضاحتیں کیں۔

اب آرمی چیف نے جو بیان دیا ہے یہ حرفِ آخر ہے، اس سے حکومت کے موقف کو بھی تقویت ملے گی اور جو لوگ اِس منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے اُنہیں بھی صاف شفاف اور واضح پیغام مل جائے گا کہ یہ قومی اہمیت کا منصوبہ ہے اور فوج قوم کے تعاون سے اس کی پشت پر کھڑی ہے۔ توقع ہے بیرون مُلک اگر اس پیغام کو اچھی طرح وصول کر لیا گیا ہے تو اندرونِ مُلک منصوبے کو متنازعہ بنانے والے بھی اب اپنی اچھل کود ختم کر دیں گے اور اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ قوم اور فوج اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر دم لے گی۔(اِن شا اللہ)

مزید : اداریہ