وفاقی بجٹ مایوس کن اور مزدور کش ہے، بشارت راجہ

وفاقی بجٹ مایوس کن اور مزدور کش ہے، بشارت راجہ

لاہور(جنرل رپورٹر228خبر نگار) وفاقی بجٹ مایوس کن اور مزدور کش ہے حکومت نے ٹیکس اصطلاحات نہ کر کے ہرطبقے کو مایوس کیا۔ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد کے بجائے 7.5 فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔بجٹ میں صحت، زراعت تعلیم، صنعت و دیگر شعبوں کونظر انداز کیا جانا حکومتی ناکامی کا منہ بولتاثبوت ہے۔بجٹ پر عملدرامد سے پہلے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا۔صحت اورتعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئینی زمہ داری ہے ۔حکومتی عدم توجگہی اور بے حسی کے باعث یہی دو شعبے پستی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔عوام کا ان شعبوں پر اعتماد اٹھ چکا ہے، حکومت کی ترجیح میٹرو بس کے بجائے عوام کو زندہ رہنے کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی ہونا چاہیے ۔ان خیالات کااظہارسابق وزیر قانون و بلدیات پنجاب محمد بشارت راجہ نے تاجر راہنماوں کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ایک دفعہ پھر ناکام ہو گئی ہے ۔ آئی ایم ایف کی ہدایت پر بنائے جانے والے بجٹ میں ملک کے غریب اور پسے ہوئے عوام کے لئے کوئی ر یلیف نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے کسانوں، مزدوروں اور غریب عوام کو مذید دلدل میں دھکیل کر امیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں گذشہ سال کی نسبت کمی افسوس ناک ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ زراعت جو ہمارے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے کویکسر نظر اندازکر تے ہوئے کسانوں کے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب مذید پس رہا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4