ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پر کام شروع ہو چکا‘رانا بابرحسین

ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پر کام شروع ہو چکا‘رانا بابرحسین

لاہور(وقائع نگار) صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا بابرحسین نے کہا ہے کہ ساہیوال میں ایک ہزار تینی سو بیس میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پر کام کا آغاز ہو چکا ہے جس پر ایک سو اسی ارب روپے لاگت آئے گی ۔ جنوبی پنجاب میں بہاولپور میں ریگستانی علاقے میں جہاں سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ بھی نہ تھا وہاں پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شمسی توانائی پر مبنی ’’ قائد اعظم سولر پارک ‘ ‘ قائم کیا جا چکا ہے جہاں سے ایک سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے ۔ اس سولر پارک میں مزید نو سو میگا واٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ اس منصوبے پر تقریباً ایک سو پینتیس ارب روپے لاگت آئے گی ۔ یہ منصوبہ اگلے سال مکمل ہو جائے گا ۔ اس منصوبے کے نتیجے میں جنوبی پنجاب میں نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ صنعتی اور زرعی شعبے میں علاقے کے عوام کے لئے روزگار کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے ۔ پنڈ دادن خان کے مقام پر تین سو میگا واٹ بجلی کا پراجیکٹ لگایا جا رہا ہے ، پینتالیس ارب روپے مالیت کے اس منصوبے میں بجلی پیدا کرنے کے لئے مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا ۔ یہ تینوں منصوبے 2017ء کے اختتام تک دو ہزار چھ سو بیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں گے ۔ حکومت پنجاب بھکھی ، ضلع شیخوپورہ میں ایک سو دس ارب کی لاگت سے گیس سے چلنے والا ایک ہزار دو سو میگاواٹ کا پاور پلانٹ شروع کر رہی ہے ۔ یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں مارچ2017میں بجلی فراہم کرنا شروع کر دے گا اور 2017کے آخر تک اس منصوبے سے مکمل استعدادکے مطابق بجلی حاصل کی جا سکے گی ۔ سندر ، لاہور اور فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک سو دس میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ ان منصوبوں پر تینتیس ارب روپے کی لاگت آئے گی۔پنجاب میں لوڈ سنٹرز کے قریب ایک سو پچاس میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے چار پاور پلانٹس لگائے جا رہے ہیں جن پر نوے ارب روپے کی لاگت آئے گی ۔ یہ پاور پلانٹس لاہور ، ملتان ، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں لگائے جائیں گے ۔

رانا بابرحسین

مزید : صفحہ آخر