سانحہ صفورہ ، منصوبہ بندی اور ملزمان سے متعلق اہم حقائق منظر عام پر آگئے

سانحہ صفورہ ، منصوبہ بندی اور ملزمان سے متعلق اہم حقائق منظر عام پر آگئے

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سانحہ صفورہ کے ملزمان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور تحقیقات کے دوران اہم حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے ۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سانحہ صفورہ کی منصوبہ بندی طاہر نامی ملزم نے کی جبکہ اس حملہ کی منصوبہ بندی کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے ایک ہوٹل میں کی گئی۔حملہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملہ کا آئیڈیا ملزم طاہر کے ذہن میں حملہ کی جگہ سے گزرتے ہوئے آیا ۔ ذرائع کی جانب سے سانحہ صفورہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ ایک دن پہلے کیا جانا تھا لیکن دہشت گرد موقع پر دیر سے پہنچے جس کے باعث کاروائی ایک دن موخر کی گئی ۔ دہشت گردوں کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا گروپ 15 افراد پر مشتمل تھا جس میں 7 سے 8 شوٹر ہیں اور باقی حملہ کے مقام کی ریکی سمیت منصوبہ بندی کا کام کرتے ہیں ۔ اس حملہ میں ملوث ملزمان کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد نہ تو کسی دوسرے کا اصل نام جانتے ہیں اور نہ ہی کسی کے گھر سے واقف ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ دہشت گرد موبائل بھی استعمال نہیں کرتے جبکہ اس حملہ کا مقصد عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنا تھا ۔ دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حملہ کے وقت 10 دہشت گردوں کے پاس اسلحہ موجود تھا جن میں 2 کلاشنکوف اور 8 نائن ایم ایم پستول شامل تھی ۔ سانحہ صفورہ کے وقت 4 دہشت گردوں نے بس میں سوار افراد پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے ۔ ذرائع کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ سانحہ کے گرفتار ملزمان کا جھوٹ پکڑنے والی مشین کے ذریعے پولی گرافک ٹیسٹ لیا جا رہا ہے تاہم مزید حقائق منظر عام پر آنے کی امید کی جا رہی ہے ۔

سانحہ صفورا

مزید : صفحہ آخر