دریائے راوی میں ڈوبنے والے دوبچوں کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا

دریائے راوی میں ڈوبنے والے دوبچوں کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا

سیدوالہ (نامہ نگار )سید والہ پتن کے قریب دریائے راوی میں ڈوبنے والے 3میں سے دوبچوں کی نعشیں دوسرے روز بھی نہ مل سکیں ننکانہ صاحب سے آنے والی ریسکیو 1122کی ٹیم نے دن 1بجے سے شام 6بجے تک دریا میں سرچ آپریشن کیا لیکن کسی کو تلاش نہ کر سکے ڈوبنے والے بچوں کے والدین اور دیگر عزیز وقوعہ کے وقت سے ہی دریا کے کنارے بیٹھے ہیں رات کے وقت آنے والی شد ید بارش اور آندھی کے طوفان میں بھی دونوں مائیں دریاکے کنارے پر ہی بیٹھی رہیں مائیں اپنے جگر گوشوں کے جسد خاکی ملنے کی امید میں بغیر کسی سائے کے شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں امید بھری نظروں سے دریا کی طرف دیکھ رہی ہیں ۔انتظامیہ کی طرف سے دوسرے روز بھی کوئی افسر جائے حادثہ پر نہیں آیا اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے ورثا کے لئے خیمہ وغیرہ کا بندوبست کیا گیا ۔ کراچی سے آنے والی کرن بی بی اور رئیسہ بی بی دونوں بہنیں اپنے بچوں کو زور زور سے آوازیں دیکر اچانک دریا کی جانب دوڑ پڑتی ہیں جنہیں بمشکل قابو کیا جاتا ہے واضح رہے کہ گذشتہ روز سیدوالہ پتن کے قریب نواحی گاؤں چک نمبر 17/70کے رہائشی محمد ارشد کا 7سالہ بیٹا عبدالصمد اور کراچی سے مہمان آئی 7سالہ زہرہ اور 22سالہ رکشہ ڈرائیور رانا ابرار دریا میں نہانے کے لئے داخل ہوئے اور ڈوب گئے تھے ابرار کی نعش 4گھنٹے بعد مل گئی تھی جبکہ دیگر دونوں بچوں کی نعشیں تاحال نہیں مل سکیں ۔

دریائے راوی

مزید : صفحہ آخر