بادامی باغ، اوباش نوجوانوں کی فائرنگ سے زخمی ٹیچر دم توڑ گیا، لواحقین کا احتجاج

بادامی باغ، اوباش نوجوانوں کی فائرنگ سے زخمی ٹیچر دم توڑ گیا، لواحقین کا ...
بادامی باغ، اوباش نوجوانوں کی فائرنگ سے زخمی ٹیچر دم توڑ گیا، لواحقین کا احتجاج

  

لاہور(ملک خیام رفیق ) بادامی باغ کے علاقے میں 2روز قبل اوباش نو جوان کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا30سالہ ٹیچر گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانے میں منتقل کر دیا ،مقتول کے لو احقین نے احتجاج کرتے ہو ئے لو ہے والی پلی کے قریب سے مین روڈ بلاک کردی۔ بتایا گیا ہے کہ بادامی باغ کے علاقے ستار شاہ کالونی کا رہائشی 30سالہ حیدر مقامی اکیڈمی میں پڑھاتا تھا جہاں مدثر عرف چاند اکیڈمی کے باہر کھڑا ہو کر طالبات کو چھیڑتا رہتا تھا ۔مقتول حیدر نے دو روز قبل مدثر کو وہاں کھڑا ہونے سے منع کیا جس پر مدثر نے اس سے لڑنا شروع کر دیا، اس دوران علاقہ کے معززین نے دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کر کے مدثر کو وہاں سے بھجوا دیا۔ 2روز قبل حیدر اپنے دوست کاشف کے ہمراہ گھر کے باہر کھڑا تھا کہ مدثر وہاں مسلح ہو کر آ گیا اور حیدر پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں حیدر اور کاشف گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گئے اور ملزم ہوائی فائرنگ کرتا ہوا موقع سے فرار ہو گیا، اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال میں منتقل کر دیا جہاں حیدر زخموں کی تاب نہ لا تے ہو ئے دم توڑ گیا۔مقتول کے بھائی سلیم نے ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ میرے بھائی کو کاشف نے سازش کر کے مدثر کے ہاتھوں قتل کر وایا ہے اور مقدمہ سے بچنے کے لئے بعد ازاں خود کو بھی گولی مروالی ۔ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کر کے ملزمان کو سخت سزا دی جائے ۔

مزید : علاقائی