شرقپور: پولیس کادیہاتیوں پر وحشیانہ تشدد، میڈیا کو کوریج سے روک دیا گیا

شرقپور: پولیس کادیہاتیوں پر وحشیانہ تشدد، میڈیا کو کوریج سے روک دیا گیا

ٍشرقپورشریف(نامہ نگار)ڈی ایس پی فیروزوالہ کی قیادت میں پولیس کا دیہاتیوں پر وحشیانہ تشدد ،ہوائی فائرنگ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کردیا، لوگوں کے گھروں میں اینٹیں اور روڑے برسائے ۔رکشے اور موٹر سائیکلیں توڑ دیں اور صحافیوں کے کیمرے بند کروادیئے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب مڑھ بھنگواں پولیس چوکی کے چار اہلکاروں نے تربوز چوری کے شبہ پرناظر لبانہ گاؤں میں جمال دین کے نوکر کوگرفتار کرنے کے لیے اس کے گھر چھاپہ مارا اور گھر میں داخل ہوکر خواتین اور بچوں پر تشدد کیا اور ہوائی فائرنگ کی جس پر ایک بجے دوپہر گاؤں کے تقریبا ساٹھ افراد جن میں خواتین ،بچے،بوڑھے اور نوجوان شامل تھے جنہوں نے شیخوپورہ شرقپور روڈ پر ناظر لبانہ سٹاپ پر ٹائروں کو آگ لگا کر روڈ کو بلاک کر دیا اور پولیس کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ، جس پر تھانہ شرقپور پولیس ،مڑھ بھنگواں جس پر پولیس کے اعلی حکام کو اطلاع دی گئی جس پر 2بجے کے قریب ڈی ایس پی فیروزوالہ سرکل احسان الہی کھوکھرسرکل کے تمام تھانوں کے اہلکاروں کو لے کر موقع پر پہنچ گئے اور ڈی ایس پی نے آتے ہی اہلکاروں کو حکم دیا کہ ان کو آج پکڑ لو کوئی جانے نہ پائے جس پر پولیس نے فائرنگ کرتے ہوئے دیہاتیوں پر ٹوٹ پڑی اور پولیس نے لاٹھیوں اور رائفلوں کے بٹوں کے ساتھ وحشیانہ تشدد شروع کردیا جس سے تین افراد بے ہوش ہوگئے اس دوران پولیس اہلکاروں نے صحافیوں سے زبردستی کیمرے بند کروادیئے کہا کہ عزت اس میں ہے کہ میڈیا کوریج نہ کرے اور پولیس نے دیہاتیوں کے گھروں میں داخل ہوکر خواتین،بچوں اور بوڑھوں پر تشدد شروع کردیا جس سے سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے اور پولیس اہلکار زبردست کھیتوں میں کام کرنے والے دیہاتیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی اور لاہور پولیس کے ایک اہلکار کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کرلیا اور پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا اور کئی افراد کو تھانہ شرقپور میں بند کر دیا اور متعدد افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔

مزید : علاقائی