چودھری محمد سرورفیروز والہ میں

چودھری محمد سرورفیروز والہ میں
چودھری محمد سرورفیروز والہ میں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان کے طرزِ سیاست سے اتفاق نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ان کے ارد گرد ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو دھرنے اور الزمات کے علاوہ بہت سی چیزوں کو اپنی سیاست کا مرکز و محور بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھیوں میں حال ہی میں شامل ہونے والے چودھری محمد سرور بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو مثبت سیاست کے علم بردار ہیں۔ وہ قومی خدمت اور سیاست کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ جب انہوں نے پنجاب کے گورنر کا عہدہ سنبھالا تھا تو ان کی انقلابی باتیں سن کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کان نمک میں جا کر نمک ہونے والے نہیں۔ انہوں نے بڑے گھر میں بیٹھ کر بھی چھوٹے لوگوں کی بات کی۔ بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ انہوں نے استعفا دیا اور اپنے کرائے کے گھر میں آ گئے۔ لیکن انہوں نے اپنے کرائے کے گھر کو اپنی آرام گاہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک ’’ہیلی پیڈ‘‘ بنا دیا۔ یہاں سے انہوں نے اپنی اگلی پرواز کا آغاز کیا اور تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ بہت سے لوگ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کو مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک نقصان قرار دیتے رہے لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف میں جا کر اس کی قیادت کو سنجیدگی اور ٹھہراؤ کی سیاست کی طرف مائل کیا۔ شاید یہی سبب ہے کہ پچھلے کئی ماہ سے دھرنوں کی سیاست کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا۔ یوں در اصل چودھری سرور صاحب نے در اصل مسلم لیگ (ن) کی راہ کے کانٹے سمیٹے ہیں۔ چودھری صاحب ان دنوں مختلف علاقوں میں جا کر تحریک انصاف کے راہ نماؤں کی اپنی تراشی ہوئی نئی راہ دکھا رہے ہیں۔

چند روز قبل وہ مجھے لاہور کے مضافات میں شیخوپورہ کے علاقے فیروز والہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بھلے ڈسنوال میں دکھائی دیئے۔ شدید گرمی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ان کا ڈھول بجا کر استقبال کیا۔ انہیں میرے دوست اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنما علی اصغر بھلہ نے ایک جلسہ عام میں مدعو کیا تھا۔ بھلّہ صاحب پنجاب کے حلقہ پی پی 164 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ہیں۔ وہ ان دنوں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ان کے کچھ ساتھی پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اس پس منظر میں، اس چھوٹے سے علاقے میں چودھری محمد سرور کا آنا ایک بڑی بات ہے اور اس بات کا اشارہ بھی کہ اس بار پی ٹی آئی، انتخابات کے اکھاڑے میں پوری تیاری سے اترنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جب میں علی اصغر بھلّہ کی دعوت پر جلسہ گاہ میں پہنچا تو پی ٹی آئی کے کارکن شدید دھوپ اور گرمی میں عمران خان اور چودھری سرور کی تصویریں لئے کھڑے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ چودھری سرور نے اپنے خطاب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے طرزِ حکمرانی کو یاد کیا تو مجھے تاریخ نے بہت سے مناظر دکھا دیئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ وہ خلیفہ تھے جنہوں نے اپنے خاندان کو مفت میں ملنے والی ساری جاگیریں واپس کر دی تھیں اور دوسروں سے بھی واپس لے لی تھیں۔ اقربا پروری کو انہوں نے جڑ سے اُکھاڑ پھینکا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا عرصہ اقتدار بہت مختصر ثابت ہوا۔ انہیں کئی بار زہر دینے کی کوشش کی گئی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ترکے میں انہوں نے صرف سترہ دینار چھوڑے جن میں سے کچھ ان کی تجہیز و تکفین پر خرچ ہو گئے اور جو بچ گئے وہ ان کی اولاد میں تقسیم ہو گئے۔

چودھری محمد سرور صاحب! ہم آج حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے زمانے میں خود تو جا سکتے ہیں لیکن اس زمانے کو واپس نہیں لا سکتے کیونکہ آج کی سیاست، کاروبار بن چکی ہے۔ آپ کے لیڈر کے اردگرد کھڑے زیادہ تر لوگ ارب پتی ہیں۔ جب تک آپ علی اصغر بھلہ جیسے خدمتِ خلق کی سیاست کرنے والوں کو آگے نہیں لائیں گے تب تک آپ کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی آپ کو اب ہر شہر میں اسی طرح جانا ہوگا اور وہاں علی اصغر بھلّہ جیسے بہت سے لوگ تلاش کرنا ہوں گے۔ اگر آپ کی جماعت نے بھی صرف کاروباری لوگوں کو ٹکٹ دیئے تو کل آپ بھی انہی الزامات کی زد میں ہوں گے جو آج آپ مسلم لیگ (ن) پر لگاتے ہیں۔

مزید : کالم