ایف بی آر کو غیر سیاسی اور خود مختار ہونا چاہیے: خواجہ خاور رشید

ایف بی آر کو غیر سیاسی اور خود مختار ہونا چاہیے: خواجہ خاور رشید

انٹرویو:صبغت اللہ چودھری

عکاسی: ندیم احمد

خواجہ خاور رشید سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے لائف ممبر ہیں، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مجلس عاملہ کے رکن ہیں اور وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کی لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین ہیں،وہ مسلم لیگ(ن) تاجر ونگ پنجاب کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔ انہوں نے 1979 ء میں اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجوایشن کی اور مینجنگ پارٹنر کی حیثیت سے ’’لاہور ایسنس ہاؤس‘‘ جائن کر لیا، یہ کمپنی ان کے والد خواجہ محبوب الٰہی کی زیر نگرانی کام کرتی ہے، یہ پنجاب کی واحدٹریڈنگ کمپنی ہے جسے موڈی انٹرنیشنل نے آئی ایس او"9001-2000" سرٹیفکیٹ دے رکھا ہے، وہ کیمیکل اور ڈائز مرچنٹ ایسوسی ایشن کے لائف ممبر ہیں،2003ء سے 2008 ء تک اس ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔وہ لاہور ایم جے ایف لائنز کلب کے موجودہ صدر ہیں اور ڈسٹرکٹ 305۔این I لائنز کلب کے ڈسٹرکٹ چیئرمین رہ چکے ہیں، انہوں نے لاہور ایم جے ایف لائنز کلب کے صدر کی حیثیت سے مظفر آباد(آزاد کشمیر) کے زلزلہ زدگان اور سوات کے متاثرین کی بحالی کے لئے بہت کام کیا،خواجہ خاور رشید نے بہت سے بیرونی ملکوں کے دورے کئے ہیں ، وہ لائنز کلب اور سارک چیمبر کے دنیا بھر میں سیمیناروں اور کنونشنوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور عالمی بزنس کانفرنسوں اور نمائشوں میں شریک ہوتے ہیں۔ لاہور چیمبر کی لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کا پولیس اور شہریوں کی رابطہ کمیٹی (سی سی پی او) سے قریبی رابطہ رہتا ہے ، وہ کاروباری برادری کی خدمت کے لئے ہر وقت کوشاں اور مستعد رہتے ہیں۔روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ نے ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں وفاقی بجٹ 2014-15 ء سمیت ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال، صنعتوں کے مسائل اور تجارتی سرگرمیوں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی، نشست کا احوال نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کر 12فیصد پر لے کر آئے،گیس ٹیکس واپس لیا جائے ،سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا جائے اور کم از کم تنخواہ کا ہدف 15ہزار مقرر کیا جائے۔ حکومت نے بجٹ میں سیلز ٹیکس بڑھا دیا ہے جس کا عام آدمی پر متاثر ہوتا ہے۔حکومت نے گیس اورٹیکس چوروں کو نہیں پکڑا اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے اگر عوام کو فائدہ پہنچانا ہے تو مہنگائی کم کریں،ایف بی آر کو غیر سیاسی اور خود مختار ہونا چاہیے اس کے بغیر ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔انہوں نے بجٹ میں خیبرپختونخوا کی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دینے کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے وہاں کی کاروباری سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے سیلز ٹیکس کی زیرو فیصد تجویز تسلیم نہیں کی ہے جس سے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کے مسائل کم نہیں ہو گے۔ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے حکومت کو ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کرنا چاہیے تھا جبکہ لاجر سکیل مینو فیکچرنگ میں اضافے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کرنے کا اعلان بھی ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فارماسیوٹیکل شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ حکومت کو ان ڈائریکٹ ٹیکسز کم کرکے ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی بحران کی وجہ سے بیمار صنعتوں کیلئے کسی قسم کی مراعات کا اعلان نہیں کیا ہے،تاجربرادری نے اربوں روپے کے ریفنڈ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے برآمدات پر زیرو فیصد سیلز ٹیکس کا مطالبہ تسلیم نہ کرکے ملکی برآمدات کے اضافے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔خواجہ خاور رشید کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے آسان طریقہ کارواضح کریں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیوایف بی آر کے جو ضلع اور تحصیل کی سطح پر آفسز ہیں اس کے عملے کو چھوٹے تاجروں اور فیکٹروں کے مالکان جو ٹیکس ادا نہیں کر رہیں ان کے پاس جا کر ان کو خلوص نیت سے ٹیکس ادا کرنے کے فوائد بارے آگاہی دینی چاہیے۔ تاجروں اور صنعت کاروں پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔ خواجہ خاور نے کہا کہ جب تک ایف بی آر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکسوں کے ہدف کو پورا نہیں کریگی عوام کے لئے ترقیاتی کام بروقت مکمل نہیں ہو سکیں گے ، انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے موجودہ سیلز ٹیکس نظام کے تحت ملک کا ہر فرد ٹیکس ادا کر رہا ہے تو پھر مراعات یافتہ طبقہ کو ٹیکس استثنیٰ دینا غریب عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ خام مال کی درآمد پرعائد تمام ڈیوٹیاں ختم کی جائیں اور سیلز ٹیکس کی شرح کم کرکے 8فیصد کی جائے،سی این آئی سی نمبر کو ہی این ٹی این نمبر تصور کیا جائے۔اسمگلنگ ہماری معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،اسکی روک تھام کیلئے حکومت آہنی اقدام کرئے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت میں کمی،ملازمتوں کے نئے مواقع اور صنعتکاروں کا عمل تیز کرنے کیلئے ہمیں جی ڈی پی گروتھ کو موجودہ 4% سے بڑھا کر مسلسل کئی سال7%تک لے کر جانا ہو گا جیسا کہ بھارت اور چین گزشتہ کئی سالوں سے اپنی جی ڈی پی گروتھ 7%سے زیادہ حاصل کر رہے ہیں۔ہمیں بھی اتنی گروتھ حاصل کرنے کیلئے ملک میں انرجی کا بحران اور امن وامان کی صورتحال پر جلد از جلد قابو پانا ہو گا۔ خاور رشید نے مزید کہا کہ وہ اشیاء جو سمگل ہو کر پاکستان غیر قانونی طور پر آتی ہیں ان پر سختی کی جائے اور اشیاء پر ڈیوٹیاں کم کی جائیں تاکہ قانونی طریقے سے یہ مال امپورٹ ہواور سرکاری خزانے میں بھی کروڑوں روپے وصول ہوں انہوں نے کہا کہ ،سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا جائے اور کم از کم تنخواہ کا ہدف 15ہزار مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں سیلز ٹیکس بڑھا دیا ہے جس کا عام آدمی پر متاثر ہوتا ہے۔حکومت نے گیس اورٹیکس چوروں کو نہیں پکڑا اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے اگر عوام کو فائدہ پہنچانا ہے تو مہنگائی کم کریں،ایف بی کو غیر سیاسی اور خود مختار ہونا چاہیے اس کے بغیر ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی تاجر اور صنعت کار دوست پالیسیوں کے باعث ملک میں معاشی واقتصادی سرگرمیوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اس حوالے سے وزیر اعلی شہباز شریف کی معیشت اور صنعت سازی کے فروغ کی جانے والی کاوشوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ، موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو ہر طرف مسائل کے انبار لگے ہوئے تھے ہر طرف دہشت گردی اور خود کش حملوں کا راج تھا ، بجلی اور گیس کا بحران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا ، بے روز گاری اور افراتفری نے عوام کا جینا محال کر دیا تھا ، لیکن موجودہ حکومت نے اپنی عوام دوست پالیسیوں کی وجہ سے انتہائی قلیل دور اوقتدار میں حالات پر قابو پانا شروع کر دیا ہے اور ملک کو معاشی ترقی کی جانب رواں دواں کر دیا ہے ، خواجہ خاور رشید نے بتایا کہ حکومت تو عوام تاجروں اور صنعت کاروں کے لئے مثبت پالیسیاں بنا رہی ہے لیکن بیورکریسی اسکی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے لہذا حکومت کرپٹ بیوکریسی کے خلاف فوری ایکشن لیتے ہو ئے ملک کوسالانہ اربوں روپے ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں اور فیکٹری مالکان کے خلاف جاری چھاپوں کے سلسلہ کو فوری طور پر رکوانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ، انہو ں نے کہا کہ ملک میں ایل این جی کی امپورٹ حکومت کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ، اسکی وجہ سے نہ صرف انرجی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ پیداواری لاگت میں کمی سے ایکسپورٹ کا گراف بڑھانے سے ملک کے زر مبادلہ میں مزید اضافہ ہو جائے گا ، ایل این جی سے ملک میں انڈسٹری بڑھے گی جس سے روز گار کے مواقع بڑھنے سے بے روگاری میں کمی آنے سے ملک میں لااینڈ آرڈر کی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ، لیکن ان حالات میں ایف بی آر تاجر دوست پالیسیاں بنانے کی بجائے تاجروں اور فیکٹری مالکان کو غیر ضروری نوٹس جاری کئے جارہے ہیں جسکی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ رہی ہے جسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ سرمایہ باہر منتقل ہونے سے ملک کو نقصان ہو گا ، انہو ں نے کہا کہ ملک میں اسوقت سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد ہے جو دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ، سیلز ٹیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سمگلنگ اور کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے انہو ں نے کہا کہ کمرشل امپورٹرزپہلے مرھلے میں ہی 3فیصد ٹیکس ادا کر دیتے ہیں لہذا انکو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ،جبکہ قومی شناختی کارڈ کو ہی این ٹی این کا درجہ دے دیا جائے کیونکہ اب ملک کا ہر فرد کسی نہ کسی صورت میں روزانہ کی بنیاد پر سیلز ٹیکس ادا کر رہا ہے ، انہو ں نے کہا کہ ملک میں ویلتھ ٹیکس کولاگو نہ کیا جائے اس کی وجہ سے سرمایہ کاری ملک سے باہر چلی جائے گی جس سے ریونیو میں نقصان ہو گا ، انہو ں نے تجویز دی کہ اگر ویلتھ ٹیکس لگانا ضروری ہے پراپرٹی کی خریدو فروخت کے موقع پر ایک مرتبہ ٹیکس وصول کر لیا جائے ، اور دبئی کی طرز پر اسکی مختلف اقسام تشکیل دے دی جائیں جس سے ریونیو میں اضافہ ہو جائے گا ، انہو ں نے کہا کہ حکومت نے کافی حد تک ایس آر او کلچر ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے لیکن ایس آر او608کو بھی ختم کر دیا جائے ، انہو ں نے کہا کہ بینکوں سے رقوم نکلوانے پرo.5فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے اسکو کم کرکے0.2کیا جا ئے اور رقم کی حد50000ہزار سے200000لاکھ مقرر کی جائے انہو ں نے کہا کہ اسکی وجہ سے کھاتہ داروں نے رقوم لاکرز میں رکھنا شروع کر دی ہیں اسکی وجہ سے کرائم میں اضافہ ہو گا ۔

مزید : ایڈیشن 2