آبی جارحیت کے بعد۔۔۔ بھارت کی پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت!

آبی جارحیت کے بعد۔۔۔ بھارت کی پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت!

بھارتی حکمرانوں کی پریشانیوں کا باعث بننے والی پاک چین اقتصادی راہداری اور اکنامک زون کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے کوششیں کسی سے بھی چھپی نہیں رہی ہیں۔ اقتصادی خوشحالی کے منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے مین گیٹ کھلیں گے نریندر مودی سرکار کی گھبراہٹوں، الزام تراشیوں اور پریشانیوں کی اصل وجہ گوادر بندرہ گاہ کا اپریشنل ہونا پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کی تعمیر کا معاہدہ اور پاکستان کی موجودہ حکومت سیاست دانوں اور عوام میں بڑھتی ہوئی یکجہتی ہے۔ اقتصادی کوریڈور کی تعمیر ک معاہدہ کوئی وقتی اور جزباتی فیصلہ نہیں بلکہ دونوں حکومتوں نے سوچ سمجھ کر اس شاہ راہ ترقی و خوشحالی کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے ،کسی تیسرے ملک کی گیدڑ بھبھکیوں سے اس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا نہیں کی جا سکتی۔ نریندر مودی سرکار کے وزیروں مشیروں کی پروپیگنڈا مشینری کے تیل جلد ختم ہو جائے گا اور انہیں پشیمانیوں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آ ئے گا۔ نریندر مودی سرکار اپنی فطرت کے مطابق پاکستان کو بد امنی، بے اتفاقی انتشار اور اقتصادی بد حالی کی دلدل میں پھنسا دیکھنا پسند کرتے تھے جس کے لئے دھشت گردوں اور را کے ہمنواوں اور قوالوں کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں .تاکہ اندرون ملک سے سرمایہ کار دیگر ملکوں کا رخ کر لیں اور خارجہ سرمایہ کاری پاکستان کی طرف رخ نہ کریں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاک وطن کی سلامتی اور تحفظ کے لئے شہادت جذبوں سے سرشار افواج پاکستان کے جوانوں نے ضرب عضب اپریشن میں بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے اسی طرح ’’را‘‘ کے ایجنٹوں اور ان کے ہمنواوں نے کراچی کا امن تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔نریندر مودی اور ان کے وزراء خواہ مخواہ پاکستان کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی بجائے اپنے غریب عوام کی غربت و عسرت کم کرنے پر توجہ مرکوز کریں،کیونکہ بھارت کے آئندہ الیکشن میں بھارتی عوام نے یہ نہیں دیکھنا کہ نریندر مودی حکومت نے کس کس ملک کے معاملات میں پھڈا ڈالا،بلکہ وہ نریندر سرکاری کی حقیقی کارکردگی کو دیکھیں گے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مودی سرکار دھمکیاں دینے اور پھرتیاں دکھانے کی بجائے کچھ کر لے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہپاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا،اس سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا، خنجراب سے گوادر تک تمام علاقے مستفیدہوں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی منفرد جغرافیائی حیثیت ہے اور اپنی جغرافیائی اہمیت کو پاکستانی عوام اور خطے کی فلاح کے لئے استعمال کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم توانائی، آبی وسائل اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں علاقائی تعاون کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمارا خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اس خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا اور یہ منصوبہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا فائدہ صرف پاکستان اور چین کو ہی نہیں پورے خطے کو ہوگا۔ اس منصوبے سے خنجراب سے گوادر تک کے تمام علاقے مستفید ہوں گے ۔ چین نے اس منصوبے کے لئے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کی سرمایہ کاری پاکستان میں ترقی کی راہ ہموار کرے گی اس سے ہماری معیشت مضبوط ہوگی۔ حکومت نے اپنے نئے بجٹ میں 300ارب سے زائد کی رقم پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے لئے مختص کی ہے۔ اس خطیر رقم کا اجراء منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق ہمارے عزم کی دلیل ہے۔ مُلک کی تمام سیاسی جماعتیں پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے متفق ہیں، ہم نے اس منصوبے پر ملک کی ساری جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے ایشیائی ترقیاتی بنک سمیت مختلف عالمی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

معاشی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے سفارت بہترین ذریعہ ہے۔ وزیراعظم نے سفراء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے میزبان ملکوں میں پاکستان کی معاشی بہتری اور روشن مستقبل کو اجاگر کریں اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور دوسرے ملکوں کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری پر توجہ دیں گے گوادر کو خلیجی ممالک کی طرح ڈیوٹی فری زون بنائیں گے،کسی ایک صوبے میں نہیں چاروں صوبوں میں موٹروے بنائے جا رہے ہیں گوادر کو خلیجی ملکوں کی طرح ڈیوٹی فری پورٹ بنانا چاہتے ہیں۔گوادر کو دبئی اور سنگاپور جیسی بندرگاہ بنائیں گے۔اس بندر گاہ کو پورے ملک کا تجارتی مرکز بنائیں گے ۔تاجکستان بھی گوادر پورٹ تک آنا چاہتاہے اور رسائی کا خواہش مند ہے ۔ہم نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مغربی روٹ کے لئے 30ارب روپے مختص کئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہنا تھا کہ عطاء آباد جھیل سے متاثرہ علاقے میں ایک سرنگ بن رہی ہے جس پر 26ارب روپے خرچ ہورہے ہیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا عظیم منصوبہ پاکستان کے 18کروڑ عوام کے لئے ہے۔منصوبے سے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سمیت پورے مُلک کے عوام مستفید ہوں گے اوراس منصوبے پر ملکر کام کرکے پاکستان کوعظیم ملک بنائیں گے۔چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے منصوبے سے پاکستان ہی نہیں، بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی استفادہ کریں گے اور خطے میں معاشی و تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔ بھارت کی مودی سرکار کاچائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے منصوبے کے بارے میں واویلا اور اعتراض بلاجواز ہے۔چین کی بھارت کے ساتھ 75ارب ڈالر کی تجارت ہے اور چین نے بھارت میں توانائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے، لیکن پاکستان نے آج تک اس کے بارے میں نہ کبھی کوئی اعتراض کیا اور نہ ہی کوشکایت کیونکہ ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں۔بھارت کی مودی سرکار کو بھی خطے کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے حوالے سے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے اور اس پر سیخ پا نہیں ہونا چاہئے ۔چین کا پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تاریخی پیکیج دراصل چینی قیادت کاپاکستان کی عوام سے والہانہ محبت اوروزیراعظم نوازشریف کی پالیسیوں پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اورکوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ہم دن رات محنت کر کے منصوبے پر عملدر آمد کریں گے تو انشا اللہ راستے خود بخود کھلتے جائیں گے اور اعتراض کرنے والے خود خاموش ہوجائیں گے۔وہ لمحہ آگیا ہے جب 18کروڑ عوام سرخروہوں گے اور اغیار سرنگوں،انشا اللہ ہم سب مل کراپنا اوردوستوں کا سر فخر سے بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے بجٹ میں خطیر رقم رکھی گئی ہے۔داسوڈیم اوردیامیر بھاشا ڈیم کے لئے اراضی خریدنے کے لئے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔انشااللہ جب یہ ڈیم بنیں گے تو ہزاروں میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا منصوبہ پاکستان اور چین کے مابین مضبوط معاشی روابط کا ذریعہ بنے گااوریہ منصوبہ تاریخ کا دھارا بدل دے گا۔ چین کی جانب سے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راستہ کھول دیا ہے۔ سی پیک کے تحت 11ارب ڈالر انفراسٹرکچر اور 33ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں پر صرف کیے جا رہے ہیں ۔ منصوبے سے تمام صوبوں کے عوام کو فائدہ ہوگا اور یہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین رابطوں کا ذریعہ بنے گامناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث پاکستان میں پانی کی صورت حال روز بروز سنگین ہو رہی ہیفغانستان میں جاری جنگ اور ملک میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو گزشتہ 14سال کے دوران 107 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔اکنامک سروے برائے سال 2014-15ء کے مطابق نائن الیون کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد پاکستان کو داخلی سطح پر شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا، امریکی اور اتحادی افواج کی افغانستان آمد کے بعد افغان باشندوں کی بڑی تعداد پاکستان میں پناہ گزین ہوگئی، جس کی آڑ میں ملک دشمن عناصر اور دشمن کے جاسوس بھی پاکستان میں متحرک ہوگئے اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا، ان کاررائیوں کے نتیجے میں پاکستان کو قیمتی جانی نقصان کے ساتھ املاک اور معیشت کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو برآمدات میں کمی، متاثرین کی بحالی کے لئے اضافی اخراجات، طبعی انفرااسٹرکچر کی بربادی، غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی، نج کاری کے منصوبوں کا التوا، صنعتی پیداوار میں کمی، ٹیکس وصولیوں میں کمی، غیر یقینی حالات کے نقصانات سمیت جاری اخراجات میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا، ان سب عوامل کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 14سال کے دوران 106ارب 98کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا، موجودہ حکومت کے 2 سال کے دوران دہشت گردی کی وجہ سے معیشت کو 11.16ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، مالی سال2013-14ئمیں دہشت گردی کی وجہ سے معیشت کو 6.63 ارب ڈالر جبکہ مالی سال2014-15ء کے دوران 4.53 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑارپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے آغاز کے بعد سے صورت حال کافی حد تک بہتر ہورہی ہے تاہم 14سال کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے اور معیشت کی مکمل بحالی کے لئے پاکستان کو بھرپور وسائل کی ضرورت ہیمناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث پاکستان میں پانی کی صورت حال روز بروز سنگین ہورہی ہے، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی سے قومی معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ،عالمی مالیاتی فنڈ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے ،آبادی میں مسلسل اضافے سے پانی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کوسخت موسمی حالات، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل بھی درپیش ہیں،جس سے زراعت ، لائیوسٹاک اورپانی کے انفراسٹراکچر کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ ڈیمزکی کمی کی وجہ سے پانی کی وافر مقدار بھی ذخیرہ نہیں کی جاسکتی ،رپورٹ کے مطابق ملک میں قدرتی وسائل اور آب پاشی کا بہترین نظام موجود ہے، جنہیں جامع پالیسی اورمناسب انتظامات کے ذریعے مزید بہتر کیا جاسکتا ہے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کیلئے پاکستانی حکومت کو زراعت کے شعبے میں بھی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ زرعی ماہرین نے کہاہے کہ چاول پاکستان کی تیسری بڑی اور اہم ترین فصل ہے جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 1.6 فیصد سے بھی زیادہ ہے نیز چین، بھارت، انڈونیشیاکے بعد پاکستان چاول پیداکرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لہٰذا دھان کے کاشتکار چاول کی فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں، کیونکہ پانی کی کمی چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ماہرین نے بتایاکہ جو کاشتکار محکمانہ سفارشات پر عمل کرتے ہیں انہیں فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ حاصل ہوتاہے ۔ ماہرین نے کہاکہ اچھی پیداوار کیلئے ضروری ہے کہ 9،9 انچ کے فاصلے پر 2،2پودے لگائے جائیں اس طرح ایک ایکڑ میں سوراخوں کی تعداد 80ہزار اور پودوں کی تعداد ایک لاکھ 60ہزار ہو جاتی ہے۔ کھادوں کا بروقت استعمال بھی اشد ضروری ہے کیونکہ زنک اور بوران کی کمی چاول کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ مزید رہنمائی کے لئے محکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف سے بھی رابطہ کیاجاسکتاہے۔

مزید : ایڈیشن 2