یہ جوڈیشل نہیں انکوائری کمیشن ہے ، تحریک انصاف کی درخواست سے مطمئن نہیں : جسٹس ناصر الملک

یہ جوڈیشل نہیں انکوائری کمیشن ہے ، تحریک انصاف کی درخواست سے مطمئن نہیں : ...
یہ جوڈیشل نہیں انکوائری کمیشن ہے ، تحریک انصاف کی درخواست سے مطمئن نہیں : جسٹس ناصر الملک

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )الیکشن 2013 ءمیں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کاروائی کے دوران چیف جسٹس ناصر الملک نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ دھاندلی کی تحقیقات کر رہے ہیں ، یہ جوڈیشل کمیشن نہیں ، انکوائری کمیشن ہے جبکہ وہ تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست سے مطمئن نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن 2013 ءکی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے آج کاروائی کی جس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کی جانب سے کہا گیا کہ یہ انکوائری نہیں جوڈیشل کمیشن ہے۔ اس پر چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے تحریک انصاف کی درخواست سے مطمئن نہیں۔ یہ انکوائری کمیشن ہے ، جوڈیشل نہیں، دھاندلی کی انکوائری ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ کمیشن نے اپنی کارروائی سیاسی جماعتوں کی معاونت سے آگے بڑھائی ہے اسی لیے تحریک انصاف کی درخواست پر ملک بھر سے فارم 15 منگوائے گئے۔ اس بات پر پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا متعدد پولنگ سٹیشنز کے فارم 15 نہیں آئے جبکہ بعض حلقوں میں بہت زیادہ اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے اور ایک کروڑ 10 لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ بلوچستان میں کبھی 20 فیصد سے زیادہ ٹرن آو¿ٹ نہیں رہا لیکن عام انتخابات 2013 میں بلوچستان کا ٹرن آو¿ٹ 40 فیصد رہا۔اس کے جواب میں چیف جسٹس ناصرالملک نے اپنے ریمارکس میں کہا فارم 15 سے انکوائری کمیشن کو کوئی معاونت نہیں ملی۔

آج کی اس کاروائی کے دوران سابق نگران وزیراعلیٰ بلوچستان غوث بخش باروزئی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور کمیشن کو بتایا کہ وہ عام انتخابات 2013 ءکے دوران نگران وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کمیشن کے سامنے بیان دیا کہ شکست کے ذمہ دار چیف سیکریٹری بلوچستان اور مقامی انتظامیہ تھی۔ غوث بخش باروزئی نے کہا انہوں نے عام انتخابات کو غیر شفاف قرار نہیں دیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ بلوچستان میں'استادی'ہوئی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا استادی کا لفظ لکھنے کیلئے انگریزی کا لفظ نہیں ہے ، ہم استادی کے لفظ کو استادی ہی لکھ لیتے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں