پاکستان بچانے کیلئے حمید گل نے نیا فارمولا پیش کر دیا

پاکستان بچانے کیلئے حمید گل نے نیا فارمولا پیش کر دیا
پاکستان بچانے کیلئے حمید گل نے نیا فارمولا پیش کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ویب ڈیسک) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ پاکستان کا امن، استحکام اور پاکستان کے اداروں کی عزت و احترام کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی سلامتی اور وقار میرے نزدیک انتہائی اہم ہے۔ ملکوں کے آئین بدلتے رہتے ہیں اور اس کا باقاعدہ طور پر طریق کار موجود ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ متفقہ طور پر منظور شدہ آئین میں بھی بیسیوں ترامیم ہوچکی ہیں۔ یہ کہنا کہ آئین کے بارے میں کوئی تنقید نہیں کی جاسکتی از خود جہالت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رضا ربانی صاب نے میرے بارے میں جو یہ کہا ہے کہ میں لوگریڈ آدمی ہوں، یہ خود کسی بھی باعزت آدمی کیلئے شایان شان نہیں ہے، کیونکہ ہر شخص باعزت ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ حضرت علیؓ کے قول کے مطابق کہ ”یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے۔“ اللہ کے فضل سے میں نے محنت اور دیانت داری سے فوج کی خدمت کی ہے۔ پاکستان کی خدمت کی ہے اور بات کرتے وقت میرا لہجہ ایسا نہیں ہوتا جیسے کوئی ماتم کررہا ہوں اور آنسو بہارہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں ربانی صاحب کا اس لئے احترام ہے کہ ان کے والد عطا ربانی بانی پاکستان حضرت قائداعظم کے اے ڈی سی تھے ورنہ بہت سے لوگ اسمبلیوں اور سینٹ میں آتے ہیں اور حکومتوں میں رہتے ہیںلیکن قدرت انہیں توفیق نہیں دیتی کہ وہ کوئی مثبت کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے محب وطن شہری کی حیثیت سے میرا یہ کہنا حق بجانہ ہوگا کہ آج ملک میں اداروں کی، گورننس کی، فوج کی بے لوث خدمات کی کوئی قدر نہیں کی جارہی۔ اور روز بروز پاکستان کے عوام کے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام کی جگہ براہ راست ووٹوں سے صدر منتخب کیاجائے اور ملک کو چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرکے اسمبلیوں میں سے نہیں بلکہ امریکہ کی طرح باہر سے باصلاحیت اور پروفیشنل ماہرین کو کابینہ میں شامل کیا جائے تاکہ لوٹ کھسوٹ کا نظام، بیڈ گورننس ختم ہو اور میثاق جمہوریت جسے میں جمہوریت کی بربادی سمجھتا ہوں کہ دو فریقوں نے باری باری اقتدار کے مزے لینے کا معاہدہ کررکھا ہے، کی بجائے صحیح معنوں میں عوام کی حکمرانی قائم کی جائے جبکہ آج ہر سودے اور ہر کام میں اربوں کھربوں کی کرپشن میں رہی ہے۔ وزیروں کے گھروں سے اربوں برآمد ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ ضیاءالحق کے زمانے میں انصاری کمیشن نے نظام حکومت کے بارے میں جو تجویز دی تھی اس کی روشنی میں نیا نظام وضع کیا جائے کیونکہ جمہوریت کے شور میں ہمیں سوائے بدحالی اور کرپشن کے کچھ نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر رینجرز والے قربانی دے رہے ہیں اور پولیس میں بھی جو اکا دُکا اہلکار نیک نیتی اور بہادری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں انہیں یہ کرپٹ نظام حکومت، کرپٹ سیاسی جماعتیں اور ان کے پروردہ لوگ پھڑکادیتے ہیں۔ انہوں نے میثاق جمہوریت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ باریاں لینے اور لوٹ مار کرنے کا مشترکہ پروگرام ہے۔

انہوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ کو میوزیم کا پیس قرار دیا اور کہا کہ ان کا اصل مقام عجائب گھر ہے۔ ان کی جگہ باہمت، مخلص اور دیانتدار اور عوام دوست اور محب وطن قیادت لائی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں زرداری صاحب کی جگہ ان کے فرزند ارجمند بلاول صاحب سے کوئی امید رکھنا بیکار ہوگا کیونکہ باپ بیٹے میں کوئی فرق نہیں اور نئے سپیل کے ساتھ نوجوان لیڈر کو لانچ کرنے کی مہم بھی ناکام ہوجائے گی۔ لوگ ان سیاسی جماعتوں سے بیزار ہوچکے ہیں اور جمہوریت کے ثمرات سامنے نہیں آرہے ہیں۔

مزید : لاہور