نیب افسران اور رینجرز کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ ، 5 افسران گرفتار

نیب افسران اور رینجرز کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ ، 5 ...
نیب افسران اور رینجرز کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ ، 5 افسران گرفتار

  

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کی جانب سے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے بعد شہر بھر میں قبضہ مافیا کے لیے زمین تنگ ہونے لگی ہے ۔

اسی حوالے سے زمینوں پر قبضہ اور چائنہ کٹنگ کی تحقیقات کے لیے نیب حکام کی جانب سے رینجرز کے ہمراہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر میں چھاپہ مارا ہے جہاں سے انہوں نے لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، لائنز ایریا اور ری ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے 5 افسران کو گرفتار کر لیا ہے ۔ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے گرفتار ہونے والے افسران میں نسیم فرید ، عطاءعباس ، راشد حسین ، وسیم اقبال اور شاہد عمر شامل ہیں ۔ نیب ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گرفتار افسران نے 12 سو پلاٹوں پر قبضہ کیا اور بغیر نیلامی کے عمل کے قبضہ مافیا اور بلڈرز کو فروخت کر دیا ۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اس زمین کی مالیت 4 ارب 50 کروڑ روپے تھی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے یہ رقم دہشت گردوں کی مدد سمیت ذاتی اثاثے بنانے میں خرچ کی ہے جبکہ گرفتاری کے بعد انہوں نے دیگر ملزمان کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا ہے جن کے نام نیب افسران کو دے دیے گئے ہیں ۔ رینجرز کی جانب سے اس کاروائی کے دوران بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر میں موجود تمام ریکارڈ قبضہ میں لے لیا ہے جبکہ اس دوران ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ممتاز مگسی سے پوچھ گچھ کی گئی ۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اس تفتیش کے دوران نیب افسران نے سابق ڈی جی منظور قادر کے بارے میں بھی تفتیش کی ہے ۔

مزید : کراچی /اہم خبریں