انسان دوست مچھر،جو ایسا کام کر تاہے جس میں ہماری حکومتیں بار با ناکام ہو گئیں

انسان دوست مچھر،جو ایسا کام کر تاہے جس میں ہماری حکومتیں بار با ناکام ہو گئیں
انسان دوست مچھر،جو ایسا کام کر تاہے جس میں ہماری حکومتیں بار با ناکام ہو گئیں

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) دنیا کے دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈینگی کا مرض بار بار سر اٹھاتا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے سرتوڑ کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومتوں کی کوششیں تو ڈینگی کو مکمل شکست نہیں دے سکیں البتہ ڈینگی مچھر کے خلاف ایک اور مچھر کو استعمال کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ انسان کے دشمن مچھر کا خاتمہ ایک انسان دوست مچھر کے ہاتھوں کروایا جاسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:بھارتی شخص،بہن کی مردہ لاش اور دو کتے، چھ ماتک ۔۔۔

امید کی کرن بننے والے انسان دوست مچھر کا سائنسی نام Toxorhynchites ہے اور اسے فیل مچھر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مچھروں کی نسل میں سب سے بڑا مچھر ہے اور اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ اپنی خوراک کیلئے انسانوں کو تنگ نہیں کرتا۔ اس کی عمومی خوراک کاربوہائیڈریٹ والی اشیائ، ہنی ڈیو، پھل اور پودوں اور پھلوں کا رس وغیرہ ہے۔ اس مچھر کا لاروا انسان کا خون چوسنے والے مچھر کے لاروا کو کھاتا ہے اور یوں یہ موزی مچھر کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کردیتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے مچھر بھی انسانوں کا خون چوسے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں لیکن اپنی نسل کو تیزی سے بڑھانے کیلئے خون کا استعمال کرتے ہیں۔ فیل مچھر چونکہ انسانوں کیلئے مضر نہیں اور چھوٹے مچھر کا دشمن ہے، اس لئے اسے ایسے علاقوں میں بڑے پیمانے پر متعارف کروانے پر غور کیا جارہا ہے کہ جو چھوٹے مچھروں کی وجہ سے ڈینگی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ فی الحال ان کی بڑی تعداد صرف کچھ مخصوص جنگلات میں پائی جاتی ہے، لیکن انہیں مطلوبہ علاقوں میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

مزید : ڈیلی بائیٹس