حلقہ این اے 122دھاندلی کیس :نادرا کی ضمنی رپورٹ کی قانونی حیثیت کا فیصلہ بنیادی مقدمہ کے ساتھ کیا جائے گا،الیکشن ٹربیونل

حلقہ این اے 122دھاندلی کیس :نادرا کی ضمنی رپورٹ کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ...
 حلقہ این اے 122دھاندلی کیس :نادرا کی ضمنی رپورٹ کی قانونی حیثیت کا فیصلہ بنیادی مقدمہ کے ساتھ کیا جائے گا،الیکشن ٹربیونل

  

لاہور(نا مہ نگار)الیکشن ٹربیونل نے حلقہ این اے 122میں نادراکی ضمنی رپورٹ کی قانونی حیثیت اور اسے قبول کرنے متعلق اپنا فیصلہ سنادیا،ٹربیونل نے قراردیاہے کہ ضمنی رپورٹ کی قانونی حیثیت کا فیصلہ بنیادی مقدمے کے ساتھ ہی کیاجائے گاتاکہ دھاندلی کے حوالے سے عدالت کووضاحت مل سکے۔الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم علی ملک نے این اے 122مبینہ انتخابی دھاندلی کیس کی سماعت شروع کی توعمران خان کے وکیل انیس ہاشمی نے کہاکہ ٹربیونل نے ضمنی رپورٹ منگوائی ہی نہیں ،اسے مسترد کیا جائے۔

سردار ایاز صادق کے وکیل اسجد سعید نے کہا کہ نادرا کی فرانزک رپورٹ پر عمران خان کے آنے والے اعتراضات کا جائزہ لے کر نادرا نے ضمنی رپورٹ مرتب کی ،اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ ببایا جائے جس پر ٹربیونل نے فیصلہ سناتے ہوئے ضمنی رپورٹ پر فیصلہ مرکزی مقدمےکے فیصلے سے مشروط کر دیا.ٹربیونل نے فیصلے میں کہا ہے کہ ضمنی رپورٹ کوریکارڈ کا حصہ بنانے یا مسترد کرنے کے فیصلے سے مین کیس پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ٹربیونل نے انتخابی دھاندلی کیس کی سماعت سترہ جون تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاءکو مین کیس پر مزید بحث کے لئے طلب کر لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل انیس علی ہاشمی کا کہنا تھا کہ رپورٹ جعلی تھی اورعدالت نے دانش مندی کا فیصلہ کیا ،ان کا کہناتھا کہ چیر مین نادرا نے سردار ایاز صادق کو بچانے کیلئے جعلی رپورٹ بنائی جبکہ شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ جعل سازی ہوئی ہے اس لیے وہ چیئرمین نادرا کے خلاف استغاثہ دائر کریں گے۔ دوسری جانب سردار ایاز صادق کے نمائندے کرنل ریٹائرڈ مبشر اور ان کے وکیل بیرسٹر اسجد سعید کا کہنا تھاکہ رپورٹ میں کوئی خرابی نہیں اور الزامات بے بنیاد ہیں۔ 

مزید : لاہور