سانحہ ڈسکہ :وکلاءکی ہفتہ وار ہڑتال ،برما میں مسلمانوں کے قتل عام ،بھارتی وزیراعظم کی گیڈر بھبھکیوں کی شدید مذمت

سانحہ ڈسکہ :وکلاءکی ہفتہ وار ہڑتال ،برما میں مسلمانوں کے قتل عام ،بھارتی ...
سانحہ ڈسکہ :وکلاءکی ہفتہ وار ہڑتال ،برما میں مسلمانوں کے قتل عام ،بھارتی وزیراعظم کی گیڈر بھبھکیوں کی شدید مذمت

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی /نا مہ نگار)ڈسکہ واقعہ کے خلاف پنجاب بار کی کال پر گزشتہ روز پنجاب بھر کے وکلاءنے ہفتہ وارہڑتال کی ۔وکلاءماتحت عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثرہوئی اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ،وکلاءبازﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر فوری نوعیت کے مقدمات میں پیش ہوتے رہے جبکہ عمومی مقدمات میں وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رکھا۔ وکلاءنے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے بیانات اور برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف بھی احتجاج کیا اوراقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے بیانات کا نوٹس لیا جائے ۔

ان حوالوں سے لاہور ہائیکورٹ بار میں ہونے والے وکلاءکے اجلاس سے صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر مسعود چشتی نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ ڈسکہ کے حوالہ سے بتایا کہ مقدمہ کا چالان پیش ہو گیا ہے ،ملزم نے درخواست دی ہے کہ اسے وکیل کرنے کا موقع دیا جائے اس سلسلہ میں اسے18جون بروز جمعرات تک کا ٹائم دیا گیا ہے جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ڈسکہ کے سلسلہ میں لیگل ٹیم کا اجلاس ہم سیالکوٹ یا گوجرانوالہ میں رکیھں گے تاکہ تمام قانونی پہلوﺅں کا جائزہ لے کر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کو یقینی بنایا جائے تاکہ 15دن کے اندر مقدمہ کا فیصلہ ہو سکے۔ اجلاس سے سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احمد قیوم، صدر پاکپتن بار ایسوسی ایشن پیر اشرف علی قریشی، ممبر پنجاب بار کونسل منیر بھٹی، ممبر پنجاب بار کونسل رفیق جھٹول نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ڈسکہ تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے۔ اس دکھ بھرے لمحہ میں تمام ہائیکورٹس بار ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، سب ڈویژنل بار ایسوسی ایشن ایک ہیں اور متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے سانحہ کراچی ، ساہیوال ،چونیاں یا رینالہ خورد ہو جس میں وکلاءصاحبان کو بہیمانہ طریقے سے تشدد ، اندھا دھند فائرنگ کے نتیجہ میں شہید کیا گیا ہم ان واقعات کو نہیں بھولے۔ ہم نے سڑکوں پر ملک کی نظام کی بقاءکی جنگ لڑی ہے ہم اپنے تحفظ کی جنگ بھی لڑنا جانتے ہیں۔

سانحہ ڈسکہ کے متاثرین کی مالی معاونت کیلئے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے مسلم کمرشل بینک، لاہور ہائیکورٹ برانچ میں اکاﺅنٹ کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام وکلاءسے کہا کہ اس فنڈ میں دل کھول کر حصہ ڈالیں۔۔ اجلاس کے دوسرے حصہ میں ہاﺅس نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی و دیگر حکام کی طرف سے گیڈر بھبھکیوں کے معاملہ پر بات کی جسمیں رائے بشیر احمد ، سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل چودھری محمد رمضان نے کہا کہ وزیر اعظم انڈیا کو ایسے بیانات دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کی حرکات کر چکے ہیں لیکن ان کو ہر دفعہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ہم نے ارض پاک کے تحفظ کی قسم کھائی ہوئی ہے اور ہم اپنے وطن کی سر زمین کا تحفظ کرنا بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وزارت خارجہ کو بھی ایکشن لینا چاہیے کہ کسی کو ہمت نہ ہونی چاہیے کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی پرزور الفاظ میں تعریف کی اور انکے بر وقت بیانات کو سراہا۔صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی نے ہاﺅس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارتی حکام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی سر زمین کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اگر کوئی حملہ ہوا تو پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے پہلے بھی مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں اور ہم اپنادفاع کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے منہ توڑ جواب کی حمایت اور تعریف کرتے ہیں۔

اس موقع پر وزارت خارجہ کو فوری ایکشن لیتے ہوئے بیان جاری کرنا چاہیے اور کسی کو ہمت نہ ہو کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی نے مندرجہ ذیل قرارداد ہاﺅس کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بھارتی وزیر اعظم نریند مودی کے بیانات کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے بیانات کے خلاف فوری ایکشن لے۔ اجلاس کے بعد سانحہ ڈسکہ کے خلاف عہدیداران لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور ممبران نے احتجاجی کیمپ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ لاہور بار کا اجلاس ایوان عدل میں11بجے شروع ہوا جس میں سانحہ ڈسکہ ، برما میں مسلمانوں کے قتل عام اور بھارت کی دھمکیوں کے حوالے سے مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں تاہم اس موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے عہدیدران نے بھی شرکت کی ۔ لاہور بار کے صدر اشتیاق خان نے کہا کہ ہم کراچی بار کے وفد کو لاہور بار ایسوسی ایشن سے اظہار یکجہتی کے لئے آنے پر سلام پیش کرتے ہیں اور میں انہیں سے کہوں گا کہ وہ ڈسکہ بھی جائیں ،انہوں نے کہا کہ پولیس نے ڈسکہ میں نہتے وکلاءپر گولیاں برسائیں اور جس طرح انہیں شہید کیا گیا اس طرح کوئی دشمن بھی نہیں کرتا ۔،سیکرٹری ادیب اسلم بھنڈرودیگر عہدیدران نے کہاکہ 20روزکے اندرمقدمے کی سماعت مکمل کی جائے ،انہوں نے کہا کہ وکلاءکی ہلاکت کے ذمہ داران کسی طور نہیں بچ سکیں گے ،وکلاءاپنے بھائیوں کے خون کا حساب لئے بغیر سکون سے نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ ایس ایچ او کے خلاف چالان عدالت میں پیش کردیا گیا ہے اور اس کا ٹرائل شروع ہوچکا ہے اور وکلاءاسے کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے ،اس موقع پرسینئر وکیل سیکرٹری لیگل ایجوکیشن کمیٹی مدثر چودھری نے کہا کہ ہمیں لاشوں پر سیاست نہیں کرنی اور وکلاءکومتحد رہنا ہے اورنہ ہی وکلاءنے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا ہے ،وکلاءعدالتی ٹرائل کے ذریعے ہی اس واقع میں ملوث ملزمان کو سزاا دلوائیں گے اور اپنے وکلاءبھائیوں کی ہلاکت کے انصاف تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔کراچی سے آئے ہوئے وکلاءراہنما جاوید عباس ظفر نے کہا کہ ہم نے کراچی میں واقعہ ڈسکہ کو میڈیا پر دیکھا انتہائی دکھ ہوا اور ہم نے اپنا کام بند کرکے کراچی میں ہڑتال کی انہوں نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ کراچی میں قتل عام ہو رہا ہے مگر اب ہمارے پنجاب میں ٹارگٹ کلنگ شروع ہو گئی ہے اور اس کا آغاز وکلاءسے کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہمارے گھروں کے اندر گھس کر وکلاءکو قتل کیا گیا ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون کے وکھوالوں کو انصاف دیا جائے ۔سینئر وکیل غلام مجتبی چودھری اورارشاد گجرنے وکلاءکی ہلاکت کو پولیس گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس میں شامل کالی بھیڑوں کو نکال باہر کیا جا ئے ،انہوں نے مزید کہا کہ وکلاءانصاف ملنے تک ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔

مزید : لاہور