ذخیرہ اندوز مافیا چھایا ہوا ہے ،قیمتیں کیسے کنٹرول ہو سکتی ہیں ،مہنگائی کے خلاف درخواست پر ہائی کورٹ کے ریمارکس

ذخیرہ اندوز مافیا چھایا ہوا ہے ،قیمتیں کیسے کنٹرول ہو سکتی ہیں ،مہنگائی کے ...
ذخیرہ اندوز مافیا چھایا ہوا ہے ،قیمتیں کیسے کنٹرول ہو سکتی ہیں ،مہنگائی کے خلاف درخواست پر ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے قرار دیا ہے کہ ملک میں ذخیرہ اندوز مافیا چھایا ہوا ہے قیمتیں کیسے کنٹرول ہو سکتی ہیں۔فاضل جج نے یہ ریمارکس اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف دائر درخواست پر رمضان المبارک میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومتی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے دیئے ۔درخواست گزار محمد اظہر صدیق نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ رمضان المبارک سے قبل روزمرہ استعمال کی اشیاءچاول ، گھی ، چینی ، آٹا اور بیسن وغیرہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور حکومت قمیتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

عدالتی حکم پر سیکرٹری انڈسٹریز نسیم صادق نے پیش ہو کر بتایا کہ قیمتوں میں کمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں جس پر عدالت نے انھیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر صوبہ بھر کا ڈیٹا فراہم کریں جس سے پتہ لگ سکے کہ قیمتوں کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملک میں ذخیرہ اندوز مافیا چھایا ہوا ہے قیمتیں کیسے کنٹرول ہو سکتی ہیں۔ جب تک ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوگی۔قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔آپ چائنہ کو دیکھیں کہ اتنی بڑی آبادی والا ملک کیسے قیمتوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ رمضان المبارک میں عوام کو آپ نے کیا ریلیف دیا ہے۔جس پر نسیم صادق کا کہنا تھا کہ حکومت نے گھی کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ گھی کی قیمت کم ہونے میں حکومت کا کوئی کمال نہیں یہ کمی عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمت کم ہونے کے باعث ہوئی ہے۔ عدالت نے پنجاب بھر کے ڈی سی اوز سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی18جون کو طلب کر لی۔

مزید : لاہور