کیا نفسیاتی مریض کو پھانسی دی جاسکتی ہے ؟ ہائی کورٹ نے قاتل کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا

کیا نفسیاتی مریض کو پھانسی دی جاسکتی ہے ؟ ہائی کورٹ نے قاتل کی سزائے موت پر ...
کیا نفسیاتی مریض کو پھانسی دی جاسکتی ہے ؟ ہائی کورٹ نے قاتل کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت کے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ معطل کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب سے 18جون کو جواب طلب کر لیا۔مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور مسٹر جسٹس شہباز علی رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اقبال بانو کی درخواست پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار کی وکیل مریم حق نے موقف اختیار کیا کہ اقبال بانو کے41سالہ بیٹے خضر حیات کے خلاف اکتوبر 2001ءمیں شادباغ پولیس نے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر کے چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جس پر ٹرائل کورٹ نے 2003ءمیں خضر حیات کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے جبکہ2008ءسے مجرم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے اور اس کا علاج جاری ہے .

ذہنی مریض ہونے کے باوجود درخواست گزار کے بیٹے کو آج 16جون کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دینے کے لئے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے جا چکے ہیں ،ڈیتھ وارنٹ پر عمل درآمد روکا جائے اور اس امر کی بھی وضاحت کی جائے کہ ذہنی طور پر معذور شخص کو پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے کہ نہیں، درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ مجرم کی جائیداد کا جانشین مقرر کرنے کے لئے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دینے کا حکم دیا جائے، بنچ نے قتل کے مقدمہ میں سزائے موت پانے والے 41سالہ ذہنی مریض مجرم خضر حیات کی سزا پر عملدرآمد روکتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب سے 18جون کو جواب طلب کر لیا ہے۔

مزید : لاہور