بھارتی انتہا پسند باز نہ آئے،ایسی بات کہہ دی کہ سن کر ہر مسلمان کا خون کھول اٹھے

بھارتی انتہا پسند باز نہ آئے،ایسی بات کہہ دی کہ سن کر ہر مسلمان کا خون کھول ...
بھارتی انتہا پسند باز نہ آئے،ایسی بات کہہ دی کہ سن کر ہر مسلمان کا خون کھول اٹھے

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی شدت پسند اسلام اور مسلمانوں کے خلاف افسوسناک بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جو ناصرف ان کی جہالت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:آزادی کی سر حد سے چند کلومیٹر دور  داعش کے ستائے ہزاروں مہاجرین کے خواب کرچی کرچی،فوجی دیکھتے رہ گئے

حکمران جماعت بی جے پی کے متنازعہ رہنما سکشی مہاراج کا شمار بھی ان بھارتی رہنماﺅں میں ہوتا ہے جو اپنے غیر منطقی اور شدت پسند بیانات کی وجہ سے انتہائی منفی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ 21 جون کو منعقد ہونے والے یوگاڈے کے حوالے سے ایک بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا ایسی بات کہہ دی جو کہ یہاں بتانا مناسب نہیں۔اگرچہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا بیان اچھی نیت پر مبنی تھا لیکن اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کی غیر سنجیدگی اور غیر محتاط رویے کو بھارتی مسلمانوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وہ اس سے پہلے بھی درجنوں بار متنازعہ اور شدت پسندی پر مبنی بیانات دے چکے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ ہندو متنوع قسم کے کلچر پر یقین رکھتے ہیں لہٰذا انہیں خدا کا نام لینے میں کوئی عار نہیں اور اتر پردیش کے وزیر محمد اعظم خان سے کہا کہ وہ خود کو بھارتی ثابت کرنے کے لئے جے شری رام کا نعرہ لگائیں۔ وہ اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جو لوگ پوجاپاٹ اور یوگا کے آسن سوریا نمسکار پر اعتراض کرتے ہیں وہ سمندر میں کود جائیں۔ وہ ہندومت کے تحفظ کے لئے یہ مشورہ بھی دے چکے ہیں کہ ہر ہندو خاتون کم از کم چار بچے ضرور پیدا کرے۔ رام مندر کے معاملہ میں بیان دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”دنیا کی کوئی طاقت ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو روک نہیں سکتی۔ جو بھی ہو اسے ضرور تعمیر کیا جائے گا۔“

 

مزید : ڈیلی بائیٹس