’جن بچوں کو ماں کا دودھ 6 ماہ سے کم عرصے تک پلایا جائے، بڑے ہوکر ان کے جسم کا یہ اہم ترین حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے‘ ماہرین نے اب تک کی سخت ترین وارننگ جاری کردی

’جن بچوں کو ماں کا دودھ 6 ماہ سے کم عرصے تک پلایا جائے، بڑے ہوکر ان کے جسم کا ...
’جن بچوں کو ماں کا دودھ 6 ماہ سے کم عرصے تک پلایا جائے، بڑے ہوکر ان کے جسم کا یہ اہم ترین حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے‘ ماہرین نے اب تک کی سخت ترین وارننگ جاری کردی

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کل کی خواتین میںآرائش حسن کی خاطردیگر رجحانات کے ساتھ بچے کو اپنا دودھ نہ پلانے کا رجحان بھی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ تاہم اب آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے یہ رحجان رکھنے والی خواتین کو انتہائی سنگین وارننگ دے دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جن بچوں کو مائیں 6ماہ سے کم دودھ پلاتی ہیں، بڑے ہو کر ان بچوں کا جگر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اوراس کے بالکل کام چھوڑ دینے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔“

اگر ہونے والی مائیں یہ ایک چیز باقاعدگی سے کھائیں تو ان کے بچوں کو بھی سانس کی بیماریاں نشانہ نہیں بناتیں

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”6ماہ سے کم دودھ پینے والے بچوں میں جگر ناکارہ ہونے کے امکانات 40فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حمل کے وقت جو ماں موٹاپے کا شکار ہو اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا جگر خراب ہونے کے امکانات دو گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ جو ماں دوران حمل سگریٹ نوشی کرے اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں بھی جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات واضح ہو جاتے ہیں۔ “ڈاکٹر ایونرینڈے کا کہنا تھا کہ ”ماں کا دودھ بڑی عمر میں بھی بچے کے کام آتا ہے اور اس کے جگر کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ بچے کو جگر کی بیماریوں کے علاوہ، ذیابیطس، موٹاپے اور کینسر کی کئی اقسام سمیت دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ “

مزید :

تعلیم و صحت -