تحریک انصاف کو دو محاذوں پر ہزیمت کا سامنا!!

تحریک انصاف کو دو محاذوں پر ہزیمت کا سامنا!!
تحریک انصاف کو دو محاذوں پر ہزیمت کا سامنا!!

  

 تحریکِ انصاف کو اس وقت دو محاذوں پر شدید تنقید اور ہزیمت کا سامنا ہے۔ ایک مسئلہ تو دیگر جماعتوں سے آنے والے سیاسی لیڈروں کو قبول کرنے پر تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں کے شدیدردعمل کا ہے، جبکہ دوسرا مسئلہ ہے عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس!

پہلے مسئلہ کے حوالے سے ہر ایک یہ سوال کر رہا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف تحریک انصاف جدوجہد کرتی رہی، جن کو کرپٹ اشرافیہ ، جاگیر دارمافیا ، صنعتکار مافیا، چور ، لٹیرے، ڈاکو اور ملک دشمن تک کے الزام تحریک انصاف کی طرف سے دئیے جاتے رہے ، آج انہوں نے ایسا کیا انہونا کام کر دکھا یا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماء ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے اور خوش آمدید کہتے نہیں تھک رہے۔ اس روش سے واضح ہو چکاہے کہ اب بات اصول پرستی کی نہیں ، اَناپرستی کی بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے وہ بنیادی کارکن جو تحریک انصاف کو ایک اصول پرست جماعت سمجھ کر اس میں شامل ہوئے تھے، اب جب ہر جماعت سے عمران خان ہی کے بقول ’’ کرپٹ ‘‘اور ’’ بد دیانت‘‘ لوگ تحریک انصاف میں آرہے ہیں تو پھر اب وہ تحریک انصاف کے بنیادی اور مخلص کارکن کس منہ سے تحریک انصاف کو اصول پرست جماعت کہہ سکیں گے یا اس جماعت میں مزید رہ سکیں گے؟یہ ایک حقیقت ہے کہ اب تحریکِ انصاف اصولی نہیں،بلکہ روائتی جماعت بن چکی ہے۔پہلے تحریک انصاف میں اصل طاقت ’’نوجوان‘‘کو باور کیا جاتا تھا،لیکن اب نوجوانوں کی جگہ دوسری جماعتوں سے اُڈاریاں مار کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے گھاگ سیاست دانوں کو دے دی گئی ہے۔اس طرزِ عمل سے تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں میں شدید بد دلی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔اور تحریک انصاف کے اندر خاموشی سے نوجوانوں کے ووٹ بنک کا بہت بڑا خلاء پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی قیادت کے اس روئیے سے نالاں نوجوان کارکن بہت بڑا اپ سیٹ بھی دے سکتے ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق) سے آنے والے ان ’’آزمودہ‘‘ لوگوں سے تحریک انصاف کو شاید کسی حد تک پنجاب میں کچھ پذیرائی مل بھی جائے ،لیکن اس کی بہت بھاری قیمت صوبہ خیبر پختونخوا میں ناراض کارکنوں کے ردعمل کی صورت میں چکانا بھی پڑ سکتی ہے۔

دوسرا مسئلہ جو اس پہلے مسئلہ سے بھی گھمبیر ہے کہ تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر ، عمران خان کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں جو نہ نگلی جا رہی ہے اور نہ اُگلی جا رہی ہے۔عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر نااہلی کیس میں اکبر ایس بابر بھی تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ الزامات کے تحت اس کیس کا حصہ ہیں ۔اکبر ایس بابر اس بات پر عرصہ سے زور دے رہے ہیں کہ’’ عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT)تشکیل دی جائے، اس کے بغیر تحقیقات شفاف اور مکمل نہیں ہو سکیں گی۔ ‘‘خود سپریم کورٹ بھی یہ ریمارکس دے چکی ہے کہ ’’عدالت یہ سمجھتی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی وہ آئینی ادارہ ہے جو سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کر سکتا ہے، لہٰذا کیوں نہ الیکشن کمیشن کو جے آئی ٹی مقرر کر دیا جائے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے فارن فنڈنگز کے معاملے کی مکمل چھان بین کرے اور جو بھی نتائج سامنے آئیں ، وہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھ دے ‘‘۔سپریم کورٹ کی طرف سے دئیے گئے ان ریمارکس کے بعد یہ امکان قوی ہو چلا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف دائر فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لئے عنقریب الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جے آئی ٹی مقرر کیا جا سکتا ہے۔

یا د رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی طرف سے دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014ء سے چل رہا ہے اور عمران خان اس کیس کو طول دینے کے لئے تمام تر تاخیری حربے اختیار و استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ۔ 2014ء میں جب یہ کیس دائر ہوا تھا تو عمران خان نے یہ قانونی نکتہ پیش کیا تھا کہ’’ اکبر ایس بابر چونکہ اب تحریک انصاف کے رکن نہیں رہے ، لہٰذا اب وہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر بات کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ‘‘ اس عذر کے باوجود 8مئی 2017ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک حکم نامہ جاری کیا ، جس میں کہا گیا کہ ’’ اکبر ایس بابر آئینی طور پر اس کیس کی سماعت کا پورا حق رکھتے ہیں۔ ‘‘یہ حربہ بھی ناکام ہونے کے بعد تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ رِٹ دائر کی کہ ’’الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس کیس کی سماعت سے روکا جائے۔‘‘ ان عذر داریوں سے دکھائی یہی دے رہا ہے کہ عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کو تحریکِ انصاف کے مالیاتی ریکارڈ تک رسائی دے دی تو تحریک انصاف اور خود ان کے لئے بہت زیادہ پریشانیاں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا اس کا حل یہی نکالا گیا کہ اس کیس کو جس قدر ممکن ہو سکے،تاخیری حربے استعمال کر کے طویل سے طویل تر کیا جائے تاکہ ان کی نیک نامی کا بھرم کم از کم آئندہ الیکشن تک قائم رہ سکے۔مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ نومبر 2014ء سے اب تک تحریک انصاف اس کیس کو طول دینے کے لئے وکیلوں اور دیگر عدالتی اخراجات کی مد میں پونے دو کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کر چکی ہے۔ اس کیس میں عمران خان پر یہ الزام ہے کہ 2010ء سے 2013ء کے دوران انہوں نے امریکہ سے بھیجے گئے30لاکھ ڈالر وصول کئے۔ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی طور پر دبئی سے آنے والے کروڑوں روپے کی رقم الگ ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کچھ بنک اکاؤنٹ برطانیہ میں بھی موجود ہیں، جن کا الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشواروں میں سرے سے ذکر ہی نہیں کیا گیا تھا ۔

تحریک انصاف پر اکبر ایس بابر کی طرف سے یہ الزام بھی ہے کہ 2014ء میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دئیے گئے دھرنے کے دوران عمران خان کوکنٹینر میں مختلف لوگوں کی طرف سے اتنے زیادہ پیسے دئیے جاتے تھے کہ بوریوں میں بھر کر بنی گالہ لے جایا جا تا تھاجہاں اس رقم کا ’’حساب کتاب‘‘ کر کے اگلے روز سفیر احمد نامی ڈرائیورکے ذریعے یہ رقم بنک میں جمع کروادی جاتی تھی۔یہ یقیناًبہت حساس نوعیت کے الزامات ہیں جو ان کے بہت قریب رہنے والے آدمی کی طرف سے سامنے آئے ہیں ۔ اکبر ایس بابر کا دعویٰ ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف جے آئی ٹی تشکیل دے دی جائے تو وہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر دیں گے ۔اب چاہئے تو یہ تھا کہ عمران خان ان سنگین الزامات کا سامنا کرتے اور الیکشن کمیشن کو اپنے اور پارٹی کے اکاؤنٹس تک مکمل رسائی فراہم کرتے تاکہ ان کی بے گناہی ثابت ہو جاتی، لیکن اس کے برعکس اس کیس میں تاخیری حربے اختیار کرنا اور تحقیقات کے ضمن میں تعاون کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لینا،اس بات کا عکاس ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں ،بلکہ پوری دال ہی کالی ہے!!

مزید :

کالم -