ماڈل قبرستان!

ماڈل قبرستان!
 ماڈل قبرستان!

  

خواتین و حضرات! لوگوں کو موجودہ حکومت سے شکایت تھی کہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری ودیگر مسائل کی وجہ سے ان کا جینا مشکل ہو گیا ہے، لیکن اب حکومت نے اس کے ازالے کے لئے مرنا آسان، بلکہ پُرلطف اور پُرآسائش کر دیا ہے۔ حکومت پنجاب پہلا ماڈل قبرستان کاہنہ میں قائم کر رہی ہے۔خبر اور اشتہار میں فوت ہو جانے والوں کو جو سہولتیں پیش کی جا رہی ہیں، ان کے پیش نظر دل چاہتا ہے کہ ابھی مر جائیں:

گھبرا کے جو ہم سر کو ٹکرائیں تو اچھا ہو!

اس جینے میں سو دکھ ہیں مر جائیں تو اچھا ہو

خبر کی دلکشی سے ایسا لگتا ہے کہ شاید حکومت لوگوں کو جلد انتقال کر جانے کی ترغیب،بلکہ لالچ دے رہی ہو۔ خبر کی دوسری سرخی میں ہی جلی حروف میں فون نمبر بھی دیا گیا ہے تاکہ فوری طور پر لوگوں سے جان چھڑائی جا سکے۔ شاید حکومت کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ آبادی تو بہت بڑھ رہی ہے اور رہائش کا مسئلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے، لہٰذا لوگوں کو ایک ماڈل، بلکہ ماڈرن قبرستان کی نوید سنا کر آبادی کو روکنے کا انتظام کیا جائے۔ مثلاً خبر اور اشتہار میں بیان کیا گیا ہے کہ شہر خموشاں اتھارٹی۔۔۔ (لیجئے! اس کے لئے ایک محکمہ اور اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے)۔۔۔ پہلا ماڈل قبرستان کاچھا روڈ کاہنہ میں قائم کر رہی ہے۔ میت کو غسل دینے کا خصوصی اہتمام، قبر کھودنے کے لئے جدید مشینری کا انتظام، میت کو رکھنے کے لئے سرد خانے، 89 کینال اراضی پر 8 ہزار سے زائد قبروں کی گنجائش، اتھارٹی کا دائرہ کار تمام شہروں تک پھیلایا جائے گا:

اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

حکومت کی اس فراخ دلانہ پیشکش پر زندگی سے بیزار لوگ بخوشی مرنا قبول کر لیں گے:

مَیں خود مرنے پہ راضی تھا

قضا کے ہاتھ کیا آیا!

خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ قبرستان سے متعلق امور اور نظم و نسق کے لئے عملہ ایک ڈائریکٹر کی زیر نگرانی کام کرے گا۔ صرف اراضی کی خریداری پر 15 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں، خواجہ احمد حسان کو پنجاب شہرِ خموشاں اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اراضی سے متعلق کسی محکمے کے سربراہ کے پاس پہلے رہائشی پلاٹوں کی درخواستیں اور سفارشیں آتی تھیں، اب قبروں کے لئے فرمائشیں آئیں گی۔۔۔خواتین و حضرات! اگر حکومت کا یہ منصوبہ برائے مرحومین کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی دیکھا دیکھی دیگر نجی رہائشی منصوبے بھی اپنی ہر رہائشی سکیم کے ساتھ ایک ماڈل قبرستان کے حروف جلی انداز میں لکھیں گے اور سلوگن ہوگا: ’’جینا آسان مرنا پُر لطف‘‘۔۔۔ لاہور کے علاوہ دیگر شہروں کے مرحومین اور مدفون، اس ماڈل قبرستان کے مردوں کی قسمت پر رشک کریں گے۔ حکومت نے اس ماڈل قبرستان کی تمام خصوصیات اور آسائش کا ذکر تو کر دیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ قبر کے اندر کے حالات کے سلسلے میں حکومت نے کیا انتظامات کئے ہیں؟ان خصوصیات میں اسپیشل ڈسکاؤنٹ، پہلے آیئے پہلے پایئے کی آفر، ’’کارنر قبر‘‘ پلاٹ، فاتحہ خوانی، لنگر، عرس اور قوالی کا اہتمام، نشہ کرنے والے اور جرائم پیشہ افراد کے قبضے اور تسلط سے پاک۔۔۔ ایڈوانس بکنگ جاری ہے۔

اتھارٹی کے کامیاب ہو جانے پر لوگ اس ماڈل قبرستان جیسے ’’ماڈل ٹاؤن‘‘ ’’ماڈل کالونی‘‘ ’’ماڈل رہائش‘‘ میں دفن ہونا نہ صرف پسند کریں گے، بلکہ اپنے لئے اعزاز اور اسٹیٹس سمبل تصور کریں گے۔ تاہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتھارٹی کا مُردے کو غسل دینے اور جدید مشینری سے قبر کھودنے کا کیا مطلب ہے؟ جبکہ ہمارے ہاں اپنے والدین اور پیاروں کو ان کی اولاد اور چاہنے والے غسل دینا اہم تصور کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ جدید مشینری سے کھودی گئی قبر میں کیا خاصیت ہو گی؟ کیا اس پر نور برسے گا یا عذاب کم ہوگا؟ مردوں کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ فاتحہ خوانی کے لئے آئے لوگوں کی دلچسپی اور تفریح کا سامان بھی مہیا کیا جانے لگے گا۔ ماڈل قبرستان میں ریسٹورنٹ اور ڈھابے بھی کھل جائیں گے اور لوگ ایک پُر لطف ماحول میں اپنے پیاروں کو سپرد خاک کر سکیں گے۔ اپنے ہاتھوں سے قبر پر مٹی ڈالنے کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑے گی۔ یہ کام بھی کوئی مشین ہی کرے گی۔ پھولوں کی چادر چڑھا کر تیار قبر آپ کو پیش کر دے گی۔۔۔خواتین و حضرات! شہر خموشاں کا اشتہار اگر آپ نے دیکھا ہے تو ایک بڑی نمایاں تبدیلی دیکھی ہو گی۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ہر سرکاری اشتہار پر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کی تصاویر لازمی دی گئی ہوتی ہیں، مگر اس اشتہار پر کوئی تصویر نہیں اور نہ ہی ہر نئے منصوبے (میگا پراجیکٹ) کے افتتاح کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے کہ ’’چیئرمین صاحب فلاں تاریخ کو پہلی میت دفنا کر ماڈل قبرستان کا افتتاح کریں گے‘‘۔ماڈل قبرستان میں مردوں کو ایئر کنڈیشنڈ، یعنی سرد خانوں میں رکھنے کا اہتمام بھی ہے کہ زندگی میں تو ٹھنڈا کمرہ نہیں ملا اور اگر اے سی ملا تو بجلی نہیں ملی لیکن مرنے کے بعد خوشگوار ماحول تو میسر آ گیا۔ مرزا غالب بہت دور اندیش تھے۔ انہوں نے بہت پہلے ہی اپنی تدفین کے بارے میں وصیت کر دی تھی کہ کہاں دفنایا جائے:

اپنی گلی میں دفن نہ کر مجھ کو بعدِ قتل

میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے

خواتین و حضرات! ہمارے ہاں قبر پکی کرنے اور قبر پر کتبے کا بھی رواج ہے۔ امید ہے کہ اس ماڈل قبرستان میں بالخصوص قبر کے کتبے پر اشعار، آیات لکھنے کی سہولت بھی میسر ہو گی۔ آپ اپنی پسند سے نئے وپرانے اور پُرسوز اشعار لکھوا سکیں گے۔ جیسا کہ قتیل شفائی نے وصیت کی:

لکھنا مِرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف

مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا

مزید :

کالم -