مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر خطرناک

مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر خطرناک

انڈین نیشنل کانگرس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر ظلم اور جبر، اُن کا حق چھیننا غیر قانونی عمل ہے، نیشنل کانگرس آئندہ اقتدار میں آ کر کشمیریوں کے مسائل حل کرے گی اور اُن کو حقِ خود ارادیت دے گی۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی انسانی حقوق کی تمام حدیں پار کر چکا ہے اِس وقت پوری دُنیا میں مسئلہ کشمیر ایک اہم ایشو ہے اگر اس کو حل کرنے میں تاخیر کی گئی تو جنوبی ایشیا میں خطرناک جنگ چھڑ سکتی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر سمیت دوسرے شہروں میں مسلمانوں پر ہونے والے قتل و غارت کا سلسلہ بند کرے۔انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران لاکھوں کشمیریوں کو قتل اور بے گھر کیا گیا، جبکہ اربوں روپے کے نقصانات بھی ہوئے اس کے باوجود گزشتہ دو سال سے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی میں تیزی آنے کے باعث بھارت نے اپنی قوت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے میں صرف کر دی، جس کی وجہ سے بھارت کی حکومت کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ مودی اگر مسئلہ کشمیر، کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کر دیں تو دُنیا میں ایک اچھا رسپانس جائے گا اور مسلمانوں کا پیغام بھی بھارت کے حق میں ہو گا بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی ختم نہ کی تو اس کے نتائج بہت بُرے ہوں گے، جس کا اثر جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پڑوسی مُلک کی حیثیت سے اپنا حق بخوبی نبھا رہا ہے۔

کانگرسی رہنما سونیا گاندھی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق کی روشنی میں بروقت کہے جا سکتے ہیں تاہم اس بات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ آزادی کے بعد بھارت پر زیادہ عرصہ کانگرس کی حکمرانی رہی، اور اس حکمرانی میں بھی نہرو خاندان کا طویل عرصہ شامل ہے۔ پنڈت نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی اپنے اپنے دورِ حکومت میں چاہتے تو کشمیر کے مسئلے کو حل کر سکتے تھے،لیکن ان سب نے وقت گزاری کا رویہ اختیار کیا، حقِ خود ارادیت کا سب سے پہلا وعدہ تو اقوام متحدہ میں خود پنڈت نہرو نے کیا تھا ان کے اس وعدے کے بعد ہی کشمیر میں جنگ بندی ہوئی ورنہ کشمیری اور قبائلی مجاہدین تو سری نگر کے قریب پہنچ گئے تھے اور امکان تھا کہ جنگ جاری رہتی تو وہ وادی کے دارالحکومت پر قابض ہو جاتے، غالباً اِس کا ادراک کر کے ہی پنڈت نہرو خود اقوام متحدہ میں گئے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا، لیکن بعدازاں جب انہیں وادی میں بھارتی افواج داخل کرنے کا موقع مل گیا تو وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اِس وعدے سے دور ہوتے چلے گئے اور پھر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے لگے، جو بھارتی حکمران اب تک الاپ رہے ہیں،ان کی موت کے بعد ایک مختصر سے وقفے میں لال بہادر شاستری وزیراعظم بنے جن کے دور میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔اندرا گاندھی اپنے پورے دور میں پاکستان کے خلاف سازشیں کرتی رہیں۔ مشرقی پاکستان کے بحران میں اندرا گاندھی کی منصوبہ بندی کا ہاتھ تھا ، پھر پاکستان پر حملہ کر کے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا جس کا کریڈٹ نریندر مودی نے بھی اپنی ڈھاکہ آمد کے موقع پر علی الاعلان لیا، اندرا گاندھی کے بعد راجیو گاندھی بھی حکمران رہے، نریندر مودی سے پہلے دس سال تک مسلسل کانگرسی حکومت قائم رہی جس کے سربراہ منموہن سنگھ تھے، سونیا گاندھی کو مقبوضہ کشمیر کے حالات اگر آج پریشان کن نظر آ رہے ہیں تو کانگرس کے دور میں بھی کوئی اچھے نہیں تھے، تب کانگرس نے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی،اب اگر وہ ایسا محسوس کرتی ہیں تو اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں ایک تو کشمیر کی آزادی کی تحریک اتنی تیز اور جاندار ہو گئی ہے کہ اب اس سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں رہ گیا، اورحالات اس حد تک خراب ہو گئے کہ سونیا گاندھی محسوس کرنے لگی ہیں کہ اب بھی اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو خطے میں خطرناک جنگ چھڑ سکتی ہے تاہم یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ بی جے پی کی حکومت کا دور کشمیری مسلمانوں کے لئے عذابِ الٰہی کی شکل اختیار کر گیا ہے، جو ریاستی تشدد اب وادی میں روا رکھا گیا ے اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی، پیلٹ گنوں سے دس دس سال کے بچوں کو زندگی بھر کے لئے معذور کر دیا گیا کیا اِس سے پہلے کبھی اِن گنوں کا استعمال نہیں ہوا تھا، جن لوگوں کی بینائی بچ گئی اُن کے چہرے مسخ ہو گئے، اس کے علاوہ بھی ظلم و تشدد کی نئی نئی شقاوتیں سامنے آ رہی ہیں۔

ممکن ہے اِن حالات کو دیکھ کر سونیا گاندھی کا دِل پسیج گیا ہو اور وہ محسوس کرنے لگی ہوں کہ بہت ہو چکا اب مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہئے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کانگرسی رہنما نے مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں کی ہوں اور اگر اُنہیں دوبارہ اقتدار ملے تو وہ اپنی سابقہ پالیسیوں پر چل پڑیں اور حقِ خود ارادیت کا نام لیتے لیتے پھر اٹوٹ انگ کی مالا جپنے لگیں،لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بھارت کے اندر نریندر مودی کے عہد میں مسلمانوں پر سختی کا جو دور شروع ہے اس کی نظیر بھی نہیں ملتی۔ نریندر مودی نے انتہا پسند ہندو یوگی کو مُلک کی سب سے بڑی ریاست یو پی کا وزیراعلیٰ بنا دیا وہ اس خمار میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر ریاست کا انتخاب ہندو انتہا پسندی کے نعرے پر جیتا ہے،اِس لئے اس لہر پر سوار ہو کر وہ اگلے پانچ سال کے لئے بھی وزیراعظم منتخب ہو سکتے ہیں یہی چال انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں اُس وقت چلنے کی کوشش کی، جب انہوں نے ریاستی الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے اس مسلم اکثریتی ریاست کا وزیراعلیٰ ہندو کو بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس میں ناکامی کے بعد اب ریٹائرڈ فوجیوں کی پورے کشمیر میں خصوصی بستیاں بسائی جا رہی ہیں اور اُن کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

تاحال مودی کو اِس ضمن میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور کشمیری قیادت سمیت اس وفد نے بھی مودی کو کشمیریوں سے مذاکرات کا مشورہ دیا جو بی جے پی کے رہنما کی قیادت میں مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا گیا، سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ بھی اپنے وزیراعظم کو مذاکرات کا مشورہ دیتے رہتے ہیں موجودہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی یہی چاہتی ہیں،لیکن اس ضمن میں کوئی پیشرفت بظاہر نظر نہیں آئی اور بی جے پی کی حکومت کشمیریوں، مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف اپنے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے، لیکن اب وقت ہے کہ وہ سونیا گاندھی کی ماہیّت قلب کے بعد تبدیل ہونے والی رائے پر غور کریں اور اس کی روشنی میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا جائزہ لیں، کیونکہ آزادی کی موجودہ لہر کو دبانا اب کسی بھارتی حکومت کے بس میں نہیں رہا۔ سونیا گاندھی کے خیالات اگر تبدیل ہوئے ہیں تو زمینی حقائق دیکھ کر ہی ہوئے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...