مذہب پر بحث

مذہب پر بحث
 مذہب پر بحث

  


میں نے اپنا بچپن اور لڑکپن قرآن، حدیث، فقہ اور منطق کی دقیق و عتیق وادیوں میں گزار دیا ان گنت مباحثے، مجادلے، مناقشے، مناظرے اور مکالمے کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مذہب کا براہ راست عقل سے کوئی تعلق نہیں عقل فلسفہ کا موضوع ہے مذہب کا نہیں، فلسفی مذہبی نہیں ہو سکتا اور مذہبی فلسفی نہیں ہو سکتا، کیونکہ جو سوچتا ہے، وہ مانتا نہیں اور جو مانتا ہے وہ سوچ نہیں سکتا، انسان کو زندہ رہنے کے لئے روٹی کی ضرورت ہوتی ہے، علم کی نہیں، مذہب کے حوالے سے علم ان لوگوں کے لئے سود مند ہو سکتا ہے، جو اس کے لئے وقف ہو چکے یا پھر ان لوگوں کے لئے جو امارت کے ایک خاص درجے تک پہنچ چکے ہیں، اس کے علاوہ عام آدمی کے لئے مذہبی علوم نہ صرف غیر ضروری ہیں، بلکہ اذیت کا باعث ہیں معقولات ایک انتہائی خشک موضوع ہے اسی سے بچنے کے لئے عقائد کا سہارا لیا جاتا ہے، معروف جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ اپنی زندگی میں اطمینان اور سکون چاہتے ہیں تو عقائد پر کاربند ہو جائیں ،لیکن اگر آپ سچائی کے متلاشی ہیں، تو پھر اذیت آپ کا مقدر ٹھہرے گی‘‘، سچائی سکون سے فرار حاصل کر لیتی ہے، انسان خالص سچائی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا معروف ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے مرنے سے پہلے ایک بات کہی تھی کہ’’ تمام عمر انسانی رویوں کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسان سچائی کے ساتھ نہیں جی سکتا‘‘۔ دنیا میں ان گنت مذاہب کے رواج کا مطلب ہی یہی ہے کہ انسان تحقیق سے کنارہ کر لے گوتم بدھ جو سچائی کے لئے اپنا گھر بار بیوی بچے راج باگ سب کچھ چھوڑ کر جنگل کی طرف نکل گئے تھے اسی لئے کہ وہ مطلق حق ڈھونڈنے کی جستجو رکھتے تھے، آخر کار وہ بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ انسان جان بوجھ کر جھوٹ کے ساتھ چمٹا رہتا ہے، اس لئے مطلق سچائی اس دنیا میں کبھی رواج نہیں پاسکتی، گوتم بدھ کے معروف قول ’’زندگی دکھ ہے‘‘ کے یہی معنی ہیں، کہ زندگی سچائی کے ساتھ جینے میں دکھ ہے، اس کے علاوہ تو لوگ بڑے پرسکون طریقے سے زندگی بسر کر سکتے ہیں مذہب انسان کے ضروری اور غیر ضروری سوالوں کا جواب دیتا ہے اور بات یہ نہیں کہ وہ جواب حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں یا نہیں اصل نکتہ یہ ہے کہ کیا وہ جوابات انسان کو مطمئن کر پاتے ہیں، اگر ان جوابات سے انسان مطمئن ہو گیا تو معاملہ ختم، اب اس سے آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ پھر سچ کیا ہے اور کیا جھوٹ ہے ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ’’مذہب پر بحث کرنے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ اطمینان جو آپ کو مذہب نے دیا اس کو سبوتاژ کرنا‘‘ واصل بن عطاء ہو جہم بن صفوان، ابوالحسن الاشعری یا ابو منصور الماتریدی ہوں، یہ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں، مگر آپ کو عقائد کی منطق نہیں سمجھا سکتے، کیونکہ عقیدہ عربی زبان میں باندھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یہاں پر یہ باندھنا اصطلاحی معنی میں استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی کی محبت آپ کے اختیارات کو باندھ لے عقیدہ عشق کی ابتدائی منزل ہے عقیدہ ہو یا عشق ان کا کوئی فلسفہ نہیں :

کوئی فلسفہ نہیں عشق کا جہاں دل جھکے وہاں سر جھکا

وہیں ہاتھ جوڑ کے بیٹھ جا نہ سوال کر نہ جواب دے

ہمارے ہاں مہاویر اور بدھا جیسے ذہین لوگ موجود ہیں، یہ ہماری ہندوستانی تہذیب کے وہ انمٹ سپوت ہیں، جن کے نظریات سے دنیا آج بھی ذہانت کے معیار طے کرتی ہے، مگر ہماری محبت تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، سیدی رومی فرماتے ہیں کہ

نے نے کہ ہمی بود کہ می آمد و می رفت

ہر قرن کہ دیدم تا عاقبت آں شکل

عرب وار برآمد

دارائے جہاں شد

انسانی روح، دل، شعور، ذہن یا آپ جو بھی نام دے دیں، اس کے راستے صرف دو ہی ہیں، ایک سچائی کا رستہ دوسرا سکون کا، اس کے علاوہ کوئی رستہ نہیں، جب ہم سچائی کے رستے پر چلتے ہیں تو ہر مقام پر دکھ ہمارا استقبال کرتے ہیں، اس کے برعکس اگر ہم نے سکون کا رستہ اپنا لیا تو ہمیں ہمارا باطن ٹھیک اسی مقام پر لے جاتا ہے، جہاں سے ہم نے باطنی رستے بنائے ہوتے ہیں، یہاں پر ایک اعتراض یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں تو جھوٹ ہوتا ہے، یہ سکون کیسے سچائی کا مدِ مقابل ہو سکتا ہے تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ انسان شعور سنبھالتے ہی اپنی ہر کاوش کا نتیجہ سکون کی صورت میں تلاش کرتا ہے، عزت، دولت، اولاد، محبت، مذہب، عبادت سب کا مقصد صرف ایک کہ سکون مل جائے، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں پر انسان سچائی سے توجہ ہٹا لیتا ہے، اب اس کے برعکس ایک کوشش وہ ہے، جو صرف حق کو ڈھونڈنے کے لئے کی جاتی ہے، ایسی کاوش صرف دکھ پر ہی منتج ہوتی ہے، سلطان العارفین حضرت سلطان باھو اسی راہ کے مسافر تھے آپ فرماتے ہیں :

کوک دل آ مت رب سنے چا درد منداں دیاں آہیں ھو

سینہ تاں میرا درد بھریا اندر بھڑکن باہیں ھو

تیلاں باج نہ بلن مشالاں تے درد باج نہ آہیں ھو

آتش نال یرانے لا کے باھو وت اْو سڑن کے ناہیں ھو

اب اس تعجب میں مت پڑیئے کہ سکون کے متلاشی کو اس کی دہلیز پر خدا مل جاتا ہے، جبکہ حق کے متلاشی عمر بھر راہوں کی دھول بنے رہتے ہیں، بس اتنا فرق ملحوظ رہے کہ عقیدہ اور سچائی میں درد اور سکون جتنا فرق ہوتا ہے ۔

عہد نامہ جدید کو ہم جھوٹ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ دو ارب انسانوں کے لئے سکون کا باعث ہے، اس کے برعکس ہم بدھا کی ذہانت کو سچائی سے تعبیر کریں گے، کیونکہ وہ حق کا متلاشی تھا اور متی، مرقا، یوحنا اور یوقس سکون کے مسافر تھے، چنانچہ بدھا کا فلسفہ مذہب نہ بن سکا، جبکہ مسیح مت فلسفہ نہ بن سکا، بس یہی وہ بنیادی فرق ہے، جو ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔

مزید : کالم


loading...