لاہور یتیم ہو گیا، لاہوری یتیم ہو گئے

لاہور یتیم ہو گیا، لاہوری یتیم ہو گئے
 لاہور یتیم ہو گیا، لاہوری یتیم ہو گئے

  


انجمن شہریانِ لاہور کے قدیم ترین بانی مَبانی، بزرگ شہری سیاست دان، قلمکار، راست گفتار، خوش رفتار رانا نذر الرحمن ’’ رخصت اے بزمِ جہاں‘‘ کہتے ہوئے مختصر علالت کے بعد اس دُنیائے فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عالمِ جاودانی کی طرف روانہ ہو گئے۔۔۔ رہے نام اللہ کا، بے شک:

نہ چلی سامنے قضا کے

غوث کی، قطب کی، ولی کی

اِس دُنیائے دَنی میں کون ہمیشہ رہا ہے کہ جب احمدِ مرسلؐ نہ رے کون رہے گا، ہر ذی رُوح نے کبھی نہ کبھی جانا ہے، جو آیا ہے وہ عدم کے پاسپورٹ پر واپسی کا لازمی ٹھپّہ لگوا کے آیا ہے۔93برس کے جواں عزم، جواں سال بزرگ کا اس مُلک سے اور خصوصاً لاہور سے یوں چلے جانا لاہور اور لاہوریوں کو یتیم کر جانے کے مترادف ہے۔ رانا نذر الرحمن ایک شخص نہیں، شخصیت تھے، غیر متعصب، روا دار، کھڑتل، حق سچ کا علم ہر حال اور ہر حالت میں بلند رکھنے والے۔۔۔ میرا ایک شعر اُنہیں بہت پسند تھا اور یہ اُن پر صحیح معنوں میں منطق بھی ہوتا تھا:

نشانی اپنے گھر کی کیا بتاؤں؟

چلے آؤ جہاں تک روشنی ہے

سچی بات ہے موت العالم، موت العالم کا مفہوم جاتے جاتے رانا صاحب سمجھا گئے۔اُن کا جینا، اُن کا مرنا خدا وند تعالیٰ کی رضا پر جینا، مرنا تھا وہ بہت بڑے موّ حد تھے۔ بقول غالب:

ہم موّ حد ہیں ہمارا کیش ہے، ترکِ رسوم

وہ خدا کی ذاتِ والا صفات پر اس قدر کامل یقین رکھتے تھے کہ بہت کم لوگ ایسے میرے مشاہدے میں آئے۔اُنھوں نے کاروبار کیا تو خود کو ’’لو پروفائل‘‘ میں رکھا۔ کم سے کم منافع پر کاروبار کر کے سنتِ نبویؐ کی پیروی کی۔ وہ حق سچ پر اڑ جانے والے۔ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے حق کے لئے ڈٹ جانے والے تھے۔ یونین کونسل کے چیئرمین کے طور پر مصالحتی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر لاہور میں خصوصاً سمن آباد میں اُن کے فیصلوں کے عینی شاہدین ابھی بھی موجود ہیں وہ حقیقت میں ایک نابغۂ روزگار شخصیت کے حامل تھے۔ دو دو ایم اے تھے ایل ایل بھی تھے۔ کبھی وکالت کی پریکٹس نہ کی مگر اپنے کیس خوب لڑ سکتے تھے اُن کے لہجے میں کھنک تھی، اُن کی آواز میں ایک سّچے، پکےّ ، کھرے مسلمان، ایماندار انسان کا طنطنہ تھا۔ وہ جو کہتے تھے کرتے تھے۔ وضعداریاں نبھاتے تھے۔ زبان کی پاسداری کرتے تھے۔ مجھے کوئی ایسی مثالی انسان کی صفت یاد نہیں آ رہی جس پر وہ پورے نہ اُترتے ہوں۔ قائداعظمؒ کی طرح چھریرا جسم، کڑی کمان، لب و لہجہ اندر کے انسان کا ساتھ دیتا ہُوا۔ کندھے اُچکاتے تو یہ اَدا بھی لوگوں کو بھاتی۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نظر سے نظر ملا کر بات کرتے۔ اُن کے اسلوب سخن میں انفعالیت نہیں تھی۔ ایک قسم کی جارحیت تھی۔ ایک سچے انسان کی جارحیت۔ پہلی ملاقات یا ایک دو ملاقاتوں میں اُنہیں سمجھنا اور اُن کی اعلاصفات کا ادراک کرنا آسان نہ تھا۔ میرا اُن سے برسوں پر محیط نیاز مندی کا تعلق تھا۔ مجھے یہ افتخار بھی حاصل ہے کہ مَیں نے اُن کی مشہورِ زمانہ آپ بیتی ’’صبح کرنا شام کا‘‘ کا دیباچہ لکھا،جسے نہ صرف اُنھوں نے خود بے حد پسند کیا، بلکہ ہر طرف سے داد کے ڈونگرے سمیٹنے کو ملے۔دوسرے ایڈیشن میں اُن کے بعض مشیروں نے اِس دیباچے کو کتاب کے شروع سے لے کر کتاب کے آخر میں دیا۔ جس کا اُنھیں قلق تھا، جس کا اظہار بھی اور وعدہ بھی کیا کہ تیسرے متوقع ایڈیشن میں یہ دیباچہ ابتدائی جگہ پر بحال کر دیا جائے گا اور وہاں سے دونوں اخباری کالم آخر میں لے جائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اُنھوں نے جو کہا اُس پر عمل کا مجھے یقین تھا اور یقین ہے، یہ کتاب انشاء اللہ چھپتی ہی رہے گی۔ یہ ایک رہنما کتاب ہے، کامیاب زندگی کی۔ ایک کنجی ہے ایک گائیڈ بُک ہے کہ کیسے ایک عام آدمی زمینی سطح سے اُبھر کر آفاقی سطحوں کو چُھو سکتا ہے۔ کس طرح معمولی سے معمولی کام کو عار نہ سمجھنے والا، خود ہاتھ سے محنت کرنے والا، کندھوں پر بوجھ ڈھو کر مزدوری کرنے والا ایک ایسے، پلازا ایک ایسے چیمبر کا مالک بن سکتا ہے جس کا نام چار دانگِ عالم میں گونجتا رہا اور گونجتا رہے گا۔ یہ ہے ’’ رانا نذر الرحمن چیمبر‘‘۔۔۔ انار کلی میں یوسف فالودہ والا پلازا۔ اس کے علاوہ بھی اُنھوں نے اپنے زورِ بازو اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ کچھ کیا، وہ کچھ کمایا جو اُن کی اولاد اور لواحقین کے لئے مدتوں دستگیری کے لئے بہت ہے۔ وہ ایک وسیع القلب انسان، وسیع خاندان کے کفیل بھی تھے۔اُن کے اِس خاندان میں بہت سے واقف کاروں کے یتیم لڑکے لڑکیاں، ملازمین کے لواحقین، خود ملازمین کی فوجِ ظفر موج بھی شامل تھی۔ اُن کی ذات سے کئی ذاتوں کا رزق وابستہ تھا، وہ ذات پات کے قائل نہ تھے۔ ان کی نظر میں انسان اہم تھا:

شخصیت کا اسیر ہوں ناصِر

کیوں کروں ذات پات کی باتیں

وہ نوابزادہ نصراللہ خاں کی سیاست اور ان کے مَحرمِ درونِ خانہ اور اکثر نجی معاملات کے راز داں تھے، وہ سیاست دان سینیٹر ایم حمزہ کے بھی بے تکلف یار باشوں میں سے تھے اور اُنھیں مفید مشورے دینے والے اور پراپرٹی کے معاملات میں عملی طور پر ہمدرد انسان بھی۔

رانا نذر الرحمن اپنی آخری دَور کی قیام گاہ ٹیک سوسائٹی میں سوسائٹی کے اجلاسوں کے بھی روح و رواں تھے۔ وہ اپنی حق گوئی کے سبب سوسائٹی کے بعض اراکین کی نظر میں پسندیدہ نہ تھے، مگر رانا صاحب پسند و ناپسند سے بے نیاز سچ بات برملا کرنے سے کبھی پیچھے نہ رہتے۔ لاہور میں جن دِنوں مسلسل دھماکے ہو رہے تھے اور ٹیک سوسائٹی کے کرتا دھرتاؤں نے فضا کو نارمل سطح پر رکھنے کے لئے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جو اس خاکسار کی صدارت میں ٹیک سوسائٹی کا پہلا اور اب تک کا آخری مشاعرہ تھا۔ رانا صاحب اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے بہت سے اوراق کی فوٹو سٹیٹ کا پیوں سمیت اچانک وارد ہوئے اور یہ صفحے اسٹیج پر میری طرف اچھال دیئے۔ جلی حروف میں لکھا ہوا عنوان تھا:’’روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے‘‘۔۔۔!! مَیں نے پورا پمفلٹ پڑھا اور بڑے تحمل سے رانا صاحب کی خدمت میں اپنے صدارتی کلمات پہلے ہی کہہ ڈالے کہ ’’روم کو جلانے والی طاقتوں کی تکذیب اور مذمّت کے لئے ہی تو شعراء کرام آج یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ یہاں آج گُل و بلُبل اور گیسوئے خمدار اور آتشیں رخسار کی باتیں نہیں ہوں گی۔رانا صاحب خاطر جمع رکھیں۔ ! وہ احسان دانش کے شعر کے مصداق یہ کہنے میں حق بجانب تھے:

اس دور ناسزا کے تقاضوں کے باوجود

یہ جرم کم ہے کہ سچ بولتے ہیں ہم

رانا نذر الرحمن صاحب کی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ سے نیاز مندی کے ساتھ ساتھ خاصی بے تکلفی بھی رہی اور مولانا بھی انتہائی دلچسپ انداز میں اکثر انہیں ہدف بنا لیا کرتے تھے ایسا ہی ایک شگفتہ واقعہ میں نے ان کی زندگی میں اپنی کتاب ’’لطائف الادب‘‘ میں درج کر کے محفوظ کر دیا تھا کہ ۔

ایک بار مولانا مودودیؒ ائیر پورٹ جا رہے تھے۔ رانا اللہ داد گاڑی چلا رہے تھے اور رانا نذر الرحمن ساتھ بیٹھے تھے کہ انجمن ’’شہریانِ لاہور‘‘ کا ذکر چھڑ گیا۔ مولانا مودودیؒ نے پوچھا:

’’کون لوگ اسے چلا رہے ہیں۔‘‘ رانا نذر الرحمن نے بتایا کہ ’’مَیں سیکرٹری جنرل ہوں اور رانا اللہ داد صدر ہیں۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر مولانا مودودیؒ کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ نمودار ہوئی جو کوئی پُرلطف جملہ کہنے سے پہلے ان کے چہرے پر آیا کرتی تھی۔ مولانا نے فرمایا:

خدا لاہور کے شہریوں پر رحم کرے جو دو رانوں کے بیچ ہیں۔‘‘۔۔۔! افسوس نہ اب مولانا ہیں نہ دونوں رانا ہیں۔ لاہور ہے اور لاہور کے مغموم شہری ہیں۔ جن پر صحیح معنوں میں رحم کھانے والا رخصت ہو گیا۔ آں قدح بہ شکست و آں ساقی نہ ماند۔ سچ کیا تھا کسی نے۔ ’’ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا۔

آخر میں ان کی ذات سے منسوب مشہورِ زمانہ ایک اہم ’’واقعہۂ لاہور‘‘۔سمن آباد سے دو لڑکیوں کا اغوا تھا جن کا کُھرا گورنر کھر تک پہنچا تھا۔ اس معاملے کو رانا صاحب نے اس شدوّ مد سے اٹھایا کہ مردِ آہن گورنر پنجاب غلام مصطفےٰ کھر کے چھکے چھڑوا دیئے۔ لڑکیوں کی بازیابی کے بعد گورنر کھر نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا سرغنہ رانا صاحب کو قرار دیا، مگر اس ’’کریڈٹ‘‘ کے باوجود رانا صاحب کا اپنی مذکورہ کتاب میں یہ لکھنا کہ کھر بے قصور تھا ’’اناڑی پن میں مارا گیا‘‘۔۔۔ اس موقع پر ہر عہد پر غالب مرزا اسد اللہ غالب کی زبان میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:

ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

رانا نذر الرحمن کی منفردباتیں۔ اچھی یادیں پیچھا کرتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے رانا صاحب، کیا خوب آدمی تھے۔!!

مزید : کالم


loading...