رانا نذر الرحمن ۔۔۔ عجب آزاد مرد تھا!

رانا نذر الرحمن ۔۔۔ عجب آزاد مرد تھا!
رانا نذر الرحمن ۔۔۔ عجب آزاد مرد تھا!

  

حادثات زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان ارادہ کچھ کرتا ہے،لیکن قدرت کی طرف سے کوئی اور سبب ایسا بنتا ہے کہ سب کچھ ہی بدل جاتا ہے،ارادہ تو یہ تھا کہ آزادئ صحافت کے حوالے سے بعض تاریخی واقعات کو دہرائیں گے اور تھوڑا موازنہ کریں کہ آج پھر آزادئ صحافت کو خطرات کی نشاندہی کی جا رہی ہے جبکہ ہمارے خیال میں ان خدشات کو پیش نظر رکھا جائے تو بھی موجودہ دور میں جس طرح کی آزاد صحافت ہو رہی ہے اس پر بات کرنے اور اعتراض کی گنجائش موجود ہے۔اِس حوالے سے ہم ضابطہ اخلاق کے حامی ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں کہ آزاد صحافت پر کوئی قدغن نہیں ہونا چاہئے تاہم ہمارے لئے خود بھی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنا ضروری ہے ایسا ضابطہ جو صحافتی حلقوں کے تعاون اور جملہ روایات کی روشنی میں بنایا گیا ہو۔بہرحال اس پر پھر بات ہو گی آج تو ایک شخصیت کا ذکر لازم ہو گیا ہے۔

صبح صبح اُٹھ کر جب اپنا ہی اخبار پڑھا تو ایک جھٹکا سا لگا، تصویر کے ساتھ خبر موجود تھی کہ رانا نذر الرحمن اللہ کو پیارے ہو گئے، دُنیا میں جو آیا اُسے جانا تو ہے اور جب تک یہ دُنیا قائم ہے یہ آنا جانا لگا رہے گا تاہم بعض لوگ ایسی باغ و بہار شخصیات کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں کہ ان کی دائمی رخصتی کے باوجود ان کو مسلسل یاد کیا جاتا ہے۔ رانا نذر الرحمن بھی جنہوں نے93سال کی عمر پائی، ایک ایسے ہی دبنگ قسم کے انسان تھے کہ ان کو دیر تک یاد رکھا جائے گا وہ عمر کے آخری حصے تک متحرک رہے،روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اور اس کے چیف ایڈیٹر محترم مجیب الرحمن شامی کے ساتھ ان کا دیرینہ تعلق اور بے تکلفی بھی تھی، وہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید مودودیؒ سے بہت متاثر تھے،لیکن ان کی رحلت کے بعد جماعت سے کچھ تحفظات ہو گئے تھے اور یہ ان کے مزاج کا حصہ تھا کہ نظام اسلام پارٹی میں چودھری محمد علی کے ساتھ تھے تو تعلق مرحوم نوابزادہ نصر اللہ سے بھی تھا اور جب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ایک جماعت دو حصوں میں بٹی اور نوابزادہ نصراللہ نے پی ڈی پی(پاکستان جمہوری پارٹی) بنائی تو رانا صاحب اس سے وابستہ ہو گئے تھے، اپنی افتاد طبع کے باعث وہ یہاں بھی تنقید نگار تھے اور نوابزادہ نصراللہ سے بھی برملا اختلاف کیا کرتے تھے بہت دیر بعد سہی، اس جماعت سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ہمارا واسطہ رانا نذر الرحمن سے روزنامہ ’’امروز‘‘ کے دِنوں سے تھا کہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے لاہور کے شہری مسائل کا تحقیقی تجزیہ کر کے ان کو حل کرانے کی جدوجہد شروع کی اس سلسلے میں انہوں نے انجمن شہریان لاہور کی بنیاد رکھی اور اس کے صدر ہوئے، اس تنظیم نے بہت فعال کام کیا اور جب تک وہ متحرک رہے یہ انجمن بھی قائم نظر آئی، قویٰ کمزور ہوئے تو انجمن کی سرگرمیاں بھی کم سے کم ہوتی چلی گئیں اور عمر کے آخری حصے میں تو وہ شہری مسائل پر کالم لکھ کر گزارہ کر لیا کرتے تھے۔رانا نذر الرحمن انجمن شہریان لاہور کے صدر کی حیثیت سے متحرک تھے تو پریس کانفرنسوں کا بھی انعقاد کرتے تھے۔ مال روڈ کے گارڈینیا ریسٹورنٹ، شیزان اور چائنیز لنچ ہوم ان کی نشست رہتی تھی، بلکہ ان کی پریس کانفرنسوں کے باعث دوسری تنظیمیں بھی ان ریستورانوں سے رجوع کرنے لگی تھیں،مرحوم کی انہی سرگرمیوں کی وجہ سے ان سے تعارف ہوا، وہ شہری مسائل پر تحقیق کے بعد میڈیا کا سامنا کرتے تھے، تب صرف پرنٹ میڈیا اور ریڈیو کے ذرائع ہوتے تھے۔ پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب کے لئے ہر وقت تیار ہوتے تھے اور شہری مسائل کے حوالے سے وہ بڑے سے بڑے افسر سے ٹکرا جاتے تھے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ان کے سامنے ہی لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کی جگہ قائم ہوئی اور وہ اس اتھارٹی کے منصوبوں پر خود اتھارٹی تھے اور تمام ترقی اور بنیادی مسائل ان کے سامنے کی بات تھے۔

رانا نذر الرحمن نے سیاست میں بھی سرگرم حصہ لیا اور اس سلسلے میں جیل یاترا بھی کی اور مقدمات بھی بھگتے، رپورٹنگ کے اس دور میں بلدیات کا شعبہ بھی ہماری بیٹ میں شامل تھا اور ہم محنت بھی کرتے تھے اِس لئے رانا نذر الرحمن سے اتفاق اور اختلاف کا سلسلہ چلتا تھا۔ یوں تعلقات بھی اسی لحاظ سے تھے اگر وہ خود بڑوں پر بھی تنقید کر لیتے تھے تو اختلاف سننا بھی پسند کرتے تھے اور ہمارا ان کے ساتھ یہ سلسلہ مرتے دم تک جاری رہا۔ رانا نذر الرحمن شاید وہ واحد شخصیت تھے جو اپنی مرضی سے مینیو بناتے اور خدمت کرتے تھے،لیکن کبھی غیر معمولی طور پر کسی کی ’’ضرورت‘‘ پوری نہیں کرتے تھے۔ البتہ جذبہ شہریت کے حوالے سے وہ ضرورت مندوں کی مدد اور دوستوں سے تعاون کر لیتے تھے۔ رانا مرحوم نے سائنسی آلات کی درآمد اور تھوک و پرچون فروخت کے کاروبار کے علاوہ جائیداد کی خرید و فروخت سمیت اور بھی بہت کچھ کیا اور اپنی محنت سے بہت کچھ کمایا جو وراثت میں بھی چھوڑ گئے ۔

رانا نذر الرحمن نے مُلک میں چلنے والی قریباً تمام سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا، خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں دامے، درمے، سخنے شامل رہے۔ زندگی بھر کی اس جدوجہد کے حوالے سے انہوں نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں قسط وار اپنی آپ بیتی لکھنا شروع کی اور پھر اسے ایک کتاب’’صبح کرنا، شام کا‘‘ کے عنوان سے تحریر کی، اس میں تمام حالات کا احاطہ کیا۔انہوں نے اس پر کچھ نظرثانی بھی کی اور دوسرا ایڈیشن بھی شائع کرایا، اہم حالات اور واقعات کے حوالے سے ان کی یہ کتاب رہنمائی کی حامل ہے۔رانا نذر الرحمن زیادہ علیل ہونے سے پہلے تک ہمارے دفتر (روزنامہ پاکستان) آتے رہے،ان کے ساتھ یہاں بھی تبادلۂ خیال ہوتا تھا کہ ان کے تحریر کردہ بعض واقعات سے ہم اختلاف بھی کر لیتے تھے کہ ہم نے بھی رپورٹر کی حیثیت سے ایوب خان سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تمام تحریکوں کی رپورٹنگ کی ہوئی ہے اور بہت سے امور کے ہم بھی راز داں ہیں، اس سلسلے میں وہ اپنی بات کے حق میں دلائل اور شواہد بھی دیا کرتے تھے۔ ان کی یاد داشت آخری دم تک اچھی تھی تاہم کہا جاتا ہے کہ جب وہ زیادہ کمزور ہو گئے تو کچھ یاد بھی متاثر ہوئی۔

ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ برس ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا، ہم نے بھی دفتر کے بزرگوں اور ساتھیوں کے ساتھ نمازِ جنازہ میں شرکت کی ان سے تعزیت بھی کی تاہم یہ سب ان کو یاد نہ رہا تھا، چنانچہ بعدازاں دفتر میں انہوں نے شکوہ کیا تو ہم نے چودھری قدرت اللہ کی گواہی سے ثابت کر دیا کہ نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے تھے، اس کے بعد ایک بار وہ صاحبِ فراش ہوئے، طبیعت ناساز ہوئی تو گھر پر آرام کرنا پڑ گیا، اس عرصے میں وہ دوستوں کویاد کر کے بُلا لیا کرتے تھے، ہم بھی چودھری قدرت اللہ کے ساتھ جا کر عیادت کے ساتھ تبادلۂ خیال کر آتے تھے۔ یہ ان کی عادت تھی کہ وہ دوستوں اور ملنے والوں کے ساتھ اکثر بحث کر لیا کرتے تھے۔ عجب آزاد مرد تھا، مرنے والا، اللہ مغفرت فرمائے۔

مزید :

کالم -