سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کو منظر عام پر لانے کی درخواستیں 3برسوں سے فیصلے کی منتظر

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کو منظر عام پر لانے کی درخواستیں 3برسوں ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کو منظر عام پر لانے کی درخواستیں 3برسوں سے فیصلے کی منتظر

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کو منظر عام پر لانے کی درخواستیں 3برسوں سے فیصلے اور ایک سال سے باضابطہ طور پر سماعت کی منتظر ہیں.

پراسیکیوٹرزکی بھرتیوں میں خواتین کا 15فیصد کوٹہ بحال نہ کرنے پر متعلقہ محکموں سے جواب طلب

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جولائی 2014ءسے اظہر صدیق ایڈووکیٹ، شیراز ذکاءایڈووکیٹ اور پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر افراد نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری منظر عام پر لانے کیلئے درخواست دائر کی جن پر لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں فل بنچ تشکیل دیا، اس فل بنچ نے درخواستوں پر دو برس تفصیلی سماعت کی تاہم مئی 2016ءمیں جسٹس خالد محمود خان ریٹائر ہو گئے، جسٹس خالد محمود خان کی ریٹائرمنٹ کے ایک برس گزرنے کے باوجود لاہور ہائیکورٹ میں ان درخواستوں پر باضابطہ طور پر دوبارہ سماعت شروع نہیں ہو سکی، درخواستوں پر فیصلے اور سماعت میں طویل تاخیر پر وکلاءنے انصاف کی فوری فراہمی کے دعوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ چاہے ان کے خلاف ہی فیصلہ کرے لیکن فیصلہ تو کرے، لاہور ہائیکورٹ جیسے ادارے کی طرف سے اہم فیصلوں میں تاخیر ہونا یا ایک ایک برس سماعت نہ ہونے انصاف کی فوری فراہمی کے دعوﺅں کی نفی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ کیس کی جلد سماعت کے لئے درخواست گزاروں نے متعدد متفرق درخواستیں بھی دائر کی ہیں لیکن تکنیکی طور پر قانونی رکاوٹ کی وجہ سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی کیونکہ ہائیکورٹ رولز کے مطابق فل بنچ کے روبرو مقدمات میں جلد سماعت کی متفرق درخواستیں دائر نہیں ہو سکتیں، انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ذمہ دار قرار دیا گیا، حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے قاتلوں کو بچانے کے لئے رپورٹ دبا لی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فل بنچ بنائیں اور درخواستوں پر جلد فیصلے کیلئے کردار ادا کریں، شیراز ذکاءایڈووکیٹ نے کہا کہ درخواستوں پر جلد فیصلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے رپورٹ دبا لی اور دوسری طرف نامعلوم وجوہات کی بنا پر انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کی درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا۔

مزید :

لاہور -