ڈاکٹر ایم اے صوفی : ایک ہمہ جہت شخصیت

ڈاکٹر ایم اے صوفی : ایک ہمہ جہت شخصیت

ڈاکٹر صوفی وہیل چیئر پر بیٹھ کر مجید نظامی کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے تھے جب میں نے اُنہیں دیرینہ دوست کی جدائی کا پرسہ دیا تو اشکبار آنکھوں سے بولے ’’برخوردار ساڈا یار چلا گیا اے۔ ھن اپنا وی چل چلاؤ اے۔ ویکھ کدوں جانے آں‘‘۔ مجید نظامی اور ڈاٹکر صوفی ہم عمر بھی تھے اور ہم جولی بھی۔ دونوں کو جناح باغ سے بڑا قلبی لگاؤ تھا۔ نصف صدی سے زائد اس تاریخی پارک میں سیر کرتے رہے اور دونوں کی نماز جنازہ بھی سیر گاہ کے قرب و جوار میں ہوئی، دونوں دوستوں نے شاید نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور ایوان کارکنان پاکستان کے لئے جگہ کا انتخاب بھی شاید اس خیال کے تحت کیا تھا کہ یہ جناح باغ کے پہلو میں واقع ہے۔ مجید نظامی کی نماز جنازہ جناح باغ میں کاسمو کلب سے مستصل وسیع و عریض پارک میں اور ڈاکٹر صوفی کا جنازہ اس سے چند گز کے فاصلے پر ایوانِ کارکنان پاکستان کے مادر ملت پارک میں پڑھایا گیا۔ ڈاکٹر صوفی کو شاید مجید نظامی کی رفاقت اس قدر عزیز تھی کہ وہ نظامی صاحب کی رحلت کے بعد تین سال بھی زندہ نہ رہ سکے اور 10 جون 2017ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے جبکہ مجید نظامی 26 جولائی 2014ء کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ لارنس گارڈن کا نام جناح باغ میں تبدیل ہونے کے بعد دونوں ہم جولیوں نے اسے کبھی پرانے نام سے یاد نہیں کیا تھا۔ واک کرتے ہوئے جب بھی اپنے دونوں کرم فرماؤں سے ملاقات ہوتی تو کہتے کہ ہماری اس پارک سے قلبی وابستگی ہے یہاں نہ آئیں تو جی بوجھل سا رہتا ہے۔ دونوں دوست پارک کے بالمقابل کچھ ہی فاصلے پر رہائش پذیر بھی تھے۔ ہم نے بھی ان کے پہلو میں ایک فلیٹ کرایہ پر لے کر سکونت اختیار کر رکھی ہے اس لئے دونوں کی نجی زندگی کو خاصا قریب سے دیکھنے کا موقع نصیب ہوتا رہا۔ زندگی کے آخری ایام تک مجید نظامی اور ڈاکٹر صوفی نے جناح باغ کی سیر ترک نہ کی۔ ڈاکٹر صوفی علیل ہونے کے باوجود وہیل چیئر پر باقاعدگی سے سیر کرنے آتے رہے۔ کبھی برادرم احمر بلال صوفی اور کبھی عامر بلال صوفی انہیں پارک میں لے کر آتے تھے۔ نظامی صاحب اور صوفی صاحب دونوں کی قدر مشترک یہ تھی کہ بڑھاپے میں بھی شوخ رنگ کا لباس زیب تن کرتے، مجید صاحب بوشرٹ اور صوفی صاحب ٹی شرٹ گہرے رنگوں کی پہنا کرتے تھے، سیر کے دوران بھی انہیں کبھی شلوار قمیض میں نہیں دیکھا اور صبح سویرے اس قدر فریش دکھائی دیتے کہ یوں لگتا جیسے اپنے آدھے معمولات نپٹا کر آئے ہیں۔ دورانِ سیر بھی دونوں عام نوعیت کی گفتگو کے بجائے قومی ایشوز اور مختلف تقاریب کے اہتمام کے معمولات کو ترجیح دیا کرتے جب بھی دونوں سے ایک ساتھ بات کرنے کا موقع ملتا تو دونوں کا ایک ہی جواب ہوتا ’’برخوردار محنت کریا کر‘‘ نظامی صاحب تو اکثر اُردو میں بھی بات کر لیا کرتے تھے لیکن صوفی صاحب ٹھیٹ پنجابی میں گفتگو کرتے۔ وہ مجھے اکثر ’’نوائے وقت ‘‘ چھوڑنے پر شرمندہ کیا کرتے اور کہتے تھے ’’میں مجید نال تیری گل کرنا واں تو فوراً چلا جا اور کم شروع کر اوتھے‘‘ میں عذر یا بہانہ کرتا تو ڈانٹ کر کہتے ’’تینوں مجید یا نوائے وقت دا اس ویلے پتہ چلے گا جدوں اسی نہیں ہواں گے‘‘ واقعی �آج بھی ادارہ نوائے وقت خوب یاد آتا ہے، مجید نظامی اور ڈاکٹر صوفی (مرحومین) بھی دونوں مرنجان مرنج شخصیت تھے جو شاید کبھی کبھار پیدا ہوتی ہیں۔

میری ان سے رفاقت تو نہیں نیاز مندی کا رشتہ تھا لیکن دونوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ

مت سہیل’’انہیں‘‘ جانو پھرتے ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

ڈاکٹر صوفی کو جناح باغ سے تو انسیت تھی ہی ماہِ جون بھی انہیں بہت عزیز تھا 3 جون کی یاد میں قائد اعظم فورم کے تحت وہ نصف صدی سے زائد تقاریب سجاتے رہے لیکن اس مرتبہ ناسازئ طبع کے باعث 3 جون کی تقرب میں شریک نہ ہو سکے لیکن ان کے فرزندوں اور نیاز مندوں نے تقریب کا خوب اہتمام کیا احمر بلال صوفی نے شرکاء کو بتایا کہ ڈیڈی سخت بیمار ہیں اور شریک ہونے کے قابل نہیں اس لئے معذرت قبول فرمائیں۔ ماہ جون کو اگر ڈاکٹر صوفی نے ہمیشہ یاد رکھا تو اس مہینے نے بھی انہیں فراموش نہیں کیا اور 3 جون کی اس تقریب کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد وہ ابدی نیند سو گئے۔ محترم شاہد رشید نے رحلت کی اطلاع دی اور بتایا کہ نماز جنازہ ایوان کارکنان کے اندر مادر ملت پارک میں ادا کی جائے گی۔ اس روز آسمان بھی خوب مہربان ہوا اور مینہ بھی دل کھول کر برسا۔ ڈاکٹر صاحب کی نماز جنازہ میں ان کے دیرینہ رفقائے کار، عزیز و اقارب اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ غم زدہ اہل خانہ نے مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے رسمِ قل کے ختم کا اہتمام فلیٹیز ہوٹل میں کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو اس ہوٹل سے بھی خاصا لگاؤ تھا۔ قائد اعظم کی قیام گاہ ہونے کے ناطے اپنی اکثر تقاریب فلیٹیز میں ہی کروایا کرتے تھے۔ یقیناً ان کی روح کو اس مقام پر ختم قل کے انعقاد سے خاصی تسکین پہنچی ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب کے بیٹوں، پوتے، نواسوں نے اس موقع پر ان کے ایصال ثواب کی دعائے مغفرت بھی خود کروائی۔ ڈاکٹر صاحب طلسماتی شخصیت کے مالک تھے اور ملک بھر میں ہونے والی سماجی، سیاسی، اخلاقی تربیتی، اصلاحی، رفاہی اور تدریسی تقاریب کی جان سمجھے جاتے تھے وہ جس محفل میں شریک ہوتے اسے باقاعدہ لوٹ لیا کرتے تھے، ان کا بلند آواز قہقہہ تو بہت ہی مشہور تھا ہر فنکشن کو اپنے اس قہقہے سے کشت زعفران بنا دیا کرتے تھے۔ اپنی آمد کی اطلاع قہقہے کے ذریعے ہی دیا کرتے تھے۔ تقاریب میں بروقت آمد کو یقینی بناتے لیکن جب بوجوہ کبھی لیٹ ہو جاتے تو ہال میں داخل ہوتے ہی ایسا قہقہہ بلند کرتے کہ سارے شرکاء متوجہ ہو جاتے۔اسلامیہ کالج اولڈ بوائز ایسوسی ایشن لاہور کے پلیٹ فارم سے خوبصورت تقاریب کا اہتمام بڑی جانفشانی سے کرتے۔ ڈاکٹر صوفی نے مجھ سمیت کئی لوگوں کو بزم آرائی کا سلیقہ سکھا دیا۔ ایسوسی ایشن کے صدر رانا اللہ داد خان اور روح رواں سیکرٹری بیدار ملک (مرحومین) کے ساتھ ڈاکٹر صوفی نے لاہور میں مختلف قومی، بین الاقوامی اور سماجی نوعیت کی جو تقاریب منعقد کیں ان کا جواب ہی نہیں۔ ان میں اسلامیہ کالج کے سابق تحریکی طالبعلم سید ضمیر جعفری، جسٹس (ر) شیخ انوار الحق، ڈاکٹر منیر الدین چغتائی، امیر عبداللہ خان روکڑی، سید اسد علی شاہ، ڈاکٹر مسکین حجازی، مولانا عبدالستار خان نیازی، سرفراز مرزا، مرزا نسیم انور بیگ، ضیاء الاسلام انصاری اور دیگر اکثر شریک ہوا کرتے تھے۔ اولڈ بوائز کی تقاریب کا سب سے بڑا حسن یہ ہوتا کہ یہ عین مقررہ وقت پر شروع ہوتیں اور کسی بڑے سے بڑے کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا تھا البتہ روایات کے برعکس ایسا کیا جاتا کہ شرکاء کی تواضع تقریب کے آغاز میں ہی کر دی جاتی۔ یوں تقریب میں آنے والوں کو یہ احساس ہو گیا کہ اگر تاخیر سے جائیں گے تو کھانے پینے کو کچھ نہیں ملے گا۔ یہ روایت بھی ڈاکٹر صوفی کی متعارف کردہ تھی جس کا اثر اب تک لاہور کی کئی تقاریب میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ڈاکٹر ایم اے صوفی کے فرزند احمر بلال صوفی ایک نامور قانون دان اور آئینی و خارجہ امور کے ممتاز ماہر ہیں۔ وہ زمانہ طالب علمی میں بڑے معروف ڈیبیٹر تھے اور ملک بھر میں ہونے والے بین الکلیاتی مقابلوں میں ہمارا ان سے کئی بار آمنا سامنا ہوا اور آج تک دوستانہ تعلقات چلے آ رہے ہیں وہ بھی اپنے مرحوم والد کی طرح بڑے سر گرم ہیں۔ نگران دور حکومت میں وفاقی وزیر قانون کے منصب پر بھی فائز رہے۔ احمر بلال کا اپنے والد کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ ایک شفیق باپ، اعلیٰ پائے کے استاد اور بہترین معالج تھے۔ ڈیڈی انتھک محنت کے قائل اور دوست نواز بھی تھے۔ میرٹ اور محنت پر یقین کرتے۔ پاکستان سے جس قدر محبت ان کو تھی اس سے زیادہ کی نہیں جا سکتی۔

مرحوم کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی(محمد اسلم صوفی) ہر ی پورہزارہ میں محمدعبداﷲ کے گھر 28جولائی 1931ء کو پیدا ہوئے، مڈل کا امتحان 1947ء میں پاس کیااور ایک ننھے مقرر کے طور پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ 1948ء میں کشمیر کی جنگ میں حصہ لیا نیز کشمیر ریلیف کمیٹی میں خدمات انجام دیں۔ 1949ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ہری پور سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ 1952ء میں پشاور یونیورسٹی سے فیکلٹی آف سائنس ، ایف سی میڈیکل کی سند حاصل کی ۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور بیچلرر آف ڈینٹل سرجری(بی ڈی ایس) کی ڈگری حاصل کی۔آپ کا شمار وطن عزیز میں چوٹی کے ڈینٹل معالجین میں ہوتا تھا ۔انہوں نے ملک و بیرون ملک متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی، کالج آف کمیونٹی میڈیسن لاہور میں تدریسی فرائض انجام دینے کے علاوہ پرنسپل کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔مرحوم زمانۂ طالب علمی میں تحریک سول نافرمانی ور تحریک پاکستان کے متحرک رکن تھے۔ مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے باڈی گارڈبھی رہے ۔ 1946ء کے تاریخ ساز انتخابات میں ہری پور ہزارہ کے علاقے میں مسلم لیگی امیدواروں کو کامیاب کرانے کیلئے دن رات جدوجہد کی ،قیام پاکستان کے بعد بڑی تندہی سے مہاجرین کی دیکھ بھال اور آباد کاری کے کاموں میں حصہ لیا۔ تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے انہیں2010ء میں گولڈ میڈل بھی عطا کیا گیا ۔وہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ روزنامہ نوائے وقت ، روزنامہ پاکستان اور دیگر قومی اخبارات و جرائد میں باقاعدگی سے کالم اور مضامین لکھتے تھے جن میں تحریک پاکستان ، نظریۂ پاکستان اور اہم قومی و بین الاقوامی مسائل پر اظہار خیال کیاجاتا تھا۔

ڈاکٹر ایم کے صوفی کی نماز جنازہ میں سابق صدر پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ، وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، احمد اویس ایڈووکیٹ، کارکنان تحریک پاکستان چودھری ظفر اللہ ، کرنل(ر) سلیم ملک، ابصار عبدالعلی، چودھری ارشد، مشتاق احمد ورک، مزدور رہنما خورشید احمد، سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید، مولانا محمد شفیع جوش، حامد زمان، پروفیسر ہمایوں احسان، نعیم مصطفٰی، سید علی بخاری، منظور خان ، ڈاکٹر یعقوب ضیا، مرحوم کے عزیز و اقارب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ‘ وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد‘ چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف ‘ چیف جسٹس( ر) میاں محبوب احمد،جسٹس(ر) آفتاب فرخ ، جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان، کرنل(ر) سلیم ملک ، خواجہ خورشید وائیں، ایم کے انور بغدادی ، چوہدری ظفراللہ اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران نے احمر بلال صوفی سے ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے بلندئ درجات کیلئے دعا بھی کی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...