میں کون ہوں

میں کون ہوں

نام : محمد اسلم صوفی (ایم ا ے صوفی)

ولدیت: محمد عبداللہ راجپوت

تعلیم: بی ڈی ایس، ڈی پی ڈی ، ایم آئی سی ڈی (اعزازی)

تاریخ پیدائش : 28-7-1931 ہری پور ہزارہ

تاریخ وفات:10جون2017ء لاہور

سکونت (قیام پاکستان سے قبل): شہرہری پور ہزارہ، ایف ایس سی پشاور یونیورسٹی سے، بی ڈی ایس پنجاب یونیورسٹی سے

سکونت (قیام پاکستان کے بعد): اور 1961ء کے بعد لاہور میں سکونت ہے۔

تحریک پاکستان کے سلسلے میں خدمات:

مسلم لیگ/ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن / مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں کب شامل ہوئے؟ مسلم لیگ ہری پور شہر کے ممبر طالب علم کے طور پر تھے۔ نیشنل گارڈ کے علمبردار آپ کے پاس کون سا عہدہ تھا؟ مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے علمبردار کا اور ننھے سپیکر کے طور پر کام کیا۔ اعلانات کرنے والا میں تھا۔ اگر عہدہدار تھے تو کب تک؟ میٹرک کے امتحان 1949ء تک رہا۔ 29مئی 1949ء مادرِ ملت کی کار پر باڈی گارڈ ہری پور میں تھا۔

کیا ورکنگ کمیٹی میں شامل تھے؟ تمام میٹنگ میں شرکت کرنا ضروری تھی کیونکہ جلسے جلسوں کا اعلان مجھے ہی کرنا ہوتے تھے۔ آپ کے علاوہ اور کون رکن / عہدیدار شامل تھے؟ مسلم لیگ ہری پور شہر کے صدر ملک عزیز الرحمن ایڈووکیٹ تھے اور تحصیل ہری پور کے مسلم لیگ کے صدر فیض محمد خان آف کھلا بٹ تھے۔ بابا جلال ہزارہ مسلم لیگ کے صدر تھے۔ ہری پور تحصیل میں حکیم فرید الدین، مولانا غلام غوث ہاشمی ایڈووکیٹ، غلام، ان خان تارخیلی ، ایڈیٹر ’’جمہور‘‘ تھے۔ نیشنل گارڈ کے سالار گوہر الرحمن تھے۔

1946ء کے تاریخ ساز صوبائی اور وفاقی الیکشن میں مسلم لیگ کے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے کس علاقہ میں کام کیا: ہم نے ہری پور ہزارہ کے الیکشن میں حصہ لیا۔ 1946ء کے الیکشن میں ہزارہ نے دس نشستیں حاصل کیں اور باقی صوبہ سرحد میں کل سات نشستیں حاصل ہوئیں۔

جو کام سرانجام دیا اس کی مختصر تفصیل یا کوئی تصویری و دستاویزی ثبوت: تحریک سول نافرمانی ہری پور میں حصہ لیا۔ 26 فروری 1947ء پہلا جلوس سول نافرمانی کانگریس حکومت کے خلاف نکالا۔ پہلی گرفتاری غلام جان خان تارخیلی، ایوب ایاز، غلام حسین کھوکھر، رفیق انور اسی طرح شام کو جلوس جس میں ملک عبدالرحمن، فضل الرحمن ، سیٹھ عبدالحمید اور راقم نے گرفتاری دی۔ بعد میں مجھے چھوڑ دیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد ملازمت / کاروبار کی تفصیل (اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو دیں) قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آبادکاری میں حصہ لیا اور پڑھائی کی طرف توجہ دی مگر اب تک مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور کشمیر کی آزادی جنگ 1948ء میں حصہ دار رہا۔ کشمیر کی جنگ سے 31دسمبر 1948ء کو واپس آیا تو میٹرک کا امتحان 1949ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ ہماری والدہ کا حکم تھا بابا جناح اور مسلم لیگ کا ساتھ دینا ہے۔ پاکستان کی خوشی کی اہمیت اور واقعات بتا نہیں سکتے۔ جن لوگوں نے مزید کام کیا۔ ان کی اہمیت علیحدہ کاغذ پر ہے۔(کاغذ ساتھ منسلک ہے)

تحریک پاکستان کے سلسلے میں خدمات

محمد اسلم بطور طالب علم آٹھویں کلاس سکول سناتن دھرم ہائی سکول مسلم لیگ ہری پور ہزارہ کا ورکر تھا اور مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں علمبردار تھا۔ گوہر رحمن عرف پاکستانی مسلم لیگ نیشنل گارڈ تحصیل ہری پور ہزارہ کے سالار تھے۔ ایوب ایاز سالار شہرتھے۔ مسلم لیگ شہر ہری پور کے صدر ملک عزیز الرحمن ایڈووکیٹ تھے اور مسلم لیگ تحصیل کے صدر فیض اللہ خان آف کھلا بٹ تھے۔ ایوب ایاز سالار شہر تھے۔ مسلم لیگ شہر ہری پور کے صدر ملک عزیز الرحمن ایڈووکیٹ تھے اور مسلم لیگ تحصیل کے صدر فیض اللہ خان آف کھلا بٹ تھے۔ تحصیل مسلم لیگ کے محلہ ورکر لیڈر غلام جان خان تار خیلی ایڈیٹر ’’جمہور‘‘ ، مولانا غلام غوث ہاشمی (ایڈووکیٹ)، حکم فرید الدین چغتائی، حاجی غلام حسین کھوکھر محلہ لوہاراں، سیٹھ عبدالحمید خٹک، ملک عبدالرحمن ، سردار بہادر خان ریحانہ، ماسٹر مظفر دین، بابو عبدالکریم، ہمارے ساتھ اردگرد گاؤں کے بہادر لوگ(تحصیل ہری پور ہزارہ) مسلم لیگ کے بڑے سپیکر اور ورکر تھے۔ مثلاً سید صفدر زمان شاہ آف علی خان ، سلطان حیدر نعمان خان پور، سیٹھ دوست محمد کوٹ، نجیب اللہ،جہانگیر عبدالرحمن کوٹ نجیب اللہ ،سردار انور خان، اصل میں لاتعداد لوگ تھے جن کے نام یاد نہیں۔

***

شہر ہری پور ہزارہ مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے ورکرز:

1

حکیم فرید الدین چغتائی

2

مولانا غلام غوث ہاشمی ایڈووکیٹ

3

فیض محمد خان آف کھلا بٹ

4

غلام جان خان تار خیلی ایڈیٹر ’’جمہور‘‘

5

گوہر الرحمن پاکستانی (نیشنل گارڈ)

6

ایوب ایاز (نیشنل گارڈ تحصیل)

7

حاجی عبد غلام حسن کھوکھر

8

سردار جہانگیر خان گوجرہ تربیلہ

9

محمد افضل خان لقمانیہ تربیلہ

10

صفدر زمان شاہ (علی خان)

11

علی اکبر خان (مسلم لیگ نیشنل گارڈ سالار)

12

سلطان راجہ حیدر زمان خان (خان پور)

13

سیٹھ دوست محمد کوٹ نجیب اللہ

14

جہانگیر عبدالرحمن کوٹ نجیب اللہ

15

سردار محمد انور خان آف کوٹ نجیب اللہ

16

مولانا عبدالغنی ہزاروی

17

مولانا غلام زبانی۔۔۔

18

بابو عبدالعزیز

19

ماسٹر معظفر دین

20

سردار بہادر خان

21

محمد اشرف زمان

22

خان بہادر محمد حسنین

23

غلام ربانی خاں

قیوم شاہ داتا ،محمد افضل آف سفیدہ (مانسہرہ) ، محمد انور خان خان خیل(صدر ضلع)، سالار نیشنل گارڈ محمد انور خان، دوتار، محمد ہارون خان آف مانسہرہ، خداداد خان بوگڑ، حاجی ملک محمد اکرم خان جیوبوڑی، ملک محمد اشرف مانسہرہ۔

سردار بہادر خان سپیکر احسن علی خان سوئی، خان بہادر بمع زمان، محمد عباس خ، راجہ عبدالرحمن، لیاقت علی خان، سنٹرل پارلیمانی بورڈ۔

تحریک سول نافرمانی ہری پور ہزارہ 1947ء

26فروری1947ء پہلا جلوس کانگریس وزارت کے خلاف ہری پور سے نکلا۔ پہلی گرفتاری ہوئی۔ غلام جان خان تارخیلی، ایوب ایاز، غلام حسین کھوکھر، رفیق انور نے گرفتاریاں پیش کیں۔

شا کو جلوس:

عبدالرحمن، فضل الرحمن، آغاسید سکندر شاہ، عبدالقیوم محلہ شیر والا، سیٹھ عبدالحمید، سیٹھ عبدالرزاق، بابا عزیز، شیخ کرم الہٰی شیخ محمد عبداللہ ایڈووکیٹ ، سلطان محمد خان۔۔۔ لالہ فضل الرحمن اور محمد اسلم متعلم نے گرفتاریاں پیش کیں۔ متعلم محمد اسلم کو دور لے جا کر چھوڑ دیتے کیونکہ عمر کم تھی۔

25فروری 1947ء کی رات:

خان عبدالقیوم نے مردان، جلال بابا نے ایبٹ آباد، محمد علی خان آف ہوتی نے مردان ، دم سازخان نے بنوں میں گرفتاری دی۔ عورتوں میں سے حکیم فریدالدین کی بیٹی ساحرہ چغتائی ، بیگم کمال الدین، شیخ عبداللہ کی بیٹیاں نے تحریک پاکستان میں کام کیا۔

ایبٹ آباد سے:

مولانا محمد اسحاق خطیب جامع مسجد ، حکیم عبدالعزیز چشتی سیکرٹری نشرواشاعت، مولانا عبدالغنی سپیکر، قاضی اسد الحق ایڈووکیٹ ، شیخ محمد رحمت ایڈووکیٹ، بابا غلام حسین، لالہ محمد اکرم، سید داؤد شاہ(حویلیاں)، ماسٹر عبدالحی(حویلیاں) عبدالجبار مانسہرہ، طاؤس خان بالا کوٹ ، خان بہادر خان گڑھی حبیب اللہ، سید محمود شاہ نے کاغان سے گرفتاریاں پیش کیں تھیں۔

بے شمار لوگ تھے۔ ہزارہ کا ہر فرد پاکستان حاصل کرنے کے لئے بیتاب تھا۔ ہزارہ کو صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کا گڑھ کہا جاتا ہے۔

فوٹو گرافی سے متعلق نوٹ:

اس زمانے میں فوٹو گرافی کا نہ تو رواج تھا، نہ ایسی سہولت عام آدمی کو دستیاب تھی۔ دوسرا اس زمانے میں تصویر بنوانا، تصویر کا گھر میں رکھنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ صرف سرکاری فوٹو گرافر ہی ہوتے تھے۔ ہری پور میں ایک کیمرہ مین، بازار میں بیٹھتا تھا، ایک اونچے بنچ پر کیمرہ نصب تھا۔ کپڑے سے ڈھانپا ہوا ہوتا تھا۔ مسلمان نہ تو اقتصادی اعتبار سے کیمرہ خرید سکتے تھے اور نہ ہی کیمرہ رکھنا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں بجلی بھی یہ نہ تھی۔ وہ دنیا ہی کچھ اور تھی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...