ترقی وخوشحالی کیلئے تعلیم وصحت کے شعبوں پرتوجہ دینا ہوگی

ترقی وخوشحالی کیلئے تعلیم وصحت کے شعبوں پرتوجہ دینا ہوگی

پنجاب کے بجٹ میں تعلیم وصحت کو ترجیح دی گئی

ز۔ا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا بھر میں تعلیم و صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ان ہی دو اہم شعبوں کی جانب سے چشم پوشی برتی جاتی ہے۔ ملک میں صحت و تعلیم کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار تو ایک طرف نجی تعلیمی مراکز بھی محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بن گئے ہیں، تعلیم کو کاروبار بنانے کے رجحان نے فیسوں میں ہوشربا اضافہ تو کردیا لیکن تعلیمی معیار گرتا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد ملک میں صحت کی سہولیات بھی عنقا ہوتی جا رہی ہیں۔

صحت اور تعلیم لازمی انسانی حق ہے جبکہ شہریوں کی صحت مند زندگی ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے، تعلیم اور صحت کو کاروبار بنالیا گیا، چند کمروں کی عمارتوں میں میڈیکل کالجز کھلے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے مطابق ملک بھر میں ڈھائی کروڑ بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ یہ پاکستان میں بچوں کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ ہے۔ باقی جو بچے سکول جاتے بھی ہیں، اْن کو فراہم کی جانے والی تعلیم بھی کچھ زیادہ معیاری نہیں ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اڑتالیس فیصد اسکولوں کی عمارتیں خطرناک اور خستہ حال ہیں، جن کو فرنیچر، ٹوائلٹس، چار دیواری، پینے کے صاف پانی اور بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اٹھارہ فیصد اساتذہ عموماََ سکولوں سے غیر حاضر رہتے ہیں۔صحت اور تعلیم جیسے شعبوں پر پاکستان غریب افریقی ملک کانگو سے بھی کم خرچ کرتا ہے جب کہ کانگو صحت پر جی ڈی پی کا 1.2 فیصد اور تعلیم پر 6.2فیصد خرچ کرتا ہے۔ پاکستان میں صحت پر جی ڈی پی کا 0.8 فیصد اور تعلیم پر 1.8 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا ان شعبوں پر پاکستان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک ترقی نہیں کرسکتا،تعلیم کیلئے بھی انسانی جسم اور ذہن کا تندرست وتوانا ہونا ضروری ہے بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کیلئے صحت اور تعلیم کے شعبے ترجیحات میں آخری نمبروں پر رہے ہیں۔سرکاری اعداوشمار کے مطابق شرح خواندگی پچاس فیصد سے زیادہ بتائی جاتی ہے ان تعلیم یافتگان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو محض اپنا نام ہی لکھنا جانتے ہیں۔عوام کو حقیقت میں تعلیم یافتہ بنانے کیلئے ہر سطح پر ایک کمٹمنٹ اور عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو تعلیم کے معیار میں بہتری اور فروغ کیلئے ایسی جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہوگی جو ملک بھر میں یکساں ہو، کیونکہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی تعلیم کو اہمیت دیتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم و تربیت ہمارے ملک کی ترقی و کامیابی کے لئے زندگی وموت کا معاملہ ہے۔ آئیے ایک نظر تعلیم و صحت کے بجٹ پر ڈالتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے 18ا۔2017 کے بجٹ میں تعلیم کے لیے 90 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ صحت کے لیے 12 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ تو کیا گیا ہے تاہم اس شعبے کے مبصرین اس سے کئی گنا زیادہ اضافے کی تجاویز دیتے رہے ہیں۔تعلیم:وفاقی حکومت نے تعلیم کے لیے بجٹ میں 6.1 فیصد کا اضافہ تجویز کیا ہے، جو کہ 73 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتا ہے۔

2016-17 کے بجٹ میں حکومت نے 84 ارب 19 کروڑ 50لاکھ روپے مختص کیے تھے تاہم تعلیم پر 84ارب 70 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ -17 2016 کے بجٹ کی مجموعی مالیت 43 کھرب 90 ارب روپے تھی۔

حالیہ-18 2017 کے بجٹ کی مجموعی مالیت 47 کھرب 50 ارب روپے ہے جس میں سے تعلیم کے لیے 90 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔مختص بجٹ میں پری پرائمری اور پرائمری تعلیم کے میدان میں 8 ارب 74 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔سیکنڈری ایجوکیشن کی بہتری کے لیے 10 ارب 79 کروڑ 80 لاکھ مختص کیے گئے ہیں۔انتظامی امور کے لیے ایک ارب 28 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ تعلیمی خدمات کے لیے ایک ارب 28 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ قوموں کی عروج و زوال کا تعلق صحت و تعلیم سے ہے۔وفاقی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 35.7 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال 2016-2017 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کل 79.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اسی طرح مالی سال 2015-16 میں 71.5 ارب جبکہ مالی سال 2014-15 میں اعلیٰ تعلیم کے لئے 63 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔

صوبہ پنجاب کی حکومت آئندہ دو برس میں 36ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیر ،ضروری سہولتوں کی فراہمی،مخدوش عمارتوں کی بحالی و ضروری مرمت کا ارادہ رکھتی ہے۔(DFID)ڈیفڈ آئندہ دو برس میں 11ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیر میں معاونت فراہم کرے گا جس سے مزید بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں مدد ملے گی۔

چھوٹے بچوں کے لئے پنجاب بھر میں دس ہزارکے قریب EarlyChildhood Education Rooms بنانے کا ارادہ بھی حکومت پنجاب رکھتی ہے،تاکہ چھوٹے بچوں کا جو وقت ضائع ہو جاتا ہے، اس وقت میں بچے بنیادی صلاحیتیں جیسے بولنا، لکھنا ،پڑھنا،رنگوں میں فرق کرنا وغیرہ سیکھ جائیں۔

تعلیمی بجٹ 2017-18 میں سکول ایجوکیشن کی ترقی اور مستحق بچوں کی تعلیم تک رسائی کیلئے خصوصی فنڈز مہیا کئے گئے ہیں تا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے،صوبائی حکومت نے غریب بچوں کی تعلیم تک رسائی ممکن بنانے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سکول ایجو کیشن سیکٹر کی ترقی حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ یہ کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے کہ پنجاب ایجو کیشن فاؤنڈیشن کے توسط سے 25لاکھ بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ2لاکھ ذہین مگر مستحق طالبعلموں کو انڈوومنٹ فنڈ کے ذریعے ساڑھے گیارہ ارب روپے کے وظائف مہیا کئے گئے ہیں۔ فروغ تعلیم کے اقدامات سے معاشرے میں مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے ، اور اس طرح اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں جس سے تمام طبقات کو فائدہ پہنچتا ہے۔

پنجاب کے مالی سال 18۔2017ء کے بجٹ میں اساتذہ کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق پرائمری اسکول ٹیچر کو گریڈ 9 سے اپ گریڈ کرکے گریڈ 14، ایلیمنٹری اسکول ٹیچر کو گریڈ 14 سے 15 اور گریڈ 15 میں پہلے سے موجود ای ایس ٹی اساتذہ کو گریڈ 16 میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔بجٹ تجویز کے مطابق گریڈ 16 میں پہلے سے موجود ای ایس ٹی اساتذہ کرام کو دو اضافی سالانہ انکریمنٹس دیئے جائیں گے اور یہی سہولت تمام ایس ایس ٹی اساتذہ کو بھی دی جائے گی، اسی طرح نان فارمل بیسک ایجوکیشن کے اساتذہ کے اعزازیہ میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔بجٹ میں تجویز اپ گریڈیشن پیکیج کی تفصیلات جلد ہی نوٹیفائی کی جائیں گی، اس پیکیج پر آئندہ مالی سال میں یکم فروری 2018ء سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا اور تقریباً 9 ارب روپے سالانہ کی مالیت کے اس پیکیج سے مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ سے زائد اساتذہ کرام مستفید ہوں گے۔

وفاقی حکومت نے صحت کے لیے بجٹ 18۔2017 میں 12 ارب 84 کروڑ 70 لاکھ روپے تجویز کیے ہیں۔17۔2016 کے بجٹ میں 12 ارب 10 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھے گئے تھے تاہم تجویز کردہ رقم سے زیادہ اس شعبے میں خرچ ہوئی، بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت نے صحت پر 12 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ خرچ کئے۔رواں برس بجٹ میں سرکاری ہسپتالوں کی خدمات کے لیے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پبلک ہیلتھ سروسز کی مد میں 43 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ہسپتالوں میں آلات کی فراہمی کے لیے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ حالیہ بجٹ کی مالیت 47 کھرب 50 کروڑ سے زائد ہے، یوں اس میں صحت کے لیے دو فیصد بجٹ بھی مختص نہیں ہو سکا ہے۔

صحت کے ترقیاتی بجٹ میں حکومت پنجاب نے 62فیصد اضافہ کیا ہے۔ ملتان ،بہاولپور،فیصل آباد اور راولپنڈی میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی تنظیم نو اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق آئی ایس او 17025سرٹیفیکیشن حاصل کی جائے گی۔زچہ وبچہ کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے IRMNCH پروگرام کے لئے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے آئندہ مالی سال میں 24ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔میو ہسپتال لاہور میں سرجیکل ٹاور کے لئے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے مری میں 100بستروں پر مشتمل زچہ بچہ ہسپتال کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

پنجاب کے آئندہ مالی سال 2017-18ء کے بجٹ میں اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 25260 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 25 ارب 26 کروڑ روپے رکھنے گئے، جس میں سے جاری اسکیموں کیلئے 7550 ملین روپے، نئی سکیموں کیلئے 7510 ملین اور دیگر ترقیاتی پروگرام کیلئے 10200 ملین روپے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کیئر کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 25048 ملین روپے رکھے گئے ہیں، جس میں جاری سکیموں کیلئے 15981.851 ملہین روپے، نئی اسکیموں کیلئے 8766.149 ملین روپے اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کیلئے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ترقیاتی پروگراموں میں سرگودھا، بہاولپور اور راولپنڈی میں ڈویڑنل ری ہیبلی ٹیشن سینٹر کے قیام کیلئے 100 ملین روپے، نئے اسپتالوں کیلئے 100 ملین روپے، ہیلتھ انشورنس پروگرام پنجاب کیلئے 2000 ملین روپے، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر لاہور کیلئے 8000 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔

پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کیئر کے ترقیاتی پروگرام جس میں ہیپاٹائٹس پریوینشن اینڈ ٹریٹمنٹ پروگرام کیلئے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت کا تعلیم و صحت کے لئے بجٹ میں اضافہ خوش آئند بات ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے اس دو شعبوں میں مطلوبہ اہداف حا صل کئے جائیں۔ ایسی صورتحال میں سول سوسائٹی میں تعلیم وصحت کے شعور کو عام کیا جانا ضروری ہے، کیونکہ یہ انسان کا بنیادی حق ہے اور اسی سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ ملک کی بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے یہاں اب تک تعلیم وصحت پر کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں ہوئی، جبکہ قائد اعظم نے باقاعدہ طور پر تعلیم وصحت کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا خاص مقصد یہ تھا کہ وہ تعلیم اور صحت کیلئے ایک جامع پالیسی مرتب کرے۔ اگر حکومت سیاسی طور پر پختہ ارادہ کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ تعلیم و صحت میں بہتری نہ ہو، لیکن مسئلہ صرف فنڈز کے کم یا زیادہ ہونے کا نہیں بلکہ اس کے موثر استعمال کا بھی ہے۔

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...