انٹری ٹیسٹ کا پھندہ

انٹری ٹیسٹ کا پھندہ

معاذعبداللہ۔یو ای ٹی

انٹرمیڈیٹ کے طلباامتحانات سے فارغ ہوچکنے کے بعداب ایک بڑے امتحان کی تیاری میں مصروف ہونے والے ہیں۔جسے انٹری ٹیسٹ کے نام سے جاناجاتا ہے۔یہ داخلہ ٹیسٹ میڈیکل کالجوں اورانجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے لیاجاتاہے۔ چنانچہ جن طلبا کی منزل ڈاکٹریاانجینئربنناہوتاہے وہ بالترتیب MCAT اورECATنامی ٹیسٹ دیتے ہیں۔

اگرچہ ایف ایس سی کے امتحانات کے ذریعے طلبا کی اہلیت کوجانچ لیاجاتاہے اورماضی میں انٹر کے رزلٹ کی بنیاد پر ہی داخلے دیے جاتے تھے مگر انٹری ٹیسٹ کو متعارف کروایاگیا یعنی ایک اور امتحان کا اضافہ کردیا گیا۔ انٹری ٹیسٹ کولازمی قرار دیتے ہوئے دوتوجیہات بیان کی جاتی ہیں کہ:

-1 اس ٹیسٹ کے ذریعے سے پتہ چلایاجاتاہے کہ کس طالب علم نے رٹالگایااورکس طالب علم نے Concepts کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔

-2 مختلف تعلیمی بورڈز کے پیپر علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں ۔لہٰذا تمام بورڈز کے طلبا میں برابری کو برقرار رکھنے کے لیے یہ مشترکہ ٹیسٹ لیے جاتے ہیں۔

اگرغورکیاجائے تویہ دونوں باتیں بے بنیاد محسوس ہوتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایف ایس سی کے امتحانات سے طلباکی صحیح تعلیمی اہلیت کاپتہ نہیں لگایاجاسکتا تو پھرانہیں بہتر کیاجائے ‘وگرنہ ختم کردیاجائے اور دوسری بات کہ ہرتعلیمی بورڈ کے پرچے علیحدہ علیحدہ بنتے ہیں،جس کی وجہ سے انٹری ٹیسٹ لیاجاتاہے کاجواب یہ ہے کہ اگر مشترکہ انٹری ٹیسٹ لیاجاسکتاہے توتمام بورڈز کا مشترکہ پیپرکیوں نہیں لیاجاسکتا؟

ان تمام باتوں کے باوجود اگرمحکمہ تعلیم انٹری ٹیسٹ لیناہی چاہتاہے تو اسے چاہئے کہ اسے طلباکے لیے وبال جان نہ بنایاجائے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے نام پرطلبا کوبے پناہ ذہنی اذیت سے دوچارکیاجاتاہے لیکن حکومت یا محکمہ تعلیم اس نا انصافی کا نوٹس لینے کے لیے تیارنہیں۔اگرچہ اس موضوع پر بہت کچھ لکھاجاچکاہے مگرہم طلباکی پریشانی کومدنظررکھتے ہوئے ’’شایدکہ تیرے دل میں اترجائے میری بات‘‘ کے تحت زنجیر ہلا دیتے ہیں۔

ایک اور دریاکاسامنا:

انتہائی مشکل اورطویل سلیبس کی تیاری اور تھکا دینے والے امتحانات کے بعدبھی طالب علموں کو سکون کا سانس لینانصیب نہیں ہوتابلکہ اب ان کے سامنے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے اکیڈمی تلاش کرنے‘پچھلے سال کی کتابیں ڈھونڈنے اوربہترنمبر لینے کے لیے مختلف اساتذہ سے مشورے کرنے جیسے کوہِ گراں سراٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ انٹری ٹیسٹ میں ’’یقینی کامیابی‘‘ کے لیے مختلف اقسام کے وظائف یاد کرنے پربھی دماغ خرچ کرناپڑتاہے۔

دوسری طرف مختلف اکیڈمیاں بھی منتظرہوتی ہیں کہ کب پیپر ختم ہوں اور ’’آگیا وہ ’’شکار‘‘ جس کا تھا انتظار‘‘ والے لمحات آئیں اور ایف ایس سی کے امتحانات کے بعد بغیرکسی وقفے کے دوبارہ کلاسیں شروع کردی جاتی ہیں۔

زیادہ سے زیادہ طلباکو اپنی اکیڈمیوں میں لانے کے لیے اکیڈمیاں کچھ اساتذہ کو"Hire"کرلیتی ہیں۔ یہ اساتذہ اب ان اکیڈمیوں کے ایجنٹ کے طورپر کام کرتے ہیں اوراپنی اپنی کلاس میں بچوں کو کسی مخصوص اکیڈمی میں تیاری کرنے کانہ صرف مشورہ دیتے ہیں بلکہ باقاعدہ طورپر بچوں کوقائل کرتے ہیں کہ کامیاب ہونے کے لیے اسی اکیڈمی میں داخلہ لینا ضروری ہے ۔چنانچہ اس ’’خیرخواہی‘‘ کے نتیجہ میں یہ اساتذہ متعلقہ اکیڈمیوں سے اپناحصہ وصول کرتے ہیں اوریہ ریٹ فی طالب علم 1ہزار سے 2ہزار تک ہوتاہے۔

’’آؤٹ آف سلیبس‘‘تیاری:

انٹری ٹیسٹ کامقرر کردہ سلیبس ایف ایس سی کی نصابی کتابیں ہی ہوتی ہیں لیکن بچوں کو ’’علمی تشدد‘‘ کا نشانہ اس طرح سے بنایاجاتاہے کہ ہراکیڈمی نے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے اپنی علیحدہ کتب تیارکی ہیں۔ نسبتاً چھوٹی اکیڈمیاں نوٹس بنالیتی ہیں اورطلبا کو یہ کتب پڑھنے پرنہ صرف مجبورکیاجاتاہے بلکہ ستم یہ کہ ٹیسٹ بھی انہی میں سے لیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً طالب علم ٹیکسٹ بک کو چھوڑکے ان مشکل کتب کو پڑھتاہے جس کانتیجہ ذہنی دباؤ کی صورت نکلتاہے۔اکیڈمیاں بچوں کے ساتھ یہ ظلم صرف پیسے کمانے کی خاطر کرتی ہیں کیونکہ ہر طالب علم سے ان کتابوں کے 2500روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ یوں نہ صرف بچوں کے لیے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کو مشکل بنایاجاتاہے بلکہ ان کے والدین کی جیبوں سے ناجائز اور اضافی پیسے بھی بٹورے جاتے ہیں۔

ہوشربافیسیں:

ان اکیڈمیوں کی فیسوں کاجائزہ لیاجائے تو مختلف اکیڈمیوں نے اپنے ریٹ مختلف رکھے ہوئے ہوئے ہیں۔مشہوراوربڑی اکیڈمیاں 30سے 35ہزار اور چھوٹی اکیڈمیاں 20ہزار روپے تک فیس وصول کرتی ہیں۔دیکھاجائے تو انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے والے طلبا کی اکثریت نہ صرف ذہین ہوتی ہے بلکہ ان کے ایف ایس سی میں نمبربھی اچھے ہوتے ہیں۔اب ایسے طلباکو وہی سلیبس پڑھانے کے اتنے زیادہ پیسے لینا جو کہ انہوں نے نہ صرف دوسال پڑھاہوتاہے بلکہ اچھے نمبروں سے اس میں پاس بھی کیاہوتاہے، شدیدناانصافی ہے۔

لیکن ہمارے ملک میں تعلیم ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ پرائیویٹ سکول اورکالجوں کی ہوشربافیسوں سے ہٹ کر صرف انٹری ٹیسٹ کاجائزہ لیاجائے تو حیران کن اعدادوشمار سامنے آتے ہیں۔ میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے انٹری ٹیسٹ میں شامل ہونے والے طلبا کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہوتی ہے جبکہ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کادورانیہ تقریباً تین ماہ تک کاہوتاہے۔ اس حساب سے یہ تقریباً 3ارب روپے کی صنعت بنتی ہے اور یہ 3ارب روپیہ مڈل کلاس اور لوئرمڈل کلاس والدین کی جیبوں سے ہی نکلوایاجاتاہے۔

مزیدافسوسناک بات یہ ہے کہ نصف سے زائد طلبااتنی زیادہ فیسیں ادا کرنے کے بعدبھی مطلوبہ تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے اور اگلے برس مزید استحصال کے لیے تیارہوجاتے ہیں۔میڈیکل کے طلباکے لیے تویہ بات مزیدبھیانک اس طرح ہوجاتی ہے کہ بمشکل 5فیصد طلباہی MBBSمیں داخلہ لے پاتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دورمیں غریب والدین کی جیب پریوں کھلے عام ڈاکہ ڈالاجاتاہے اورکوئی پرسانِ حال نہیں۔

دیہاتی اورنیم شہری طلبا کے لیے خصوصی پیکیج:

اس سارے جھنجٹ میں سب سے زیادہ نقصان پیدل اورسائیکلوں پرسکول جانے والے،کارٹون نیٹ ورک اور ویڈیوگیمز دیکھنے کی بجائے کھیتوں میں والدین کا ہاتھ بٹانے والے اور چراغ کی روشنی میں تعلیم حاصل کرنے والے دیہاتی علاقوں کے طلبااٹھاتے ہیں کیونکہ انہیں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑتاہے اوروہاں جاکر ہاسٹل میں رہائش پذیر ہونا پڑتا ہے جس صورت میں کم ازکم 10ہزار ماہانہ خرچے میں اضافہ ہوجاتاہے ۔یوں یہ غریب طلبا خصوصی ’’پیکیج‘‘ کے تحت 30ہزار روپے کااضافی نقصان برداشت کرتے ہیں۔ مزیدبرآں گھروں سے دور آکر یہ طلبا مزید پریشان ہوتے اور’’پھرتے ہیں خوار میرکوئی پوچھتانہیں‘‘ کی عملی تصویر نظرآتے ہیں۔

حکمران حال مست۔۔۔افسران مال مست:

انٹری ٹیسٹ اکیڈمیوں کے مالکان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہ انتہائی بارسوخ شخصیات ہیں (یااب بن گئے ہیں)لہٰذا یہ انٹرکے امتحانات کے بعد انٹری ٹیسٹ کی تاریخ آگے بڑھانے کی کوشش میں رہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیاہ فیسیں وصول کی جاسکیں۔حالانکہ اصولی طورپر یہ ٹیسٹ پیپروں کے 15دن بعد ہوجاناچاہیے۔ اس مقصد کے لیے تمام مالکان اکٹھے ہوکر محکمہ تعلیم کے افسران پر’’دباؤ‘‘ ڈالتے ہیں جس پرہرمرتبہ انٹری ٹیسٹ کی تاریخ آگے چلی جاتی ہے۔ ہمارے حکمران جن کی ترجیحات میں تعلیم دوردور تک نظرنہیں آتی اس صورتحال سے یکسر بے خبرنظرآتے ہیں۔

حکومت کی ذمہ داریاں:

طلبااور والدین کی مشکلات کوپیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ لوگ سکون کاسانس لے سکیں۔

*۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے پیپروں اورانٹری ٹیسٹ کے درمیانی وقفہ کو کم کیاجائے تاکہ طلبا طویل وقتکی ذہنی اذیت سے بچ سکیں۔

*۔۔۔ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والی اکیڈمیوں پرپابندی لگائی جائے اور طلباکی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ خود تیاری کریں۔

*۔۔۔دوسری صورت میں اکیڈمیوں کے لیے فیسوں کی حد مقرر کی جائے تاکہ یہ اکیڈمیاں اپنی من مانی نہ کرسکیں۔

اس کے علاوہ طلباکو چاہیے کہ وہ اکیڈمیوں میں جاکر وقت اورپیسہ بربادکرنے کے بجائے گھر بیٹھ کر تیاری کریں اور ’’ایجنٹوں‘‘ سے ہوشیاررہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...