فلاحی ادارے لوگوں کی خدمت میں پیش پیش زیب النساء ٹرسٹ ہسپتال۔۔۔

فلاحی ادارے لوگوں کی خدمت میں پیش پیش زیب النساء ٹرسٹ ہسپتال۔۔۔

انسان کو سب مخلوقات سے ممتاز کرنے میں جہاں دیگر خصائل اور اوصاف کا اہم کردار ہے۔ وہاں در دمندی ، خدمتِ خلق اور انسانی فلاح و بہبود کا انتہائی غیر معمولی کردار ہے۔ یہ مظہر اظہرِ من الشمس ہے کہ دنیا کے جن سماجوں میں انفرادی، اجتماعی، ریاستی اور قومی سطح پر انسانوں میں درد مندی، خدمتِ خلق اور انسانی فلاح و بہبود کا جذبہ نظری ، فکری اور عملی طور پر مروج ہے وہاں انسان اور وہ معاشرہ مجموعی طور پر دن دْگنی رات چگْنی ترقی و خوشحالی کے زینے انتہائی آسانی سے چڑھ رہے ہیں۔

خدمتِ خلق اور انسانی فلاح و بہبود کا تصور تمام مذاہب میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ جبکہ غیر مذہبی معاشروں اور انسانوں میں بھی یہ جذبہ پایا جاتا ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں دنیا بھر میں بکھری پڑی ہیں۔ مذہبِ اسلام بھی اس پر مکمل زور دیتا ہے۔ جس کی نظری اور عملی حوالے قرآن و حدیث میں واضح ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ ’’ایک انسان کی جان بچانا ساری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے جبکہ ایک انسان کی جان لینا ساری انسانیت کی جان لینے کے برابر ہے‘‘۔ جبکہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’’بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کو نفع پہنچائے‘‘۔ والدین ، خیش و اقرباء ، ہمسایوں ، بیواؤں، یتیموں ، مسکینوں، گداگروں ، لاوارثوں ، معذوروں اور آفت زدگان کے حقوق کو عملی طور پر بجا لانے، اْن کی مدد کرنے اور اْن کی آہوں اور سسکیوں کو تبسم میں بدلنے کی بھر پور تعلیمات اسلام میں احسن طریقے سے واضح کی گئی ہیں،۔خیرات ، زکوٰۃ، خمس، صدقات، فطرانہ ، وقف، قرضہ حسنہ اور امداد وغیرہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

بسا اوقات کچھ شخصیات کے متعلق حیرت ہی نہیں ہوتی بلکہ ایسے لوگوں کے کاموں کی وجہ سے اپنے انسان ہونے کا فخر اور کچھ نیک انسانوں سے متعارف ہونے کی قلبی راحت و خوشی بھی ہوتی ہے کہ آج کے اس مادیت پرستی کے دور میں بھی مخلوق خدا کی صحت جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی کے نام پر بازاری معیشت کی منڈیوں کے ہیلتھ پلازوں میں کھربوں کی سالانہ کمائی کے اس دور میں ڈاکٹر عبد النعیم نوشادجیسے نیک دل انسانیت نواز اور غریب پرور شخص موجود ہے جو اپنے ہسپتال کے پلیٹ فارم سے اپنے غریب ہم وطنوں کی مثالی طبی خدمت کا بے لوث فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور اس کی مفت طبی خدمات اور بہت ارزاں جدید ترین علاج سے سالانہ ہزاروں ضرورت مند مریض استفادہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبد النعیم نوشاد ٹرسٹ کے چیئر پرسن ہیں اوریو ایس اے میں Advanced Pain Centers کی Chain کے CEO ہیں۔

ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے ہمارے وسائل محدود ہیں اور غربت ، پسماندگی اور بعض دیگر سماجی اور معاشی وجوہات کے پیشِ نظر علاج معالجے کی صورت حال بہت پیچیدہ ہے، بے شمار لوگ اس لیے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا اپنی زندگی معذوری کے عالم میں گزار دیتے ہیں کیونکہ غربت اور طویل فاصلوں کی وجہ سے علاج سے محروم رہتے ہیں۔ اس طرح کی صورتِ حال میں طبیبوں کی خد ا ترسی اور رفاحی اداروں کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہے، جہاں ایسے فلاحی ادارے موجود ہیں جو انسانیت کی خدمت عین ایمان سمجھتے ہیں ان ہی اداروں میں ایک نام’’ زیب النساء ٹرسٹ ہسپتال‘‘ کا ہے، نارووال( ساگر پور) میں واقع یہ ہسپتال وہاں کی غریب عوام کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جب میں نے اس ہسپتال کے حوالے سے سُنا تو میرا خیال تھا کہ اس کا معیار کسی سرکاری ہسپتال سے زیادہ نہیں ہوگالیکن جب بذاتِ خود ہسپتال کا دورہ کیا تو مزید حیرانگی ہوئی کہ نہ صرف ہسپتال میں صفائی و ستھرائی کا انتظام شہر کے کسی بڑے پرائیویٹ اسپتال سے کم نہیں بلکہ وہاں کی لیبارٹریز اور دیگر تمام شعبہ جات میں ہر قسم کے طبی معیار کو اعلیٰ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ مزید معلومات کرنے پر علم ہوا کہ یہاں کی مشینریز بھی جدید ماڈلز کی ہیں جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج دیتی ہیں۔

یہ سب کچھ نظارہ کرنے کے بعد اور وہاں کے اسٹاف کا انتہائی مناسب رویہ دیکھنے کے بعد یہ احساس شدّت سے ہوا کہ میڈیکل سے متعلق اس قسم کی معیاری اور بارعایت سہولیات ملک کے تمام اضلاع اور ہر شہر میں بھی ہونی چاہیے۔ اِس ہسپتال کی خاص بات یہ بھی تھی کہ یہاں علاج معالجے کی تمام تر سہولیات بالکل مفت ہیں۔

ہسپتال ’’اپنی مدد آپ ‘‘کی ایک نادر مثال ہے۔ اس ادارے کے پروگرام کسی بھی صحت مند معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ زیب النساء ہسپتال غریب افراد کو علاج معالجہ کی مفت سروس فراہم کرتا ہے۔ نارووال(ساگر پور) ایک پسماندہ علاقہ ہے ، ایسے علاقوں میں کوئی پراجیکٹ بالخصوص طبی سہولیات کی فراہمی ایک مشکل کام ہے۔ لیکن بعض انسان حالات سے لڑنے کے لئے اپنے آپ کو انتہائی منظم طریقے سے ذہنی طور پر تیار کر لیتے ہیں اور وہ مستقل مزاجی،تدبر اور ہمت سے اتنا بڑا کام کرجاتے ہیں کہ دنیا اْن سے سبق حاصل کرتی ہے۔بے شک ایسے ہی لوگ دنیا میں بہتر حالات کی راہ کا تعین کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالنعیم نوشاد نے فلاحِ انسانیت کو مقدم جانا اور فیصلہ کیا کہ انسانیت کی فلاح کے لئے وہ نارووال(ساگر پور) میں ایک ایسا ہسپتال قائم کریں گے جہا ں مفت اور اچھا علاج کیا جاسکے یہ کام بہت مشکل تھا تاہم جن کے ارادے مضبوط ہوں وہ مشکلوں سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔

زیب النساء ٹرسٹ ہسپتال کے ڈائریکٹر ذوہیب احمد نے ہمیں بتایا کہ ایڈوانسڈ ہیلتھ کیئر ٹرسٹ نے اللہ کے فضل و کرم سے نارووال کے پسماندہ دیہات میں غریب اور مستحق مریضوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ٹرسٹ کے چیئرپرسن ڈاکٹر عبدالنعیم نوشاداور اہلیہ وجیہہ نوشاد نے تقریباً 5 کروڑ کے قریب اخراجات خود برداشت کئے۔ عرصہ چار سال کے دوران زیب النساء ہسپتال ٹرسٹ نے مارچ 2013ء سے مارچ 2017ء تک دو لاکھ پچاس ہزار مریضوں کا چیک اپ کیا ہے ۔ڈھائی لاکھ مریضوں کو مفت میڈیسن اور علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی ہیں ہے ہسپتال سے تین کروڑ 20 لاکھ روپے کی مفت میڈیسن مریضوں کو دی گئی ہے۔ عرصہ چار سال کے دوران کل اخراجات پانچ کروڑ نوے لاکھ خرچ ہوئے ہیں۔ ہسپتال کو ہر سال ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں۔ ابھی تک ہسپتال آؤٹ ڈور صبح 8-00 بجے سے شام 4-00 بجے تک غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیب النساء ہسپتال نارووال کے پس ماندہ دیہات کے غریب اور مستحقین لوگوں کو فری علاج معالجہ کے مقصد کے تحت کھولا گیا۔ یہاں مفت اور معیاری میڈیسن کی فراہم کی جاتی ہیں،ماہر اور تربیت یافتہ سٹاف موجود ہے۔جدید اور معیاری تشخیص کے لئے جدید مشینوں سے آراستہ لیب قائم کی گئی ہے۔الٹرا ساؤنڈ اور ای سی جی کے علاوہ جدید آلات سے مزین ایمرجنسی سہولت اور ایمبولینس کی سہولت بھی موجود ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ کوئی کام شروع کیا جائے تو اللہ کی مدد بھی آتی ہے اور بظاہر ناممکن نظر آنے والے کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں اوربالکل ایسا ہی ہوا ساگر پور کے شہریوں کو زیب النساء ہسپتال کی شکل میں قدرت نے ایک بہترین تحفہ دیا ۔ خوبصورت اور صاف ستھرا اور مستورات کے لئے باپردہ ماحول ہے۔ یہاں امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں ہے۔امیر اور غریب کے لئے چیک اپ کی یکساں سہولت ہے۔ یہ ادارہ سفارش اور کرپشن سے پاک ہے، ہم انسانیت کی خدمت لسانی، مذہبی اور سیاسی تعصب سے بالا تر ہو کر کرتے ہیں۔

مستقبل کے منصوبہ جات کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے مکمل منصوبہ کر لی ہے اس میں24 گھنٹے ایمرجنسی اور فری علاج معالجہ کی سہولت، جدید سہولت سے مزین زچہ و بچہ سنٹر کا قیام، ڈیجیٹل X-Ray فراہمی، میڈیکل سٹاف کے لئے رہائشی مکانات کی تعمیر، جدید مشینری اور ماہر سٹاف کے ساتھ آپریشن تھیٹر کا انتظام ہماری اولین ترجیح ہیں۔

زیب النساء ہسپتال کے گرد و نواح میں 25 کلومیٹر تک پس ماندہ دیہات ہیں جہاں زچہ و بچہ کو ڈلیوری کی ناقص سہولیات اور غربت کی وجہ سے معیاری دوائیوں کی کمی کا سامنا ہے ۔غربت اور محدود آمدن کے ذرائع کی وجہ سے دوران ڈلیوری ہر سال 20,000 مائیں مر جاتی ہیں ۔ یہ شرح دنیا میں بدترین میں ہے اور بچوں کی شرح اموات دنیا میں صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ ان بدتر حالات کو سامنے رکھتے ہوئے 24 گھنٹے کے لئے جدید زچہ و بچہ کی سہولت کا قیام زیب النساء ہسپتال کے مستقل کے منصوبے ہیں۔ تو میں مخیر حضرات سے اپیل کروں گا کہ اس سال زکوٰۃ دیتے وقت زیب النساء ہسپتال کو یاد رکھیں کیوں کہ زیب النساء ہسپتال میں دی ہوئی آپ کی رقم درست ا ور صحیح جگہ استعمال ہو کر صدقہ جاریہ بنے گی۔ زیب النساء ہسپتال کرپشن اور سیاست سے پاک ادارہ ہے۔ آپ اپنے ایک ایک پیسے کا آڈٹ چیک کر سکتے ہیں۔مستقبل کے منصوبہ جات کے لئے 5 کروڑ روپے درکار ہیں۔

ڈاکٹر عبدالنعیم نوشاد ہسپتال کے ماحول کو آئے روز جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کے علاوہ علاج کے دیگر بہت سے عمومی اور مخصوص شعبوں تک جدید انداز میں رسائی حاصل کر کے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔زیب النساء ہسپتال دیگر اداروں کے لیے ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتا ہے ۔یقیناًزیب النساء ہسپتال نارووال کے شہریوں کے لئے ڈاکٹر عبدالنعیم نوشادکی جانب سے بہترین تحفہ ہے تا ہم ان کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے کیونکہ شہر کی آبادی کے لحاظ سے ایسے مزید ہسپتال قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے شہریوں کا کسی بھی قسم کا تعاون جیسے زکوٰۃ،فطرہ اور دیگر عطیات کی صورت میں حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے بلکہ شہری اپنے استعمال کی چیزوں کے ذریعے بھی مدد کر سکتے ہیں جیسے اپنے پرانے اے سی،کمپیوٹر،گاڑی وغیرہ دے سکتے ہیں۔کیونکہ ایسے ادارے ہی صحیح معنوں میں انسانیت کی فلاح کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں یقیناًاللہ بھی ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے بلکہ قرآن کے فرمان کے مطابق ’’ نیک کام میں ایک دوسرے کے مددگار بن جایا کرو‘‘۔

اس موضوع پر لکھنے کا واحد مقصد صرف یہی ہے کہ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والے افراد اپنے علاج و معالجے سمیت کسی بھی قسم کے ٹیسٹ وغیرہ کے لیے یہاں سے رجوع کریں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر ادارے جو واقعی خدمتِ خلق کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کے تجربات سے مستفیض ہوں اور جو صاحبِ حیثیت عوام کی مدد حقیقی معنوں میں کرنا چاہتے ہوں وہ اس ادارے کی اس طرح مدد کریں کہ خدمت کا یہ نیٹ ورک پورے ملک میں جگہ جگہ پھیل جائے۔

ہمارے ہاں ایک افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مختلف فلاحی ادارے امداد تو عوام کے تمام طبقات سے وصول کرلیتے ہیں مگرجب خستہ حال عوام کو اس کا فائدہ پہنچانا ہوتا ہے تو وہ اس طریقے سے امداد کرتے ہیں کہ اْن کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ امداد صرف نچلے طبقے تک ہی محدود رہتی ہے، ایسا کوئی ادارہ نظر نہیں آتا جو سفید پوش افراد کابھرم رکھنے کے لیے عملی کوشش کررہا ہو۔ مذکورہ بالا ادارے کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہاں سفید پوش/ متوسط طبقہ باعزت طریقے سے میڈیکل کی انتہائی رعایت سے فیض یاب ہورہا ہے۔

وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی غربت اور پھیلتے ہوئے عوامی مسائل کے پیش نظر خدمت خلق کے جذبات سے سر شار ایسے فلاحی اداروں اور ان سے تعاون کرنے والے نیک دل انسان دوست اور غریب پرور لوگوں کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہے۔اور حکومتی محکموں اور اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور غفلت کے پیشِ ڈاکٹر عبدالنعیم نوشاد ، زیب النساء ہسپتال جیسے ادروں اورلوگوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے جو خدمتِ خلق کو دنیا کی سب سے بڑی عبادت سمجھتے ہی نہیں بلکہ عملی طور پر ثابت بھی کر رہے ہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...