تھر میں 660 میگا واٹ توانائی کا منصوبہ مقررہ وقت سے قبل ہی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ، شمس الدین شیخ

تھر میں 660 میگا واٹ توانائی کا منصوبہ مقررہ وقت سے قبل ہی پایہ تکمیل تک پہنچ ...

کراچی (اے پی پی)سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سربراہ شمس الدین شیخ نے کہا ہے کہ تھر بلاک II میں کوئلے کی کان کنی(کول مائننگ) اور 660 میگا واٹ توانائی کا منصوبہ مقررہ وقت سے قبل ہی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا اور یہ تین جون 2019ء سے کام شروع کردے گا۔بدھ کی شام مٹھی میں افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کی جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے گورانو ریزروائر کو تکنیکی اور ماحولیاتی بنیادوں پر بالکل درست قرار دیے جانے کے باوجود ہم غلط اطلاعات کے سبب احتجاج کرنے والوں کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

۔انہوں نے کول مائننگ منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اپریل 2016 میں financial closure کے بعد ہم نے 15 ماہ میں کان کنی کا کام 40 فیصد اور توانائی کے منصوبے پر 33 فیصد تک کام مکمل کر لیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کی تکمیل کیلئے 42 ماہ کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن تیز رفتاری سے کام کی بدولت ہم 38 ماہ میں اس کو مکمل کر لیں گے۔شمس الدین شیخ نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ کوئلے کے منصوبوں سے سب سے پہلے فائدہ ملک کے بقیہ علاقوں کی نسبت تھر کے مقامی افراد کو پہنچنا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے اس علاقے کے عوام کی تعلیم، صحت، ذریعہ معاش اور پینے کے پانی کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں اور ان اسکیموں سے مقامی افراد کو فائدہ پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ضلع تھرپارکر سے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر مہیش ملانی نے کہا کہ تھر کول بلاک II منصوبہ پاکستان میں توانائی کے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے اور یہ تھر کے باسیوں کیلئے ایک نعمت ہے۔ڈاکٹر مہیش ملانی نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت اپنے منتخب نمائندوں کی مدد سے پہلے ہی اس بات کی یقین دہانی کرا چکی ہے کہ گورانو ریزروائر کے اطراف میں رہنے والے مقامی افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ حکومت گورانو میں رہنے والوں کو پیکج دینے پر غور کر رہی ہے جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔گورانو ریزروائر کے بارے میں تکنیکی سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی(ممکن العمل مطالعہ) بہترین ساکھ کی حامل عالمی کمپنیوں نے تیار کی ہے اور یہ کسی کے بھی حق میں نہیں کہ ان کی رپورٹس کو چیلنج کیا جائے کیونکہ اسے تمام پہلوؤں پر تفصیلی ریسرچ کے بعد انتہائی محتاط طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے پھیلائی گئی افواہوں اور غلط معلومات کے برعکس یہ منصوبہ تھر اور تھر کے عوام کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچائے گا جس سے علاقے کا تشخص مکمل طور پر بدل جائے گا اور یہ غربت زدہ کے بجائے ایک خوشحال علاقہ بن جائے گا۔

مزید : کامرس


loading...