وفاقی بجٹ میں معمولی نوعیت کی ٹیکس ترامیم کی گئیں:ماہرین

وفاقی بجٹ میں معمولی نوعیت کی ٹیکس ترامیم کی گئیں:ماہرین

فیصل آباد (بیورورپورٹ) ٹیکس پروفیشنلز اور بزنس کمیونٹی نے وفاقی بجٹ 2017-18 کو ترقی کی سمت مثبت قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں معمولی نوعیت کی ٹیکس ترامیم کی گئی ہیں تا کہ کساد بازاری اور قرض کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بات انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے سابق صدر شوکت امین شاہ نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے منعقد کئے جانے والے پوسٹ بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس سیمینار میں سینئر نائب صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں، نائب صدر انجینئر احمد حسن، چیئرمین سی پی ڈی کمیٹی حامد مسعود ایف سی اے اور آئی سی اے پی کے میاں محمد رمضان کے علاوہ ٹیکس پروفیشنلز اور تاجروں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ شوکت امین شاہ نے کہا کہ بجٹ کے 3 اہم سٹیک ہولڈرز ہیں جن میں چیمبرز ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیں اور ٹیکس پالیسی کی تشکیل میں ان تینوں کی شرکت ضروری ہے ۔ انہوں نے ملکی برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ برآمدات پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں ہونا چاہیئے اور اس سلسلہ میں حکومت کو بھی اپنے وعدوں کے مطابق حقیقی معنوں میں برآمدات کو زیرو ریٹ کرنا ہوگا۔ ٹیکس قوانین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس سسٹم میں بہت سی خرابیاں اور پیچیدگیاں ہیں جن کو دور کرنے کیلئے ٹیکس قوانین کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ انکم ٹیکس آرڈی نینس 2001 کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس میں اب تک ہونے والی ترامیم پر روشنی ڈالی اور ان کے کاروبارپر پڑنے والے منفی اور مثبت اثرات کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے حالیہ وفاقی بجٹ میں ترقی اور ٹیکس کی شرح کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ اس کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔

انہوں نے نان پرافٹ آرگنائزیشنز کے فنڈز پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اس پر زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ٹیکس ہونا چاہیئے۔ ریسور س موبلائزیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہر کاروبار کرنے والے کیلئے متعلقہ چیمبر کی رکنیت کو لازمی قرار دیا جائے اور کسی بھی نان رجسٹرڈ شخص کو کسی بھی قسم کا کاروبارکرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔

مزید : کامرس


loading...