پنجاب اسمبلی ، پی ٹی آئی کیخلاف قابل اعتراض الفاظ استعمال کرنے پر شدید احتجاج ، اپوزیشن کا بائیکاٹ

پنجاب اسمبلی ، پی ٹی آئی کیخلاف قابل اعتراض الفاظ استعمال کرنے پر شدید ...

لاہور(سٹی رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے ایوان میں حکومتی رکن کے پی ٹی آئی کے خلاف قابل اعتراض الفاظ استعمال کرنے پر شدید احتجاج کیا گیا، اپوزیشن نے کہا ہم ماؤں بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں خواتین کے خلاف ریمارکس برداشت نہیں کریں گے، مذکور ہ رکن کے معافی مانگنے تک ایوان کی کاروائی کا حصہ نہیں بنیں گے، اپوزیشن نے باہر جاتے ہوئے کورم کی نشاندہی بھی کردی ،آج وزیر خزانہ ضمنی بجٹ پر بحث کو سمیٹیں گی اور اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گذشتہ روز مقررہ وقت سے45منٹ تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں ضمنی بجٹ2016-17ء پر عام بحث کا آغا ز اپوزیشن لیڈر کی بجائے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شعیب صدیقی نے کیا۔ انہوں نے کہا ایک کھرب68ارب68کروڑ19لاکھ روپے کا ضمنی بجٹ در اصل فنانشل مس مینجمنٹ اور بجٹ بنانے والوں کی نا اہلی ہے،ایسی کونسی ایمرجنسی تھی کہ اس قدر ضمنی بجٹ خرچ کرنا پڑا ، اگر محکموں کو ضرورت تھی تو انہوں نے پہلے بجٹ بناتے وقت اپنی ضروریات کا خیال کیوں نہ کیا اور کم بجٹ کیوں رکھا ، اس کا مطلب ہے کہ محکمے نا اہل ہیں اپنے اخراجات کا تخمینہ بھی صحیح نہیں لگا سکتے۔انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کے لئے22ارب رکھے گئے اور خرچ45ارب کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ عران نذیر کے لئے 55لاکھ روپے کی کونسی گاڑی لی گئی اور کیوں ؟۔ بحث میں میاں رفیق،ڈاکٹر نوشین حامد، وحید گل،نبیلہ حاکم علی،آصف محمود رانا جمیل اور اصغر منڈ سمیت دیگر نے بھی حصہ لیا۔ وحید گل نے اپنے تقریر میں کہا کہ پنجاب کی ترقی کے لئے اپوزیشن ممبران کو بھی ترقیاتی فنڈز جاری کئے جائیں تاکہ وہ بھی پنجاب کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔رانا جمیل نے اپنی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے خلاف سخت الفاظ کااستعمال کیاور کہا کہ یہ خود کومہذب کہلانے والے اپنے جلسوں اور دھرنوں میں خواتین کے ڈانس کراتے ہیں،انہیں شرم آنی چاہیے۔ بجٹ اجلاس میں سیٹیاں بجاتے ہیں اور قائد ایوان پر بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر پھینکتے ہیں۔ جس پر اپوزیشن کی طرف سے نعرے بازی شروع ہو گئی، سپیکر نے وہ الفاظ جو رانا جمیل نے پی ٹی آئی کے بارے میں کہے تھے حذف کرادئے تاہم اپوزیشن لیڈر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ خواتین ہم سب کے لئے قابل احترام ہیں اور ہم سب ماؤں بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں خواتین کے ریمارکس پر رکن اسمبلی معافی مانگیں اس وقت تک ہم ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں،جس کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کرگئی اور ساتھ ہی عارف عباسی نے کورم کی نشاندہی کردی ،پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور کورم پورا ہونے پراجلاس کی کارروائی کو جاری رکھا گیا۔سپیکر نے آج کے اجلاس کے ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس آج ددوپہر2بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔آج وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا ممبران اسمبلی اور میڈیا کے اعزاز میں افطار ڈنر بھی دیں گی۔

پنجاب اسمبلی

مزید : علاقائی


loading...