جیف سیشنز ٹرمپ کے وفادار بن گئے ، روسی کنکشن کی تفصیلات بتانے سے گریز

جیف سیشنز ٹرمپ کے وفادار بن گئے ، روسی کنکشن کی تفصیلات بتانے سے گریز

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کہا ہے انکی روسی یا کسی غیر ملکی حکام سے امریکی الیکشن یا انتخابی مہم کے حوالے سے کبھی کوئی بات جیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے علم میں ہے کہ ٹرمپ مہم سے منسلک کسی فرد نے ایسی بات چیت کی ہو۔ انہوں نے یہ وضاحت سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اپنا تحریری شہادتی بیان پیش کرتے ہوئے کی۔قبل ازیں صدر ٹرمپ کے ہاتھوں برطرف ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے اپنی شہادت میں ٹرمپ کی صدارتی ٹیم کے مبینہ روسی کنکشن کے بارے میں ہونیوالی اپنی تفتیش پر مبنی اپنا موقف پیش کرتے ہوئے الزام لگایا گیا تھا کہ روسی مداخلت کے تو ٹھوس شواہد ہیں لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے انتخابی نتائج کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا ہو۔ سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین حکمران ری پبلکن پارٹی کے رچرڈ بر اور وائس چیئرمین ڈیمو کریٹک پارٹی کے مارک وانر ہیں جن کے علاوہ کمیٹی سات ری پبلکن اور چھ ڈیمو کریٹک ارکان ہیں لیکن ان تمام نے پارٹی وابستگی سے بلند ہو کر معاملے کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی۔ جیف سیشنز طویل عرصہ تک سینیٹر رہے ہیں جو بڑے گھاگ سیاستدان رہے ہیں اور اب صدر ٹرمپ کے قریبی وفادار لوگوں میں شامل ہیں اور انکی انتخابی ٹیم کے ایک اہم مشیر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ان سے توقع تھی کہ صدر ٹرمپ اور انکی انتخابی ٹیم کو حتی الامکان بچانے کی کوشش کرینگے اور وہی ہوا کہ جب ان پر کمیٹی کے چھبتے ہوئے سوالات کے ذریعے دباؤ پڑا تو انہوں نے اپنے پروں پر پانی نہ پڑنے دیا ۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے جیمز کومی کی برطرفی کے حالات معلوم کرنیکی انہوں نے کمیٹی کے ارکان کی بارہا کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ جیف سیشنز نے اپنے اوپر عائد الزامات کو ’’ہولناک اور قابل نفر ت جھوٹ‘‘ قرار دیا۔ بطور سینیٹر اپنے طویل عرصے کے تجربے کی بناء پر انہیں اچھی طرح معلوم ہے سوالات کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے، جہاں جہا ں ان کی پکڑ ہو سکتی تھی وہ یہ حوالہ دے دیتے تھے وہ اپنے سرکاری عہد کے ضابطوں کے مطابق صدر ٹرمپ یا انتظامیہ کے اعلیٰ ارکان سے نجی و خفیہ بات چیت کی تفصیل بتانے سے قاصر ہیں۔ جیمز کومی کی برطرفی کی حمایت میں انہوں نے جوکردار ادا کیا تھا اسکا بھی دفاع کیا حالانکہ قبل ازیں محکمے کے سربراہ کے طور پر انکی جیمز کومی کے بارے میں ہمیشہ مثبت رائے رہی تھی۔ یاد رہے جیف سیشنز نے اٹارنی جنر ل کے طور پر نامزدگی کے وقت اپنی شہادت میں روسی حکام سے ملاقات کا ذکر نہیں کیا تھا اور بعد میں روسی سفیر سے ملاقات کو تسلیم کیا تھا اور اس تنازعے کی بنا ء پر انہوں نے اپنے محکمے کی طرف سے روسی کنکشن کے بارے میں تفتیش کے معاملات سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ کمیٹی میں صفائی پیش کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ’’میں نے تفتیش سے علیحدگی اختیار کی تھی لیکن اپنے وقار کی حفاظت کیلئے الزامات کا جواب دینے سے تو علیحدگی نہیں اختیار کی تھی ،اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کہ جیمز کومی نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ روس کنکشن سے اپنی علیحدگی کے بعد ان کے رویئے سے مسائل پیدا ہو گئے تھے ان کا جواب تھا میرے بارے میں اس طرح کے تبصرے مجھے پسند نہیں ہیں۔ خاص طور پر ڈیمو کریٹک ارکان نے اٹارنی جنرل کی خوب کھچائی کی اور وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ سینیٹر مارٹن ہنرچ نے زچ ہو کر کہا ’’آپ سوال کا جواب نہیں دے رہے، آپ تفتیش میں رکاوٹ ڈال رہے ہو۔‘‘ سینیٹ ارکان نے بعد میں میڈیا کو بتایا ممکن ہے اٹا ر نی جنرل کو کانگریس کی توہین کے الزام میں دوبارہ بلایا جائے کیونکہ ابھی تک وہ تفصیلات بیان کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

جیف سیشنز

مزید : علاقائی


loading...