اگلے وقتوں کا انسان۔۔۔ رانا نذر الرحمن۔۔۔!

اگلے وقتوں کا انسان۔۔۔ رانا نذر الرحمن۔۔۔!
 اگلے وقتوں کا انسان۔۔۔ رانا نذر الرحمن۔۔۔!

  

گزشتہ رات قیام رمضان کے بعد حسبِ عادت پڑھنے پڑھانے میں مشغول رہا، قریباً سوا بارہ بجے، کمرے میں آیا، فون دیکھا تو نصیر الحق ہاشمی صاحب کی کال آئی ہوئی تھی، رات گئے اُن کی کال کا مطلب تھا، کوئی اہم بات یا انہونی ہو گئی ہے،دھڑکتے دِل کے ساتھ رابطہ کیا تو پتہ چلا،’’رانا نذر الرحمن ، اپنے خالقِ حقیقی کے حکم پر لبیک کہہ چکے ہیں‘‘بے ساختہ زبان سے کلمہ ترجیع ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ نکلا اور ذہن اُن کے بارے میں سوچتا دور تک چلا گیا، وہ ایک عظیم اور اپنی وضع کے انوکھے انسان تھے۔ ہر حال میں ’’حق‘‘ کی بات کرنے والے!

وہ حقیقتاً اِس دور کے انسان نہ تھے، وہ پہلے وقتوں کے انسان تھے، جب سچ کہنا اور بلا خوف لومۃ لائم کہنا انسانی شیوہ تھا، جب سچائی، ایک صفتِ حسنہ تھی اور جرأتِ اظہار ایک مردانہ وطیرہ تھا۔ آج کے ’’رنگین دور‘‘ میں تو دوغلا پن نہ صرف عام، بلکہ زندگی (اور وہ بھی کامیاب زندگی) کا نسخ�ۂ کیمیا قرار پایا ہے۔۔۔

چاپلوسی، بناوٹ اور منافقت کے اس دور میں رانا نذر الرحمن ایک کھرا اور بہادر انسان تھا جو جس بات کو صحیح جانتا، صحیح اور حق سمجھتا، اس کو برملا کہہ گزرتا تھا، اس کو کسی کی پیشانی پر پڑنے والے بَل اور بگڑتے تیوروں کی چنداں پروا نہ ہوتی تھی۔ سچ پوچھیں تو وہ تھا ہی ’’بے پروا‘‘ اور آپ جانتے ہیں،’’بے پروا‘‘ کون ہوتا ہے، ’’بے پروا‘‘ وہ ہوتا ہے جس کو زمانے کی کوئی تلوار کلم�ۂ حق کہنے سے روک نہیں سکتی، نہ اس کے تعلقِ حق کو کاٹ سکتی ہے۔

رانا نذر الرحمن کتابوں میں لکھے جانے کے لائق انسان تھا، جو ہمارے عام اور پراگندہ ماحول میں زندگی گزارتا رہا، اس نے ایک بھرپور زندگی گزاری، بے شمار لوگوں سے تعلقات بنے، بے شمار لوگوں سے کاروبار کیا، رشتہ داریاں بھی قائم ہوئیں، سماجی سطح پر مثالی کردار نبھایا، سیاسی تاریخ میں جرأت و ہمت کی داستانیں رقم کیں، مگر اپنی جرأت گفتار اور سچ بیانی کے باعث، مجمع کثیر کو ساتھ نہ رکھ پائے۔ وہ اپنے تعلق اور رشتہ کی نزاکت دیکھ کر چُپ رہ جانے والے بالکل نہ تھے، جو سچ ہوتا کہہ گزرتے، خواہ کسی کو بھی اچھا نہ لگے،کسی میں کوئی برائی دیکھتے تو اس کے مُنہ پر برملا کہہ دیتے، خواہ تعلق اور رشتہ باقی نہ رہے۔

وہ مومنانہ صفت کے مطابق، آئینہ کا کردار ادا کرتے رہے تاکہ اُن کے ملنے جلنے والے، اپنے چہرے کو صاف اور کردار کو مصفا کر لیں۔ کئی تھے جو اُن کی بات سُن کر مسکرا دیتے اور کئی تھے جو جھینپ کر اپنی راہ لیتے، مگر اُن کی اس ’’سچ بیانی‘‘ اور ’’برملا کہہ دینے‘‘ کو بہرحال سراہے بغیر نہ رہتے تھے۔اُ ن کے جنازے میں موسم کی شدت اور گرمی کی حدت کے باوجود کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت، رانا نذر الرحمن کے ’’مثالی کردار‘‘ کی گواہی ہی تو تھی۔

وہ حقیقت میں ’’صاحبِ عزیمت‘‘ تھے، آج کے دور کی نوجوان نسل نے جس سیاست کا مشاہدہ کیا ہے اس میں ’’نظریاتی و اصولی سیاست‘‘ کا نام تک نہیں، اس لئے نسلِ نو کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ رانا نذر الرحمن کس ’’مردِ درویش‘‘ اور ’’عزم و ہمت والے صاحبِ استقلال‘‘ کا نام تھا۔

ایک دور تھا جب لاہور میں رانا نذر الرحمن کا نام گونجتا تھا اور شاید ہی کوئی جلسہ و جلوس ہو جہاں رانا نذر الرحمن کے نعرے اور آوازے نہ گونجتے ہوں۔ دارو رسن تو اُن کے لئے کوئی چیز ہی نہ تھے۔ جبر و اکراہ کی انہیں پروا نہ تھی، وہ ہر حال میں اوپر والے سے تعلق رکھنا اور نبھانا چاہتے تھے اور حتی المقدور، ساری زندگی نبھانے میں لگے رہے۔

رانا نذر الرحمن واقعتا خود ساز(سیلف میڈ) انسان تھے، وہ لاہور کی اجنبی سرزمین پر صرف دس روپے لے کر آئے تھے اور پھر لاہور جیسے شہر سے اپنا آپ منوا کر دکھا دیا۔ہر حال میں تحرک و حرکت اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی جستنجو میں وہ نام بھی کما گئے اور شان بھی چھوڑ گئے۔اکثر مجھے روک کر کہتے،’’مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی خطبہ دیتے ہوئے اپنے بازو پر ہاتھ مار کر کہا کرتے تھے : مَیں اپنے بازو، اپنی محنت کی کمائی کھاتا ہوں کسی سے ڈرنے والا نہیں‘‘۔

رانا نذر الرحمن اکثر ہمارے دفتر(روزنامہ پاکستان) تشریف لاتے تھے وہ ہمارے ادارے سے خاص تعلق رکھتے تھے، جناب مجیب الرحمن شامی سے اُن کا گہرا قلبی رشتہ تھا۔ یہ رشتہ پرانا اور مشکلات کے دور میں بھی باقی رہا اور آسائش و سہولت میں بھی نبھتا رہا۔رانا صاحب، دفتر آتے تو ایک رونق سی لگ جاتی، وہ اپنی عادت کے مطابق ’’حق بیانی‘‘ اور نصیحت و نصائح میں لگے رہتے،جو دِل میں ہوتا کہہ گزرتے، بعض اوقات حضرت شامی کے سامنے بھی اپنے دِل کی بات برملا کہہ دیتے۔ دفتر کے تمام لوگوں سے بہ تکلفانہ ملتے،تھوڑا تھوڑا وقت( جہاں ضرورت سمجھتے) بیٹھتے، مگر اصل نشست حضرت شامی اور جناب قدرت اللہ چودھری کے پاس ہی جمتی۔۔۔

انہوں نے اپنی خود نوشت ’’صبح کرنا شام کا۔۔۔‘‘ روزنامہ پاکستان کے میگزین ’’زندگی‘‘ میں لکھنا شروع کی۔روزنامہ’’پاکستان‘‘ میں کبھی کبھار کالم بھی لکھتے رہے۔ اُن کی خود نوشت ان کی زندگی،اُن کی ہمت و جرأت اور اُن کی مسلسل محنت کی عکاسی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اُن کے نظریات اور اصولوں کو کن کن دریاؤں کا پانی ملا تھا کہ وہ مضبوط، تناور اور ثمر بار ہوئے۔

ان کی بھرپور زندگی میں بے شمار شخصیات کا ساتھ رہا، وہ اُن کا ذکر اُن کے کردار کی روشنی میں کرتے رہتے تھے، اکثر واقعات، اُن کو پوری تفصیل کے ساتھ یاد رہتے تھے، وہ لاہور کی سیاسی زندگی کے چشم دید گواہ بھی تھے اور ایک متحرک ترین کردار تھی۔ کئی بڑے بڑے نام، اُن کے ہاتھوں میں بلندی تک پہنچے وہ ایک مثال بھی ہیں اور ایک حوالہ بھی۔۔۔ لاہور کی سیاسی تاریخ اُن کی معرکہ آرائیوں کے بغیر ہر گز مکمل نہیں ہو سکتی۔۔۔

رانا نذر الرحمن میرے لئے نہایت قابلِ احترام بزرگ تھے،مَیں نے اُن کے بارے میں پڑھ بھی رکھا تھا اور سُنا بھی بہت کچھ تھا، پھر2001ء سے (روزنامہ پاکستان کے باعث) اُن سے ملاقاتیں بھی رہنے لگیں، وہ اکثر کتب و رسائل اور مختلف دستاویزات سے نوازتے اور رہنمائی بھی فرماتے۔مَیں اُن سے بہت کچھ سیکھ اور سمجھ رہا تھا۔۔۔

وہ مجھ سے معلوم نہیں کیا حُسن ظن رکھتے کہ اکثر دینی حوالے سے پوچھتے اور بتاتے رہتے، ان کی زوجہ محترمہ فوت ہوئیں تو کہلا بھیجا جنازہ تُو نے پڑھانا ہے اور پھر اپنے حوالے سے بھی یہی وصیت فرما دی۔ مَیں نے ایک بار عرض کیا، مَیں نے کبھی جنازہ نہیں پڑھایا اور شاید پڑھا بھی نہ سکوں، تو فرمانے لگے ’’ تم ہی ذمہ دار ہو خود پڑھانا یا جس کو بہتر سمجھو اُس سے پڑھوا لینا‘‘۔مَیں نے حافظ ممتاز حسین جیسے صالح جوان سے کہہ کر جنازہ پڑھانے کی وصیت پوری کر دی۔

جنازہ میں ہر مکتبِ فکر کے لوگ موجود تھے، نوجوانوں سے زیادہ بڑی عمر والے تھے، جو رانا نذر الرحمن کی زندگی کے گواہ تھے، جنہوں نے اُن کی تگ و تاز کا مشاہدہ کیا تھا، وہ ان کے لئے کلمہ خیر ہی کہہ رہے تھے۔ ان کی مثالی زندگی کی تعریف بھی کر رہے تھے۔عزم و ہمت اور جرأت کردار و گفتار کی داد بھی دے رہے تھے اور رمضان المبارک میں اُن کی اپنے رب کے ہاں حاضری پر انہیں خوش نصیب کہہ رہے تھے۔

ان کا جنازہ، ٹیک سوسائٹی کی جامع مسجد میں پڑھا گیا، اکثریت نمازیوں اور روزہ داروں ہی کی تھی اور ہر ایک مثالی زندگی والے رانا نذر الرحمن کی مبارک مہینے میں اس مثالی رخصتی پر سبحان اللہ کا ورد کر رہا تھا اور مَیں سوچ رہا تھا، پہلے وقتوں کا انسان، رانا نذر الرحمن تو دُنیا سے چلا گیا، کیا اس دور میں کوئی اور اس طرح کا ہر حال میں، برملا حق سچ کہنے اور سچ پر ڈٹ جانے والا، اس طرح، ہمیں میسر ہو پائے گا۔۔۔شاید۔۔۔!

کانٹے چھوڑ گئی آندھی

لے گئی اچھے اچھے پھول

مزید :

کالم -