عید کی آمد ، بازاروں میں خریداری کا سلسلہ تیز ، درزیوں نے بکنگ بند کر دی

عید کی آمد ، بازاروں میں خریداری کا سلسلہ تیز ، درزیوں نے بکنگ بند کر دی

  

لاہور(دیبا مرزا سے) عید قریب آتے ہی صوبائی دارالحکومت کے بازاروں کی روایتی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں اور عید کی خریدرای کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے دن کے وقت تو زیادہ رش دیکھنے میں نہیں آتا البتہ افطار کے بعد سے لیکر رات گئے تک بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا جبکہ درزیوں نے اپنی دکانوں پر بکنگ فل ہونے کے نوٹس آوایزاں کردئیے جبکہ خواتین اور بچوں کی کئی کئی روز تک بازاروں کے چکرلگانے کے باوجود تیاریاں مکمل نہیں ہو پارہیں کسی کو اپنے میچنگ جوتے کی پڑی ہے تو کسی کو میچنگ جیولری کی فکر ہے جبکہ بچوں کو بھی اپنی من پسند بالخصوص ٹی وی پر چلنے والے کارٹونوں کے ناموں اور مشابہت والے کپڑے پسند آ رہے ہیں خریدرای کے لئے آنیو الی خواتین نے مہنگائی کی وجہ سے قوت خرید کم ہونے اور مہنگی اشیاء کی شکایت کی اور کہا کہ اس کے باوجود ہم نے عید تو منانی ہے اور خریداری بھی کرنی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ’’ روز نامہ پاکستان‘‘ نے عید خریداری اور عید کی تیاریوں کے حوالے سے شہر کے مختلف بازاروں کا دورہ کیا اور یہاں پر آنے والے لوگوں سے بات چیت کی اس موقع پر خواتین صائمہ‘ اسماء‘ نورین ‘ شمع‘ آسیہ ‘ نغمانہ ‘شازیہ اور دیگر کا کہنا تھا کہ مہنگائی ہر سال بڑھتی چلی جارہی ہے جو اشہاء فرض کریں ہم نے پچھلے سال ایک ہزار کی خریدی تھیں تو آج وہی چیز دو ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے کمائی کرنیو الے مرد حضرات کی اس رفتار سے تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں جس رفتار سے ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے اس وجہ سے ہماری قوت خرید کم ہو کررہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنے وسائل میں رہ کر بچوں اور اپنے لئے کچھ نہ کچھ تو خریدنا ہے کیا کریں ہماری مجبوری ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے بیرون ممالک میں تہواروں کے موقع پر ہر چیز کی قیمتیں آدھی کردی جاتی ہیں پاکستان میں بھی اس فارمولے پر عمل ہونا چاہئے اور ہر شعبے میں آدھی قیمتیں ہونی چاہئے ۔کچھ خواتین کا کہنا تھا کہ ان کے کپڑوں ‘جوتوں اور جولری کی قیمتیں کئی گنا زیادہ کردی گئی ہیں حکومت کواس طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -