کیا سلیم شہزاد نے اپنی تمام تر امید یں ’’وفا پرستوں‘‘ سے وابستہ کر لیں؟

کیا سلیم شہزاد نے اپنی تمام تر امید یں ’’وفا پرستوں‘‘ سے وابستہ کر لیں؟

تجزیہ (نصیر احمد سلیمی) کیا اب سلیم شہزاد کراچی کی سیاست میں کوئی کردار ادا کرپائیں گے؟جو ایم کیو ایم کے قیام 1984ء سے لے کر 1992ء تک وائس چیئرمین رہے اور 1990-1988ء تک اسکے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے وہ 1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد روپوشی کے بعد بیرون ملک نکل جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے دبئی اور دیگر ممالک میں کاروں کی تجارت شروع کی اور لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر کے برطانیہ کی شہریت حاصل کر لی۔ وہ طویل عرصے ایم کیو ایم لندن سکریریٹ میں رابطہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ چند برس قبل الطاف حسین ان سے ناراض ہوئے تو ان کو کچھ الزامات کے تحت رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی سے فارغ کر کے ایم کیو ایم سے نکال دیا تھا۔ جسکے جواب میں انہوں نے بھی اپنے سابقہ قائد پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں الزامات کی ’سان‘ پر رکھا تھا 23 اگست 2016ء کو ایم کیو ایم کی پارلیمانی پارٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں الطاف حسین کی پاکستان دشمن تقریر اور پاکستان مخالف نعروں سے اظہار لا تعلقی کر کے لندن سے اپنا تنظیمی رابطہ ختم کر کے ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے کام کرنے کا فیصلہ کیا تو سلیم شہزاد نے اس فیصلے کی تائید کی تھی مگر اب انہوں نے الطاف حسین کی پاکستان دشمن تقریر اور پاکستان مخالف نعروں کی تاویلات کر کے ان کو بیل آؤٹ کرنے کی باتیں شروع کر دی ہیں چند ماہ قبل وہ 25 سال ملک سے باہر گزار کر بقول ان کے اپنے خلاف درج مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کرنے آئے ہیں، ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیئے گئے تھے۔ اب عدالتوں نے زیر سماعت مقدمات میں ان کو ضمانت پر رہا کیا ہے۔ تو وہ ایم کیو ایم پاک سرزمین پارٹی اور آفاق احمد خان کی قیادت میں ایم کیو ایم کے سارے دھڑوں کے خلاف ان الزامات کی تائید کر رہے ہیں جو ان کے مخالف ایم کیو ایم پر تشدد قتل و غارت گری سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور چائنہ کٹنگ کے حوالہ سے لگائے ہیں، تاہم ان کا تازہ یوٹرن یہ ہے کہ الطاف حسین اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ کہیں الطاف حسین کو ان الزامات سے بیل آؤٹ کرانے کی کوشش اس وجہ سے تو نہیں ہو رہی ہے کہ وہ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کی پارلیمانی پارٹی اور پاک سر زمین کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے والوں کی سرد مہری سے دل برداشتہ ہو کر ان کارکنوں سے امیدیں لگا رہے ہوں جو ’’وفا پرست‘‘ کے نام سے لندن سکریٹریٹ کے حکم پر ایم کیو ایم کے ووٹ بنک والے علاقوں میں وال چاکنگ کے ذریعے الطاف حسین کو یہاں کی سیاست میں آج بھی ’’ان رہنے‘‘ کا تاثر پیدا کرنے کے لئے فعال اور متحرک ہیں۔ الطاف حسین کے ’’وفا پرست‘‘ کارکن سلیم شہزاد کی امیدوں پر پورا اترتے ہیں یا ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی کی طرح مایوس کرتے ہیں۔ اس سے قطع نظر بنیادی سوال یہ ہے وہ الطاف حسین کے ’’وفا پرست‘‘ کارکنوں کو ’’اپنی لانڈری‘‘ میں ڈرائی کلینک کر کے پاک سر زمین پارٹی کی طرح معافی دلوانے کے مشن پر ہیں؟ یا الطاف حسین کی ذات کی پرستش کرنے والوں کی قیادت کے خواہش مند ہیں یا تھرڈ فورس کھڑی کرنے کی خواہش مندوں کی توقعات پورا کرنے کے لئے اپنی ’’لانڈری میں‘‘ ڈرائی کلینگ کرا کے ایم کیو ایم کا ایک اور دھڑا بنائیں گے؟ ایک زمانہ میں جب سلیم شہزاد کو ایم کیو ایم سے باہر کیا گیا تھا تو ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ ان کے رابطے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ ہیں۔

جنرل(ر) پرویز مشرف تھرڈ فورس کے قائد بننے کے لئے اپنے ’’داخلی اور خارجی ‘‘مہربانوں کے ذریعہ ہاتھ پاؤں تو بہت مار چکے ہیں، مگر ان کی امید بر آنے کے کوئی آثار فی الوقت موجود نہیں ہیں۔ ایک اور نقطہ نظر یہ بھی ہے جو قوتیں سندھ کو دیہی شہری کی بنیاد پر تقسیم رکھنے کی خواہش مند ہیں۔ وہ سندھ کے شہری علاقوں میں قومی سیاست کرنے کی دعوے دار جماعتوں کا راستہ روکنے کے لئے نسل اور زبان کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کے ذریعے نت نئے تجربات کرنے سے تائب ہونے کو تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے وقفے وقفے سے ایسے لوگ سامنے لائے جاتے رہیں گے جن کی اپنی حیثیت چاہے صفر جمع سفر سے زیادہ نہ ہو، مگر ’’امیج‘‘ ان کا نجات دہندہ کے طور پر پیش کرایا جاتا ہے۔ بعض میڈیا ہاؤسز نے پہلے جس طرح پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین کو کراچی کا نجات دہندہ آگیاکے روپ میں پیش کیا۔ اب وہی سلیم شہزاد کے ماضی کو یکسر فراموش کرکے سندھ کے شہری علاقوں کے باسیوں کے ساتھ روارکھے جانے والے امتیازی سلوک کے دکھوں کا مداوا کرنے کے غم میں گھلنے والے کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے باسیوں کی محرومیاں دور کرنے کا راستہ ایک ہی ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ نسل اور زبان کی سیاست کی جگہ تحمل برداشت کی قومی سیاست صحیح معنوں میں پروان چڑھ سکے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...