نئی یونیفارم سے اعلیٰ پولیس افسروں نے مفاد حاصل کیا، فورس کا امیج تباہ کر کے رکھ دیا، سول سوسائٹی اور اہلکاروں کی تنقید

نئی یونیفارم سے اعلیٰ پولیس افسروں نے مفاد حاصل کیا، فورس کا امیج تباہ کر کے ...

  

لاہور( لیاقت کھرل) مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت خود پولیس اہلکاروں نے بھی نئی وردی کو پولیس فورس کا مورال کم کرنے، عوام کی نظروں میں گرانے اور پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کی بجائے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دے دیا ہے۔ نئی یونیفارم سے مخصوص اعلیٰ پولیس افسروں نے جہاں اپنا مفاد حاصل کیا وہاں پوری فورس کا امیج تباہ کر کے رکھ دیاہے۔ پرانی کالی وردی محکمہ کی شناخت اور نشانی اور نئی یونیفارم پولیس فورس کا نقصان ہی نقصان ہے۔ بڑے پیمانے پر خورد برد لگتی ہے، مبینہ گھپلے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے۔اس حوالے سے سول سوسائٹی ، مختلف تنظیموں اور مزدور رہنماؤں سمیت پولیس اہلکاروں نے زبردست تنقید اور تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ سول سوسائٹی کے ارکان کہنا ہے کہ نئی وردی سے پولیس فورس کا مورال بڑھنے کی بجائے کم ہوا ہے اور پولیس کلچر میں تبدیلی ہونا ممکن نظر نہیں آئی ہے۔ اس حوالے سے ایپکا کے سیکرٹری جنرل حاجی محمد ارشاد نے کہا ہے کہ پولیس کا پرانا یونیفارم ختم کرنے سے پولیس کا مورال اور امیج ختم ہو کر رہ گیا ہے اور محکمہ کا ایک رعب اور رکھ رکھا ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ نئی یونیفارم لانے میں بعض اعلیٰ پولیس افسروں کے ذاتی مفادات وابستہ ہیں اور بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ پولیس کی پرانی یونیفارم کو بحال کریں۔ ایپکا کے صوبائی رہنما محمد یونس بھٹی نے کہا کہ نئی یونیفارم ایسی دکھائی دیتی ہے جیسے پو لیس اہلکار نہیں بلکہ کسی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کے اہلکار نے پہن رکھی ہوتی ہے۔ لالہ محمد اسلم، چودھری ابوھریرہ اورواسا لیبر الائنس کے صدر چودھری محمد فاروق، پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن لاہور ڈویژن کے صدر محمد ارشد بٹ نے کہا ہے کہ پولیس کلچر کے نام پر یونیفارم تبدیل کر کے اعلیٰ پولیس افسروں نے محکمہ کے ساتھ ایک قسم کا فراڈ کیاہے۔ نئی یونیفارم سے محکمہ کا مورال کم ہوا ہے اور محکمہ کا امیج بری طرح متاثرہواجس پر پوری فورس تحفظات رکھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈسپلن فورس ہے اور اہلکاروں نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ آل پاکستان ٹریڈ یونین کی صدر روبینہ جمیل اور پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل خورشید احمد نے کہا ہے کہ یہ تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے بڑے پیمانے پر کرپشن اور خورد برد کی گئی ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کو نوٹس لینا چاہیے اور اگر واقعی خورد برد پائی جائے تو تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔ ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن لاہور کے چیئرمین واحد کاشمیری نے کہاکہ نئی یونیفارم سے پولیس کلچر تبدیل نہیں ہوسکتا۔ پہلی وردی محکمہ کی شناخت تھی اب اہلکاروں کو باریک سی بنیان پہنا دی گئی ہے۔ پولیس کلچر وردی سے نہیں اچھے اخلاق اور عام آدمی کی تھانہ میں رسائی کو ممکن بنانے سے تبدیل ہوسکتا ہے اس سے تو اہلکار خود اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ اس حوالے سے پولیس اہلکاروں اے ایس آئی تنویر احمد، کانسٹیبل مراد حسین، تقی شاہ ، محمد افضل اور محمد اسلم نے کہا ہے کہ نئی یونیفارم محکمہ کے ساتھ مذاق فورس اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور اہلکاروں کوپولیس افسر کی جگہ سیکیورٹی گارڈ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ کالی وردی محکمہ کی شان اور ایک نشانی تھی اور قیام پاکستان سے لے کر اب تک محکمہ کے افسران اور اہلکاروں نے زیب تن کر رکھی تھی۔ ایسے اقدامات سے پولیس کلچر تبدیل نہیں بلکہ محکمہ کے مخصوص گروپ کو نوازا گیا ہے اور ایک اعلیٰ پولیس افسر نے جاتے ہوئے محکمہ کا مورال اور امیج تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ نئی یونیفارم سے پولیس کا رعب ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ افسران اور اہلکاروں کی پرانی وردی سے جو عزت و احترام عوام کے دلوں میں پایا جاتا تھا اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ وردی زیب تن ہونے سے اہلکار ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی پرائیویٹ سیکیورٹی کے ملازمین ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے وردی کو تبدیل کرنے والے افسران کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور الزام لگایا ہے کہ یہ سب کچھ چند مفاد پرست ٹولے نے ذاتی مفادات کے لئے کیا ہے جو فورس کے لئے نقصان ہی نقصان اور پوری فورس کا ملکی سطح پر ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی امیج متاثر ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ ذاتی نوٹس لے کر پرانی یونیفارم کو ہی بحال کریں۔

مزید :

صفحہ آخر -