اردوسائنس بورڈ کے زیر اہتمام ’’اسلام اورسائنس ‘‘ کے موضوع پرخصوصی علمی مباحثہ

اردوسائنس بورڈ کے زیر اہتمام ’’اسلام اورسائنس ‘‘ کے موضوع پرخصوصی علمی ...

  

لاہور( ایجوکیشن رپورٹر) اردوسائنس بورڈ کے زیر اہتمام ’’اسلام اورسائنس ‘‘ کے موضوع پرخصوصی علمی مباحثے کا انعقادکیاگیا۔معروف سکالر اورسابق وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹرمحمد اکرم چوہدری نے اس موقع پرخصوصی لیکچردیا۔تقریب کی صدارت ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے کی۔ڈائریکٹرجنرل ناصر عباس نیّر نے مباحثہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بورڈ ہر ماہ ایسے مختلف سائنسی،سماجی، فکری اورعلمی موضوعات پرلیکچرزاورمذاکروں کا اہتمام کررہاہے جن کا تعلق بالخصوص پاکستان اورہمارے اپنے سماج سے متعلق ہو۔ ماہِ رمضان میں اسلام اورسائنس کے موضوع کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ مذہب اورسائنس کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام پر گفتگو کی جاسکے۔

۔انھوں نے کہا کہ اسلام اورسائنس میں تضاد اورتصادم نہیں ہے ۔ دونوں بلاشبہ مختلف ہیں۔ مذہب کا تعلق عقائداورایمانیات سے ہے جبکہ سائنس انسانی مشاہداتی علم ہے۔ضروری نہیں کہ دومختلف چیزیں لازماًایک دوسرے کی حریف ہوں۔ اسلام اورسائنس کے درمیان فاصلہ نوآبادیاتی دور کے دوران پیداکیاگیاجب مغربی تہذیب اوراس کی تاریخ پڑھائی جانے لگی۔ڈاکٹرمحمداکرم چوہدری نے قرآن اورسائنس کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ، اس میں آج تک قرآن کے دشمنوں کو بھی کوئی متضاد چیز نہیں ملی۔قرآن میں تقریباًآٹھ سو آیات کا تعلق براہِ راست فطری علوم اورقوانینِ فطرت سے ہے۔ان آیات کو بنیاد ی سائنسی علوم کی سمجھ بوجھ رکھنے والے زیادہ بہتراندازمیں سمجھ سکتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ انگریز دورسے پہلے برصغیر میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں تمام سائنسی مضامین بشمول انجینئرنگ اورمیڈیکل پڑھا ئے جاتے تھے۔ مسلمان عصری،دینی ،سائنسی اوردیگر علوم میں بہت آگے تھے۔انھوں نے اس امرپر افسوس کا اظہارکیا کہ کسی مدرسے میں بھی پورے کا پوراقرآن بطوردرسی کتاب نہیں پڑھایاجاتا۔قرآن کریم کو ہم نے برکت کا ذریعہ توسمجھاہے لیکن اس کو علم کا ذریعہ نہیں سمجھتے حالاں کہ قرآن میں تمام سائنسی علوم کے انکشافات کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے کہا کہ قرآن قیامت تک انسانوں کے لیے ہدایت اورروشنی کاذریعہ ہے۔شعبہ انگریزی پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر شاہ زیب خان نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اورسائنس کے بارے میں پائے جانے والے ابہام اورغلط تصورات کے بارے میں لوگوں میں شعور پیداکرنے کی ضرورت ہے اوراس کے لیے علما اورپڑھے لکھے لوگ اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔معروف شاعرو افسانہ نگارعلی اکبر ناطق، نقادوافسانہ نگار ڈاکٹر غافر شہزاد، ڈاکٹر عامر سعید، ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی،ڈاکٹر شاہدہ دلاور، ڈاکٹرسمیرامختار، ڈاکٹر عمارہ احمد،ارسلان احمد، آغرندیم سحر ، قمر علوی ، آفتاب احمداورطلبا، اساتذہ، بورڈ کے سٹاف اوردیگر افرادنے مباحثہ میں شرکت کی ۔ اس موقع پرافطاری کا انتظام بھی کیاگیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -