جے آئی ٹی کیخلاف مہم سے آگاہ ہیں ،دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے ،سپریم کورٹ

جے آئی ٹی کیخلاف مہم سے آگاہ ہیں ،دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے ،سپریم کورٹ

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک228 ایجنسیاں) پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کی نگرانی کیلئے قائم سپریم کورٹ کے خصوصی بنچنے آبزرویشن دی ہے کہ عدلیہ اور جے آئی ٹی کیخلاف جاری مہم سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے اس معاملہ کو قانون کے مطابق نمٹانے پر یقین رکھتے ہیں ، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ تحقیقات میں جے آئی ٹی کو درپیش رکاوٹوں کے بارے میں اپنا جواب عدالت میں جمع کرائیں عدالت نے حسین نواز کی جانب سے فوٹولیک ہونے اور جے آی ٹی کی تحقیقات کی ویڈیو ریکارڈنگ کیخلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی ہے ۔جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب جمع کرا دیا ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ انکے جواب کو چھوڑیں، آپ اپنا کیس شروع کریں،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ نے رپورٹ دیکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں ابھی میں نے رپورٹ نہیں دیکھی جس پر عدالت نے انہیں رپورٹ کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تو خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے تصویر لیک ہونے کا اعتراف کیا ہے کہ ان کاویڈیوریکارڈنگ اور تصاویر کی لیکیج پر کوئی کنٹرول نہیں اسکے نتائج کیا ہونگے اس سے بھی آگاہ کرونگا ۔جے آئی ٹی اس پوزیشن میں نہیں کہ تصویر لیک ہونے کے معاملے کو کنٹرول کرے، جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران وڈیو ریکارڈنگ نہیں ہونی چاہئے، ویڈیو لیک ھوئی تو اس کے اثرات موجودہ صورتحال سے زیادہ ہوں گے،جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپی اٹارنی جنرل کو فراہم کر دی ہے، تصویر لیک پر جے آئی ٹی کی رپورٹ لیک کرنے کا فیصلہ کرنا اٹارنی جنرل کا کام ھے، خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے تصویر لیک ھونے کا اعتراف کر لیا ہے جے آئی ٹی کا کیمروں اور مانیٹرز پر کوئی کنٹرول نہیں لگتا، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت زبانی تحقیقات ہوسکتی ہیں اور تحقیقات کو بوقت ضرورت تحریر کیا جا سکتا ہے،ہر تحریری بیان کا الگ ریکارڈ بنایا جاتا ہے،قانون میں صرف تحریری بیان کی حد تک اجازت ہے،ویڈیو بیان کو بطور شواہد استعمال نہیں کیا جا سکتا،قانون ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دیتااور دفعہ 161 کے بیان پر دستخط ہونا ضروری نہیں انہوں نے کہاکہ تحقیقات کا طریقہ کار ضابطہ فوجداری میں درج ہے، تحقیاتی ٹیم اپنے طور پر کوئی طریقہ کار نہیں اپنا سکتی،عدالت نے جے آئی ٹی کو ضابطہ فوجداری، نیب اور ایف آئی اے قوانین کے تحت اختیارات دیے تھے، عدالتی فیصلہ کے مطابق جے آئی ٹی ضابطہ فوجداری کی پابند ہے، اعجاز افضل نے کہا کہ دفعہ 161 کا بیان بطور ٹھوس ثبوت تسلیم نہیں ہوتا، ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا جہاں بیانات کا جائزہ لیں، ویڈیو ریکارڈنگ سے بیان کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی، ریکارڈنگ کا مقصد صرف درست متن لینا ہے، ویڈیو ریکارڈنگ سے کوئی حقوق متاثر نہیں ہورہے اور ویڈیو بیان قانون کے مطابق ثابت کرنا ہوتا ہے کیونکہ ویڈیو بیان کوئی ثبوت نہیں ہوتا، خواجہ حارث نے کہا کہ درست ریکارڈ ویڈیو ریکارڈنگ سے پہلے بھی مرتب کیا جاتا تھا، ہم 1889 میں نہیں رہ رہے، ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا کوئی بڑی بات نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ زبردستی کسی سے اقبال جرم نہیں کروایا جا سکتا، ویڈیو ریکارڈنگ میں ایسا ہی کیا جا رہاہے، گواہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بیان دینے کے لیے آزاد ہوتا ہے، اگر بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتا تو ویڈیو کی کیا ضرورت ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ صرف بیان کا درست متن ریکارڈ پر لانا ہی ویڈیو ریکارڈنگ کا مقصد ہے حسین نواز کے وکیل نے کہا کہ ایک کیس میں عدالت نے وکیل کو کہاآپکا نقطہ قانونی نہیں لیکن آپ نے محنت کی اس لیے درخواست منظور کررہے ہیں،جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اس بینچ میں آپکو یہ سہولت نہیں ملے گی، کوئی گواہ تحقیقات کے بعد عدالت میں نیا موقف نہیں اپناسکتااس پر حسین نواز کے وکیل نے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران گواہ پر نفسیاتی دباؤ رہتا ہے، قانون میں ویڈیو ریکارڈنگ کی کوئی گنجائش نہیں، میں ریکارڈنگ کے نفسیاتی پہلو کی نشاندہی کررہا ہوں،جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ ویڈیو بیان ہو یا تحریری، قانون کے مطابق جانچا جاتاہے خواجہ حارث نے کہا کہ گواہان پر بیان تبدیلی کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے، عدالت ویڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لے کہ ریکارڈنگ میں ٹمپرنگ تو نہیں ہوئی، جے آئی ٹی بھی کہتی ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کا عدالت جائزہ لے، اگر ویڈیو ریکارڈنگ میں ٹمپرنگ ہوئی تو اسکے کیا نتائج ہونگے، قانون سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کرونگا ، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کا فیصلہ قانون سازوں نے کرنا ہے، ریکارڈنگ میں ٹمپرنگ بھی ہوسکتی ہے، ویڈیو سے تصویر کا سکرین شاٹ لیک ہوا، کل ویڈیو بھی لیک ہوسکتی ہے، ویڈیو لیک ہوئی تو کون ذمہ دار ہوگا، جے آئی ٹی نے ساری ذمہ داری ایک بندے پر ڈال دی،کیا گارنٹی ہے وزیراعظم کی ویڈیو لیک نہیں ہوگی، وزیر اعظم کی ویڈیو کل سوشل میڈیا پر آگئی تو کون ذمہ دار ہوگا، خواجہ حارث نے کہاکہ جے آئی ٹی اپنی حرکتوں پر خود کیسے جج بن سکتی ہے ، عدالت جے آئی ٹی کو ویڈیو ریکارڈنگ سے روکے، ویڈیو کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتی ہے ، جی آئی ٹی کو اتنی سہولیات کیوں دی جارہی ہیں، تصویرلیک کے لیے کمیشن بنایا جائے، حسین نواز کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت کسی تفتیش کی آڈیو ویڈیوریکارڈنگ کی اجازت نہیں دے سکتی یہ مقننہ کا کام ہے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ لگتا ہے اس معاملہ کو قانونی کم اور سیاسی زیادہ بنایاجارہا ہے یہ اعتراضات ٹرائل کے دوران تو اٹھائے جاسکتے ہیں انکوائری کے دوران نہیں ۔ ایک شخص جو باعزت طریقے سے بیٹھا ہے اس میں بے عزتی کی کیا بات ہے ویڈیوریکارڈنگ آپ کو نقصان کی بجائے تحفظ دے رہی ہے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ ویڈیوریکارڈنگ سے ہونے والے نقصان والی سٹوری سمجھ نہیں آرہی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ ویڈیوریکارڈنگ کا طریقہ جے آئی ٹی نے خود اپنایا عدالت نے اس کا حکم نہیں دیا تھا ۔ا خواجہ حارث نے کہاکہ ہر شہری کا حق ہے کہ وہ اپنا موقف پیش کرے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا آپ نے جے آئی ٹی کی درخواست پڑھی ہوگی، جے آئی ٹی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، جے آئی ٹی کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیں، رکاوٹوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی کے الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں، اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی درخواست پر عدالت کی معاونت کرسکتا ہوں، خواجہ حارث کے دلائل پر آپکا کیا موقف ہے، آپ خواجہ حارث کے ساتھ متفق ہیں،اس پر اٹارنی جنرل نے بھی ویڈیو ریکارڈنگ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت خود قانون میں گنجائش پیدا نہیں کرسکتی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اعتراضات قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہیں، گواہ جھوٹ بولنے کے لیے نفسیاتی سکون چاہتے ہیں،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ تصویر لیک ہونے میں کیا مسئلہ ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تصویر میں ایک شخص عزت کے ساتھ کرسی پر بیٹھا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب عدالت میں ہونے والی گفتگو بھی ریکارڈ ہوتی ہے، کیا آپ اس پر بھی اعتراض کریں اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت میں صرف قانونی گفتگو ہوتی ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے اس پر کہا کہ عدالت میں ویڈیو نہیں تحریری بیان پیش ہوتا ھے،جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ آپ کے ساتھ برا سلوک بھی نہیں ہونے دیتی مجھے یہ صرف تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا لگتا ھے، تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے،اس دوران تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایک متفرق درکواست دائر کی ہے جس میں جے آئی ٹی اور فاضل عدالت کو دھمکیوں کے حوالے سے کچھ دستاویزی ثبوت دیئے گئے ہیں ۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے شعرپڑھا''کیا پوچھتے ہو میرے کاروبار''اندھوں کے شہر میں آئینے بیچتا ہوں''انہوں نے کہاکہ ہم اس مہم سے کو جانتے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس معاملہ کو قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔دھمکیوں سے ہم مرعوب نہیں ہونگے انہوں نے کہاکہ میڈیا کے بعض سینئر صحافی بھی چیزوں کو درست انداز میں پیش نہیں کرتے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نیکہاکہ عدالت تمام چیزوں کو نوٹ کررہی ہے ۔ بعد ازاں عدالت نے ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویر لیک پر فیصلہ محفوظ کرلیااورسماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ دھمکی آمیز بیانات سے مرعوب نہیں ہوں گے کوئی کچھ بھی کہے ہم قانون کے مطابق کام کریں گے ، ریکارڈنگ کا مقصد صرف درست متن لینا ہے، ویڈیو ریکارڈنگ سے کوئی حقوق متاثر نہیں ہورہے،جے آئی ٹی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا عدالتی حکم کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ، رکاوٹوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے،جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی کے الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اعتراضات قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہیں، گواہ جھوٹ بولنے کے لیے نفسیاتی سکون چاہتے ہیں ،

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول


loading...